کیا بازار سے لائی گئی تمام چیزوں کو دھونا ضروری ہے؟ ماہرین نے کورونا وائرس کے بارے میں اُن سوالات کا جواب دے دیا جو ہم سب کے ذہنوں میں ہیں

کیا بازار سے لائی گئی تمام چیزوں کو دھونا ضروری ہے؟ ماہرین نے کورونا وائرس کے ...
کیا بازار سے لائی گئی تمام چیزوں کو دھونا ضروری ہے؟ ماہرین نے کورونا وائرس کے بارے میں اُن سوالات کا جواب دے دیا جو ہم سب کے ذہنوں میں ہیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس اور اس کے پھیلاﺅ سے متعلق کئی طرح کے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں ہیں۔ اب برطانیہ کی یونیورسٹی آف بیتھ کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو پریسٹن نے ان کے جوابات دے دیئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال یہ تھا کہ آیا وہ جو چیزیں گھر پر آرڈر کرتے ہیں وہ انہیں دھونی چاہئیں یا نہیں۔ اس پر ڈاکٹر اینڈریو کا کہنا ہے کہ اگرچہ باہر سے آنے والی اشیائے خورونوش اور اشیاءکی پیکنگ سے آپ کو کورونا وائرس لاحق ہونے کا بہت کم خطرہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی اگر آپ کو تحفظات لاحق ہیں تو آپ پیکنگ کو صابن اور پانی سے دھو سکتے ہیں یا پھر اسے تین دن کے لیے رکھ دیں اور پھر کھولیں۔ یہ بہتر عمل ہو گا کہ باہر سے آنے والے پھلوں اور سبزیوں وغیرہ کو آپ دھو کر استعمال کریں۔

ایک سوال لوگوں کے ذہنوں میں یہ تھا کہ آیا کورونا وائرس کا مریض صحت مند ہو کر گھر آئے تو اس سے دوسرے گھر والوں کو وائرس لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یا نہیں۔ اس پر ڈاکٹر اینڈریو نے کہا ہے کہ ”اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے ہسپتال سے جسم سے وائرس مکمل ختم ہونے کے بعد ڈسچارج کیا گیا ہے یا علامات ختم ہونے اور صحت مند ہو جانے پر اسے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ آپ مریض کے ہسپتال سے آنے والے نوٹس چیک کریں۔ اس پر اس حوالے سے بتایا گیا ہو گا۔ مختلف لوگوں میں وائرس موجود رہنے کا دورانیہ مختلف ہوسکتا ہے۔ عام طور پر جب مریض مکمل صحت مند ہو جاتا ہے تو اس کے بعد بھی وائرس مریض کے جسم میں موجود رہتا ہے اور وہ دوسروں کو منتقل ہو سکتا ہے تاہم عموماً مریضوں کو تب تک گھر نہیں بھیجا جاتا جب تک ان کا ٹیسٹ مکمل منفی نہ آ جائے۔ آپ کے کیس میں یہ مختلف ہو سکتا ہے چنانچہ آپ کو اس بات کی تصدیق کر لینی چاہیے۔

اکثر لوگ گھر پر ماسک بنا رہے ہیں اور وہ اس بات پر کشمکش میں رہتے ہیں کہ ماسک کے لیے کس طرح کا کپڑا بہتر ہوتا ہے۔ اس پر ڈاکٹر اینڈریو نے کہا ہے کہ فیس ماسک بنانے کے لیے ایسا کپڑا استعمال کیا جانا چاہیے جو دونوں اطراف سے لعاب کے باریک قطروں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آپ کسی سے بات کر رہے ہیں تو جو اس کے منہ سے لعاب کے نظر نہ آنے والے قطرے نکل رہے ہیں اور جو خود آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں، کپڑے میں ایسی صلاحیت ہو کہ دونوں طرف سے انہیں اپنے اندر سمو سکے اور آر پار نہ گزرنے دے۔ اس کے لیے کاٹن کے نرم بُنے ہوئے کپڑے کی چند تہیں بہترین ہیں۔ آپ فیس ماسک کے طور پر سکارف کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -