کیا ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں؟

کیا ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں؟
کیا ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں؟

  

اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی  سورہ العنکبوت آیت نمبر 2 اور تین میں ارشاد فرماتےہیں''کیالوگ یہ خیال کرتےہیں کہ (صرف) اُن کے (اتنا) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی ''اور بیشک ہم نےان لوگوں کو(بھی)آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو یقیناً اللہ ان لوگوں کو ضرور (آزمائش کے ذریعے ) نمایاں فرما دے گا جو (دعوٰی ایمان میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا۔

یقین کا اصل امتحان تو آزمائش میں ہوتا ہے جو آزمائش میں ثابت قدم رہے تو اللہ پاک کے ہاں ان لوگوں کے لیے انعام بھی بڑا ہے ۔معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری اپنے پروگرام "کل تک" میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص پہاڑ سر کرنے کی کوشش میں پہاڑ سےگرجاتاہے اور وہ درخت کی شاخ میں پھنس جاتا ہے ،وہ اس حالت میں اللہ کو مدد کے لئے پکارتا ہے تو پہاڑ کی چوٹی سے آواز آتی ہے!اے بندے اللہ نے مجھے آپ کی مدد کے لیے بھیجا ہے، آپ اپنا ہاتھ چھوڑ دو تو بچ جاؤ گے، اس آدمی نے کہا کہ اگر میں ہاتھ چھڑاؤں گا تو مر جاؤں گا لیکن چوٹی سے بار بار یہ ہی اواز آتی رہی ہاتھ چھوڑ دو بچ جاؤ گے تاہم اس آدمی نے ایسا نا کیا ، موسم کی شدت کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ اگلے دن لوگوں نے دیکھاکہ ایک شخص کی لاش درخت کی شاخ پر پڑی تھی اور زمین صرف دو فٹ دور تھی جی ہاں صرف دو فٹ. اس موقع پر اللہ نے آدمی کی جانب اپنی مدد بھی بھیجی لیکن اس آدمی نے یقین نہیں کیا تو نتیجہ موت اگر یہ آدمی غیبی مدد پر یقین کرتا تو نتیجہ مختلف ہوتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابلیس تمہارا کھلا دشمن ہے،ابلیس تو انسان کا برا ہی چاہتا ہے. لفظی یقین اور عملی یقین میں بہت فرق ہے ،عملی یقین تو جنید جمشید نے کر کے دکھا دیا،جب جنید جمشید نے گانا چھوڑا تو ان پر ایک وقت ایسا بھی آیا کے بچوں کی سکول فیس ادا کرنا کے پیسے بھی نہیں تھے جبکہ دوسری طرف گانا گانے کی صورت میں ایک کروڑ لیکن جنید جمشید نے وقتی غربت کو قبول کیا اور ایک کروڑ کو اللہ کیلے چھوڑ دیا ۔اپنے ایک انٹرویو میں جنید جمشید نے بیان کیا کہ میں نے جو چیز اللہ کی رضا کے لیے قربان کی میرے اللہ نے اس کو 70 سے ضرب کر کے واپس کی پھر وہ پیسا ہو یا شہرت ؟یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا جس نے جنید جمشید کے برانڈ کو انٹر نیشنل برانڈ بنا دیا ۔جنید جمشید جیسے لوگوں کے لئے اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں سورہ انبیا آیت نمبر 94 "پھر جو مومن بن کر نیک کام کرتے ہیں تو ان کی بے قدری نہیں ہو گی اور ہم اس کوشش کو لکھتے جاتے ہیں "

زرا دل پے ہاتھ رکھ کر سوچئے جس کی قدرمیں میرا اللہ اضافہ کرے اس کی قدر کون کم کر سکتا ہے ؟میرا اللہ تو اپنے بندے سے 70 ماؤں جتنا پیار کرتے ہیں ،اس مالک المک سے ہمارے پیار کا یہ عالم ہے وہ ہم کو اپنے پاس دن میں 5 دفعہ بلاتا ہے اور ہم اپنی زندگی میں اتنے مصروف ہیں کہ ہمارے پاس ہر کسی کیلے وقت ہے اگر وقت  نہیں ے تو اپنے خالق کے لیے نہیں ہے، وہ تو ہم کو فرماتا ہے "آؤ فلاح کی طرف" اور ہم پتا نہیں کس چیز میں فلاح تلاش کر رہے ہیں ،اگر وقت ملے تو سوچیں،کیا ہمارے پاس سوچنے کے لیے بھی وقت نہیں؟۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -