سابق کمشنر راوللپنڈی نے رنگ روڈ منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی:فردوس عاشق

سابق کمشنر راوللپنڈی نے رنگ روڈ منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی:فردوس عاشق

  

 لاہور(این این آئی)معاون خصوصی وزیر علی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں ٹریفک لوڈ کم کرنے کے لیے رنگ روڈ منصوبہ شروع کیا گیا۔ عوامی اور قومی مفاد کے پیش نظر اس منصوبے کا آغاز کیا گیا مگر رنگ روڈ منصوبے پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی گئی۔ راولپنڈی رنگ روڈ کا غیر قانونی طور پر روٹ تبدیل کیا گیا۔ 65 کلومیٹر طویل رنگ روڈ جس کی تعمیر کے لیے پیشکشیں طلب کی جا چکی تھیں، سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود اور ان کے ساتھیوں نے کنسلٹنٹ کی غیر قانونی معاونت سے اس  کا روٹ تبدیل کیا۔ سابق کمشنر محمد محمود احمد، سابق لینڈ ایکوزیشن کلکٹر وسیم علی تابش اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ عبداللہ نے ناقابل تلافی غیر قانونی کام کیے۔ یہ لوگ دھوکہ دہی اور فراڈ کے مرتکب ہوئے۔ اختیارات نہ ہونے کے باوجود احکامات جاری کرتے رہے اور مالی مفادات حاصل کرنے والے گروہوں اور اپنے مفادات کے لیے قومی خزانے کا غلط استعمال کرتے رہے۔ اِن کا معاملہ نیب کو بھجوایا جا رہا ہے۔اِن کے خلاف اِنضباطی کارروائی بشمول ملازمت سے معطلی وغیرہ شروع کر دی گئی ہے۔اس سکینڈل میں ہماری حکومت کے  کچھ لوگوں کے علاوہ اپوزیشن والے اور بیوروکریسی کے چند افسران ملوث ہیں اور ان سب کو بلا امتیاز قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا  رہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ نیب سابق کمشنر محمود احمد کی طرف سے 2 ارب 30 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر خرچ کرنے کی انکوائری کرے گا۔ یہ رقم غیر قانونی طور پر ایسی اراضی کی ایکوزیشن کے لیے خرچ کی گئی جس کے نتیجے میں بااثر افراد کی ملکیتی رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ طاقتور افراد کے بے نامی فرنٹ مین ہونے کی بنا پر بعض رہائشی سکیموں  کے خلاف بھی انکوائری کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محمود احمد اور ان کے ساتھیوں کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پنجاب اور وفاق میں حکومتوں کو اِس سلسلے میں حقائق سے مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا گیا اور اعلی ترین سطح سے اس الائنمنٹ کو وزیر اعلی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایات کو دانستہ طور پر مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ ایک ممبر کے غیر اخلاقی تعاون سے اس پراجیکٹ کو یکم مارچ 2021 کو غیر قانونی طور پر مشتہر بھی کر دیا گیا۔ ایف آئی اے کو ایسی رہائشی سکیموں کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ منظور شدہ اراضی سے زیادہ پلاٹوں کی فروخت اور بلا اجازت آن لائن فروخت کا حساب لگائیں اور اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں۔معاون خصوصی نے کہا کہ سابقہ کمشنر نے غیر قانونی الائنمنٹ پر نہایت تیز رفتاری سے کام کیا اور اس سلسلے میں کئی غیر قانونی کام کیے۔

فردوس عاشق

مزید :

صفحہ اول -