اقبال ٹاؤن، معمولی رنجش پر واپڈا ملازم نے 2ساتھیوں کو قتل کرڈالا 

اقبال ٹاؤن، معمولی رنجش پر واپڈا ملازم نے 2ساتھیوں کو قتل کرڈالا 

  

لاہور (کرائم رپورٹر+خبرنگار)  ملتان روڈ سید پور گریڈ اسٹیشن میں واپڈا ملازم نے معمولی رنجش پر اپنے ہی 2 ساتھی ملازمین کو فائرنگ کے بعد چھریوں کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا، پولیس اور متعلقہ واپڈا افسران موقع پر پہنچ گئے، خون کے نشانات پر قاتل کو اسکی خالہ کے گھر سے آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا ابتدائی تفتیش کے مطابق دوہرے قتل کی یہ واردات جھگڑے کا شاخسانہ ہے تفصیلات کے مطابق تھانہ اقبال ٹاؤن کے علاقہ ملتان روڈ پر واقع سید پور گریڈ اسٹیشن کے شفٹ انچارج اے ایس ایس عثمان شاہد نے اپنے ہی ساتھی ملازمین اے ایس ایس 38 سالہ امجدعلی اور خاکروب 60 سالہ اسحاق مسیح کو فائرنگ کے بعد گلے پر چھریوں کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا معلوم ہوا ہے کہ ملزم عثمان شاہد کی تین سال قبل امجد علی کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا جس کی بناء پر تین چار روز قبل بھی معمولی تلخ کلامی ہوئی جس کی رنجش پر گزشتہ پیر اور منگل کی درمیانی رات 2 بجے کے قریب ملزم عثمان شاہد نے مشتعل ہو کر ڈیوٹی پر موجود امجد علی پر پسٹل سے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور اس کے بعد چھریوں کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا۔ قریب ہی کھڑا خاکروب 60 سالہ اسحاق مسیح سارا واقعہ دیکھ رہا اسے بھی فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتاردیا اور گریڈ کی دیوار پھلانگ کر فرار ہو گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پرپولیس اور  فزانک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئے۔کارروائی کے دوران پولیس نے گریڈ اسٹیشن کی دیوار پر لگے خون کے نشانات پر گریڈ اسٹیشن کے ارد گرد سرچ آپریشن کیا تو ملزم عثمان شاہد کو اسکی خالہ کے گھر سے آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔اس حوالے سے ایس ای سیکنڈ سرکل لیسکو چودھری رشید کا کہنا ہے کہ اے ایس ایس عثمان شاہد اورامجد علی کے درمیان چند روز قبل جھگڑا ہونے کا معمول ہوا ہے جس کی رنجش میں ملزم عثمان شاہد نے امجد علی قتل کر دیا۔واضح رہے کہ خاکروب اسحاق مسیح ایک ماہ بعد 14 جون کو ریٹائرڈ ہونے والے تھے پولیس نے نعشیں پوسٹمارٹم کے لئے مردہ خانے میں منتقل کر دیں  جبکہ ایس پی اقبال ٹاؤن اویس شفیق کا کہنا ہے کہ ملزم عثمان شاہد نے ابتدائی تفتیش میں ذاتی رنجش پر دونوں ملازمین کو قتل کیا ہے۔ مزید تفتیش اور تحقیقات کے لئے ملزم کو انویسٹی گیشن ونگ ے حوالے کر دیا ہے اور جلد دیگر حقائق منظر عام پر آ جائیں گے۔

دوہر ا قتل 

مزید :

صفحہ آخر -