احتیاطی تدابیر‘شفٹوں میں تعلیمی ادارے کھولے جائیں:پاکستان فورم

      احتیاطی تدابیر‘شفٹوں میں تعلیمی ادارے کھولے جائیں:پاکستان فورم

  

ملتان (فور م رپورٹ: اعجاز مرتضیٰ) کرونا وائرس کے باعث تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع اور امتحانات کی منسوخی حکومتی دانشمندانہ فیصلہ ہے‘طلبہ کی تعلیم کا بہت حرج ہوگا‘ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے تعلیمی ادارے کھولے جاسکتے ہیں اور امتحانات بھی ہوسکتے(بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

ہیں‘موثر پلاننگ کے ذریعے طلبہ کے کم سے کم تعلیمی نقصان کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار افسران‘ ماہرین تعلیم واساتذہ رہنماؤں نے”کرونا وائرس کی وبا........طلبہ کا تعلیمی نقصان“ کے عنوان سے”روزنامہ پاکستان ٹیلیفونک فورم“ میں کیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ایلمنٹری) طارق حبیب فاروقی نے کہا کہ کرونا وائرس نے پور ی دنیا کو لاک ڈاؤن پر مجبور کر دیاہے‘ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے‘ حکومت کو طلبہ کی مشکلات کا احساس ہے مگر کرونا وائرس کی وبا سے طلبہ کو بچانے کے لئے حکومت نے تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں مزید توسیع اور امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہی بہتر ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم‘ریٹائر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر رانا ولایت علی نے کہا کہ موثر پلاننگ کے ذریعے طلبہ کا تعلیمی نقصان کم سے کم کیاجاسکتا ہے‘ میٹرک کے پیپرز کی مارکنگ ہوسکتی ہے‘ پریکٹیکل امتحانات بھی ہوسکتے ہیں‘ سماجی فاصلے‘سینٹائزر‘ گلوز اور ماسک سمیت تما م احتیاطی تدابیر اختیارکی جاسکتی ہیں۔ پریکٹیکل امتحانات 3سے4شفٹوں میں لئے جاسکتے ہیں۔طلبہ کو ایک دوسرے سے مخصوص فاصلے پر بٹھایاجاسکتا ہے۔اس کے علاوہ میٹرک کے پیپرز کی مارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ایگزامینر ز کو مخصوص فاصلے پر بٹھایا جاسکتا ہے‘ ایگزامینرز اپنے اپنے سکول میں بیٹھ کر بھی پیپر مارکنگ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق سسٹم کے تحت پیپرز ایگزامینرز کے گھروں میں بھی مارکنگ کے لئے بھجوائے جاسکتے ہیں‘احتیاطی تدابیر کے ساتھ بڑے بچوں‘یعنی میٹرک اور اس سے اوپر کلاسز کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بلایا جاسکتا ہے جو سمجھدار ہوتے ہیں‘ تعلیمی اداروں میں کلاسز صبح شام 2شفٹوں میں ہوسکتی ہیں اور طلبہ کو مخصوص فاصلے پربٹھایاجاسکتا ہے‘ اگر حقائق دیکھے جائیں تو طلبہ چھٹیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں‘ ایک دوسرے سے مل رہے ہیں‘ شاپنگ ہورہی ہے‘ سبزی منڈی‘ غلہ منڈی‘ سمیت مارکیٹوں‘ محلوں‘ گلی کوچوں میں سب اکٹھے ہیں‘ تو کیا اس سے نقصان نہیں ہورہا‘ مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ شفٹوں میں تعلیمی ادارے کھولے جاسکتے ہیں‘اس سے طلبہ کو اپنی صحت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی عادت بھی ہوجائے گی۔سینئر سماجی رہنما‘ماہر تعلیم محمد نعیم ارشد ارائیں نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کے مسئلے پر کسی بھی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی‘ اس لئے اس بارے میں بہت احتیاط سے کام لے رہی ہے‘ امتحانات کی منسوخی اور تعلیمی اداروں کی بندش میں مزید توسیع کا فیصلہ اسی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔چیف آرگنائزر ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن پنجاب اور صوبائی سرپرست اعلی ٰ ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب رانا محمد اسلم انجم‘ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن ملتان کے ض لعی صدر رانا محمد دلشاد علی‘ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات ملتان راؤ ساجد مصطفی‘ ضلعی فنانس سیکرٹری ملک غلام عباس اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات ملک محمد یونس خان نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ کرونا وائرس کا مسئلہ گھمبیر ہے لیکن ہمیں اس کے ساتھ بچوں کی تعلیم کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا‘ اس سلسلے میں رزلٹ پر تحفظات ہیں حکومت تمام پرچہ جات کینسل کر رہی ہے. پچھلے رزلٹ پر اگلی کلاس میں پروموشن ہو رہی ہے‘ اس ضمن میں گزارشات ہیں حکومت ایجوکیشن پالیسی بناتے ہوئے اس بات کو بھی دیکھے کہ بہت سے بچے کسی بیماری، صدمے کی وجہ سے نہم اور فرسٹ ائر میں اچھے نمبر نہیں لے پاتے جب کہ اگلے سال بہت زیادہ محنت کر کے کامیابی کو یقینی بناتے ہیں. ایسے طلبہ کا کیرئیر تباہ ہو جائے گا. اب اگر امتحانات منعقد کرنا ممکن نہیں تو ایسا کیا جائے کہ نہم اور فرسٹ ائر کے طلبہ سے پیپر نہ لیے جائیں اور اگلے سال انہیں بچوں کے دہم اور سیکنڈ ائرکے نمبروں کے مطابق ان کے نہم اور سیکنڈائرکے نمبر لگائے جائیں اورجہاں تک اس سال انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کا تعلق ہے‘ ان سے پیپر ز ایس او پیز کے مطابق ضرور لئے جائیں‘ چاہے جولائی میں ہی کیوں نہ لینے پڑیں تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ بیشتر طلبہ نہم اور فرسٹ ائر میں نمبر ز کم آنے پر دہم اور سیکنڈ ائر میں شدید محنت کرتے ہیں اور مارکس امپروو کرلیتے ہیں‘ پریکٹیکل امتحانات بھی اہم ہوتے ہیں جن میں ہونہار طلبہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ اس لئے سماجی فاصلے سمیت تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ امتحانات ہونے چاہئیں‘ طلبہ کو مخصوص فاصلے سے بٹھائیں اور اس کے لئے 3سے4شفٹوں میں بھی امتحان لیاجاسکتا ہے اور پیپرز مارکنگ بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ باقی رہی اساتذہ کی بات تو وہ تو محنت کے عادی ہیں‘ تدریسی ڈیوٹی کے علاوہ‘ امتحانی ڈیوٹی‘مردم شماری ڈیوٹی‘ احساس پروگرام ڈیوٹی‘ قرنطینہ سنٹرز ڈیوٹی کے ساتھ گندم خریداری مہم تک میں ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں‘اساتذہ طلبہ کے بہترین مستقبل کے لئے ہرقربانی اور جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔

پاکستان فورم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -