سابق ڈی جی حج راؤ شکیل کی برطرفی کی سزا جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل، انہیں کیا کچھ فواہد حاصل ہوں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

سابق ڈی جی حج راؤ شکیل کی برطرفی کی سزا جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل، انہیں کیا ...
سابق ڈی جی حج راؤ شکیل کی برطرفی کی سزا جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل، انہیں کیا کچھ فواہد حاصل ہوں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آ باد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عدالتی حکم پر وزیر اعظم عمران خان نے سابق ڈی جی حج جدہ اور پا کستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے گریڈ 20 کے افسر میجر (ر) شکیل احمد رائو کی ملازمت سے بر طرفی کی سزا کو  جبری ر یٹائر منٹ میں تبدیل کر نے کی منظوری دیدی ہے، اس کے بعد انہیں ریٹائرڈ ملازمین کی سہولیات ملیں گی ۔ 

روزنامہ جنگ کے مطابق انہیں 11دسمبر 2012کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا، سزا میں یہ تبدیلی سپریم کورٹ آف پا کستان کے فیصلہ کی روشنی میں کی گئی ہے جو فروری 2020میں سنایا گیا، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس ضمن میں با ضا بطہ نو ٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

اس خبر پر عرفان اسحاق نے دعویٰ کیا  کہ "  اس کی برطرفی کو ریٹائرمنٹ میں بدلنے سے  وہ تمام مراعات حاصل کرپائے گا جو ایک ریٹائر ملازم کو ملتی ہیں "۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ رواں سال فروری کے دوسرے ہفتے سپریم کورٹ نے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) حج راؤ شکیل کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملازمت پر بحالی کا سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، حکومت نے حج کرپشن اسکینڈل پر راؤ شکیل کو برطرف کیا تھا اورسروس ٹربیونل نے انہیں ملازمت پر بحال کر دیا تھا۔

جیونیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی، اس دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے راؤ شکیل کو کرپشن کیس میں شک کی بنیاد پر بری کیا لیکن محکمانہ انکوائری میں ان پر حج پالیسی کی خلاف ورزی ثابت ہوئی ، راؤ شکیل نے حاجیوں کے لیے عمارتیں حرم سے 2000 میٹر دور لیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا راؤ شکیل پر کمیشن لینے کا الزام ثابت ہوا؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ کمیشن لینے کے شواہد نہیں مل سکے۔اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کمیشن لینا پاکستان میں ثابت نہیں ہوتا تو سعودی عرب میں کیسے ہوتا؟چیف جسٹس گلزار احمد نے کہ کہا کہ راؤ شکیل غفلت کے مرتکب ہوئےجس کے بعد اعلیٰ عدالت نے سابق ڈی جی حج راؤ شکیل کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملازمت پر بحالی کا سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2010 کے حج انتظامات میں بدعنوانی سامنے آئی تھی جس کے باعث اس وقت کے وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور ڈی جی حج راؤ شکیل کے نام سامنے آئے تھے تاہم 2017 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے حج کرپشن کیس میں حامد سعید کاظمی اور راؤ شکیل سمیت 3 ملزمان بری کردیا تھا اور ٹرائل کورٹ کی سزا کالعدم قرار دی تھی۔اسلام آباد کے  سپیشل جج سینٹرل نے 3 جون 2016 کو ملزمان کو حج کرپشن کیس میں 16، 16 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -