انشورنس کو نظر انداز کرنے کے نقصانات زیادہ ہیں،مرتضیٰ مغل

  انشورنس کو نظر انداز کرنے کے نقصانات زیادہ ہیں،مرتضیٰ مغل

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) ملکی معیشت انشورنس سیکٹر کو نظر انداز کرنے کی بھاری قیمت ادا کرے گی۔انشورنس انڈسٹری کی ترقی میں آگہی کا فقدان اور ضرورت سے زیادہ سخت قوانین شامل ہیں جس سے چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں۔ترقی پزیر ممالک میں انشورنس کے شعبہ نے ترقی نہیں کی ہے مگر پاکستان اس ضمن میں پڑوسی ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انشورنس ماہرین نے ایف پی سی سی آئی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے انشورنس کے کنوینر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل کی جانب سے وڈیو لنک پر منعقدہ ایک مزاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خصوصی مقرر انشورنس کنسلٹنٹ اور چار ٹرڈ اکاؤنٹنٹ طارق حسین نے کہا کہ انشورنس کا بنیادی مقصد نقصانات بانٹ کر لوگوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا ہے مگر پاکستان میں اسے غیر اسلامی سمجھا جاتا ہے اس لئے اسلامی انشورنس انڈسٹری اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔پاکستان میں انشورنس کا حجم جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے اس لئے عوام اور کاروباری برادری کو خود نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔لائف انشورنس میں ایک کمپنی کے پاس پچاس فیصد سے زیادہ حصہ ہے جنرل انشورنس میں ننانوے فیصد کاروبار چار کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے جبکہ باقی ماندہ بیس سے زیادہ کمپنیوں کو ایک فیصد حصہ پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ انشورنس کمپنیوں کے لئے قوائد میں نرمی کی جائے کیونکہ سخت قوانین سے بہت سے کمپنیاں دیوالیہ ہو گئی ہیں۔ وائرس کی وباء کے بعد نئی مصنوعات روشناس کروانے کی ضرورت ہے جس میں انشورنس انڈسٹری زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ہے جبکہ مختلف کمپنیوں کے مابین پریمیم کی جنگ بھی اس شعبہ کو کمزور کر رہی ہے جس کے لئے کسی مکینزم کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹی کمپنیوں کے لئے قوانین نرم کر کے انھیں مائیکرو انشورنس کے شعبہ میں کام کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -