سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کریں!

سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کریں!

  

صنعت و تجارت کے سینئر نائب صدر ناصر حمید خان نے تجویز کیا ہے کہ ملک میں سورج اور ہوا سے سستی بجلی حاصل کرنا لازمی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے بجلی کی مہنگائی کو صنعتی اور تجارتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا، یہ بالکل درست اور مفید تجویز ہے، کیونکہ تھرمل بجلی کی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔ کئی اہم رعائتیں جو صنعتوں کو دی جاتی تھیں، ختم کر دی گئیں۔ پن بجلی کی پیداوار ضرورت سے بہت کم ہے اور موسموں کی تبدیلی سے یہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، وزیرخزانہ نے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی خود مخالفت کی ہے، تاہم اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے دو تین بار نرخ بڑھائے جا چکے ہیں۔ گھریلو صارفین کے لئے رعائت کی تین سو یونٹوں والی حد بھی ختم کی جا چکی اور اب سلیبس تبدیل کرنے سے گھریلو صارفین بہت بُری طرح متاثر ہیں کہ بلوں  میں سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں، حتیٰ کہ عدالتی حکم اور فیصلے کے باوجود نیلم، جہلم سرچارج ختم نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ کئی دوسرے سرچارج بھی وصول کئے جاتے ہیں، ان حالات میں ہوا اور سورج کی تمازت اللہ کی نعمت ہیں، ان سے استفادہ کرنا درست اقدام ہوگا۔ یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ سولر انرجی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے سابقہ ادوار میں لگائے گئے۔ ان کی اب کیا پوزیشن ہے، وہ کتنی پیداوار دے رہے ہیں اور ان میں توسیع کی گنجائش کو کہاں تک بڑھایا گیا ہے، اس طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ واپڈا حکام کے مطابق پن بجلی کے کئی منصوبے زیر تعمیر ہیں، تاہم ان کی تکمیل میں ابھی کئی برس کا وقفہ ہے، جبکہ سولر اور ہوائی بجلی کے منصوبے کم لاگت سے جلد پیداوار دیتے ہیں، ایسے حالات میں یہ تجویز مفید تر ہے اور اسے بروئے کار لانا چاہیے، سولر پینل اور آلات سستا کرنا بھی ضروری ہے کہ عوام خود بھی گھروں میں استعمال کے لئے لگا سکیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -