"میرے پاس عدالت سے انصاف کے حصول کیلئے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ۔ ۔ ۔" شہبازشریف نے لندن ہائیکورٹ میں دائر مقدمے میں کیا موقف اپنایا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

"میرے پاس عدالت سے انصاف کے حصول کیلئے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ...

  

لندن (ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے لندن ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے دعوے میں کہا گیا ہے کہ میل آن سنڈے اور میل آن لائن میں شائع ہونے والے مضمون سےان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے پاس عدالت سے انصاف کے حصول کیلئے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

روزنامہ جنگ میں مرتضیٰ علی شاہ نے لکھا کہ شہباز شریف نے عدالتی فیس کے طورپر 10,528پونڈ جمع کرائے ہیں لیکن کاغذات میں یہ درج نہیں ہے کہ مدعہ الیہان سے کتنا ہرجانہ طلب کیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف شہباز شریف کے کلیم کی سماعت کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی ہے۔ کاغذات کے مطابق شہباز شریف نے گزشتہ سال 14 جولائی کو شائع شدہ مضامین کے مختلف قابل اعتراض حصوں کے حوالے سے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اخبار کے مطابق شہباز شریف کے وکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کلیمنٹ قصور وار ہے یا یہ شبہ پیدا ہونے کے بہت مضبوط امکانات ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے صوبے کو ڈی ایف آئی ڈی کی طرف سے برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کی امدادی رقم سے سرکاری خزانے کو ملنے والےکئی ملین پونڈ خورد برد کرنے کے قصور وار ہیں اور انھوں نے یہ رقم لانڈرنگ کیلئے برطانیہ کو استعمال کیا۔

مزید :

قومی -برطانیہ -