ضم شدہ اضلاع کے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں تاخیر برداشت نہیں: محمودخان

  ضم شدہ اضلاع کے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں تاخیر برداشت نہیں: محمودخان

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی کو موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے Acclerated Implementation Project (AIP) کے تحت شروع کئے گئے تمام ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پرمناسب اقدامات اُٹھائے جائیں۔ انہوں نے خبر دار کیا ہے کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل میں غیر ضروری تاخیر اور کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق ان منصوبوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وہ پیرکے روز ضم شدہ اضلاع کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام خصوصاً اے آئی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس کواے آئی پی کے تحت مختلف شعبوں بشمول صحت، تعلیم، ریلیف، مواصلات، زراعت، کھیل و سیاحت، توانائی، آبپاشی اور آبنوشی وغیرہ میں شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ان منصوبوں پر پیشرفت کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر محکمے کے تحت ضم شدہ اضلاع میں ان ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا مفصل جائزہ لینے کیلئے ان محکموں کے الگ الگ اجلاس بلائے جائیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کے سرکاری محکموں میں خالی تمام آسامیوں کو جلد پُر کرنے اور جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں پر نئی آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھا ئے جائیں تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کے خصوصی احکامات پر عملدرآمد کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے جبکہ علاقے کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجوزہ منصوبوں کے پی سی ونز جلد سے جلد تیار کرکے متعلقہ فورم کی منظوری کے لئے پیش کئے جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی پی کے تحت گزشتہ مالی سال کے دوران ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے جاری کردہ فنڈز کا 68فیصد حصہ خرچ کیا جا چکا ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران جاری کردہ فنڈز کا 88فیصد خرچ کیا جا چکا ہے اس طرح مجموعی طور پر دونوں مالی سالوں میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی شرح 73فیصد بنتی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ اس مالی سال کے آخر تک جاری کردہ فنڈز کے مکمل استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ مزید بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں گرڈ اسٹیشنوں کی اپگریڈیشن کے لئے جاری فنڈز کا 76فیصد اور ریسکیو1122 اسٹیشنز کے منصوبوں کے جاری فنڈز کا 88فیصد جبکہ انصاف روزگار سکیم کے تحت جاری فنڈز کا 91 فیصد حصہ خرچ کیا جا چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع میں بعض ترقیاتی منصوبوں کے لئے زمین کی خریداری سے متعلق مسائل کو حل کرنے کیلئے متعلقہ تمام ڈپٹی کمشنر ز کا اجلاس بلا یا جائے۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت کے وژن کے مطابق ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے اے آئی آپی میں عملدرآمد کو ہر حال میں یقینی بنایا جائیگا، اس سلسلے میں قبائلی عوام کے ساتھ کیا گیا ہر ایک وعدہ پورا کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے وسائل کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا تاکہ انضمام کے ثمرات وہاں کے عوام تک جلد پہنچ سکیں اور ان عشروں پر محیط ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔

مزید :

صفحہ اول -