اسرائیل نے فلسطین نہیں پوری انسانیت پر حملہ کیا،ابوالخیر زبیر

اسرائیل نے فلسطین نہیں پوری انسانیت پر حملہ کیا،ابوالخیر زبیر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (نمائندہ خصوصی)ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، مرکزی رہنماؤں پیر ہارون گیلانی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، علامہ عارف حسین واحد ی، مولانا اللہ وسایا، حافظ عبدالغفار روپڑی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ سید ثاقب اکبر، سید ناصر شیرازی، مولانا عبدالمالک، پیر غلام رسول اویسی، حافظ زبیر احمد ظہیر، علامہ زاہد قاسمی نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیلی فورسز کی مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے، بمباری اور ماہ رمضان المبارک میں مسلمان نہتے نمازیوں پر ظلم و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ مسلمانوں یا اسلام پر نہیں، انسانیت پر حملہ ہے۔

 اسرائیل ظلم، ذلت، خونخواری اور انسانیت کی پامالی کی آخری انتہا کو پہنچ گیاہے۔ سلامتی کونسل اور او آئی سی کے اجلاس فوری طور پر بلائے جائیں۔ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی بیحرمتی اور فلسطینیوں کا قتل عام رکوایا جائے۔ پوری دنیا کے مسلم عوام قبلہ اول کی بازیابی، مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور فلسطین کی آزادی کے لیے یک جان اور یک آواز ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور قبلہ اول ملت اسلامیہ کی رگ جاں ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ یہ اطلاعات عالم اسلام کے لیے خیر کی خبر ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات و سفارت کاری کی بحالی کے لیے کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ تعلقات کی بحالی صرف علاقائی تلخی ختم کرنے ہی نہیں پورے عالم اسلام کے لیے مثبت نتائج لاسکتی ہی۔ ملی یکجہتی کونسل اپنے قیام کے اول روز سے اتحا د امت اور درد مشترک قدر مشترک کے اصول پر یقین رکھتی ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان، شام، روہنگیا، یمن کے مسائل عالم اسلام کے اتحاد کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔ امریکہ یورپ اور اسلام دشمن صہیونی طاقتیں تو مسلمانوں کو کمزور اور غلام بنا کر ہی رکھنا چاہتی ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے کہ افغانستان میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت بند ہو جائے۔ امریکہ اور نیٹو فورسز نکل جائیں۔ افغان قیادت اور افغان عوام کو ہی اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق مل جانا چاہیے۔ طویل مدت کی خانہ جنگی اور بیرونی قوتوں کے خلاف مزاحمت نے افغان عوام اور قیادت کو یہ مقام دے دیاہے کہ وہ اپنے مسائل اب خود مل کر حل کرسکتے ہیں۔ بیرونی ہاتھ اور تعاون کے اپنے مفادات ہوتے ہیں یہی بد نیتی مسائل حل نہیں ہونے دیتی۔ افغانستان میں پائیدار امن ہی پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔