الیکشن کمیشن کا آرٹی ایس کی ناکامی کی مکمل انکوائری کرانے کا فیصلہ

  الیکشن کمیشن کا آرٹی ایس کی ناکامی کی مکمل انکوائری کرانے کا فیصلہ

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن نے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم(آر ٹی ایس)کی ناکامی پر سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے سسٹم کی ناکامی کی مکمل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔پیر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطا ن راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ چیئرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھار ٹی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور دونوں اداروں کے سینئر افسران شریک ہوئے، اجلاس میں نادرا سے نئے شناختی کارڈ کے حامل افراد کے کوائف کے اجرا اور اس سے متعلقہ ادائیگیوں کو الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 25اور الیکشن کمیشن اور نادرا کے مابین معاہدہ کی روشنی میں دیکھا گیا، نادرا کا اس ضمن میں یہ موقف تھا کہ نادرا نئے شناختی کارڈ کے حامل افراد کے صرف کوائف قانون کی رو سے الیکشن کمیشن کو مہیا نہیں کرتا،بلکہ اس میں تکنیکی طور پر ملوث اپنی خدمات بھی مہیا کرتا ہے، جس میں افرادی قوت بھی شامل ہے، اس کے علاوہ چیئرمین نادرا نے بتایا کہ نادرا ایک خود انحصار ادارہ ہے، جس کو حکومت کی طرف سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوتی،لہٰذا نادرا یہ رقم لینے کا حقدار ہے،جبکہ الیکشن کمیشن کے افسران کی یہ رائے تھی کہ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 25 اور متعلقہ رولز نادرا کو نئے شناختی کارڈ کے حامل افراد کا ڈیٹا الیکشن کمیشن کو مہیا کرنے کا پابند کرتے ہیں۔لہٰذا ان کو اس ضمن میں ادائیگی نہ کی جائے، الیکشن کمیشن نے نادرا اور دفتر کا موقف سننے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس کیس کا فیصلہ اپنی علیحدہ میٹنگ میں کرے گا، اس کے بعد چیئرمین نادرا نے اپنی ٹیم کے ہمراہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات 2018 کے دوران استعمال ہونیوالے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم پر بریفنگ دی، اور انہوں نے اس ضمن میں قانونی، تکنیکی اور انتظامی امور کے علاوہ عملیا تی، ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹریننگ کے دوران پیش آنیوالی مشکلات پر بھی الیکشن کمیشن کو بریف کیا، رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی پر الیکشن کمیشن نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ اس سسٹم کی ناکامی کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ یہ کیوں ناکام ہوا تاکہ اس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔

الیکشن کمیشن

مزید :

صفحہ اول -