ماں کے ساتھ بیتے دِنوں کی یاد 

ماں کے ساتھ بیتے دِنوں کی یاد 
ماں کے ساتھ بیتے دِنوں کی یاد 

  

مدرز ڈے پر مجھے اپنی ماں بہت یاد آئی،جس کو مجھ سے بچھڑے26برس کا عرصہ بیت گیا ہے آج بھی ماں کے ساتھ بیتے دن اس طرح یاد اور تروتازہ ہیں جب وہ مجھے کہیں گی گرمی بہت ہے اپنا خیال کیا کرو۔ سر ڈھانپ کر رکھا کرو میں کھانے پر تمہارا انتظار کررہی تھی،کبھی کہیں گی کہ سر پر تیل لگا دیتی ہوں اس سے بال اچھے رہتے ہیں۔ گھر وقت پر آ جایا کرو میں انتظار کرتی رہتی ہوں۔ ہم کئی مرتبہ کہہ دیتے تھے کہ امی جی! آپ کھانا کھا لیا کریں بعض دفعہ دفتر میں زیادہ کام  ہونے کی وجہ سے وقت لگ جاتا ہے ہمارے ہر طرح کے رویے کو ماں بڑے پیار سے سنتی تھی۔ جیسے آج بھی ہم اس کے لئے چھوٹے سے نا سمجھ بچے ہیں۔ مجھے آج بھی ماں کا مسکراتا چہرہ نہیں بھولتا کہ ہماری ہر بات کو بڑے پیار سے سنتی تھیں ماں اپنی بیماری کو چھپا کر ہمارے لئے بڑے مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ہم لاپرواہی کر جاتے تھے ہم سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ایک دن اچانک میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہسپتال لے کر گئے، ٹھیک ہوگئیں جس دن گھر لانا تھا اس دن دوبارہ ہسپتال میں ایک اور ہارٹ اٹیک ہوا،جس سے وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی پیار بھری گود سے ہمیں محروم کر گئیں۔ میرے والد محترم کو فوت ہوئے پانچ سال ہوگئے تھے، لیکن جب والدہ کا انتقال ہوا تو پھر ایسا لگا کہ جیسے میری ساری دُنیا اجڑ گئی ہے۔میں تمام پیار، محبتوں اور نعمتوں سے محروم ہوچکا تھا اب مجھے ایسا لگا کہ میں یتیم ہوگیا ہوں اللہ تعالیٰ میری ماں کو بلکہ سب کی ماؤں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے  اور جن کی مائیں زندہ ہیں ان کی اولاد کو اپنی ماں کی قدر ومنزلت کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نیک سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اس نے پوچھا پھر کون۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اس نے پوچھا، پھر کون،ارشاد فرمایا، تیری ماں اس نے پوچھا پھر کون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ۔ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے، مگر اپنے اندر کل کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ لفظ ماں دنیا کی جتنی زبانیں ہیں جس بھی زبان میں بولا جائے، ماں کے لفظ میں مٹھاس ہے۔ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ”اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حُسن ِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُنہیں اُف بھی نہ کہنا اور اُنہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو۔اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور)عرض کرتے رہو: اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے(رحمت و شفقت سے)پالا تھا۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 23-24) اولاد پر لازم ہے کہ ماں کے لئے برابر دُعا کرتے رہیں، ان کے احسانات کو یاد کریں اور رب کے حضور انتہائی دِل سوزی اور قلبی جذبات کے ساتھ ان  کے لئے رحم و کرم کی درخواست کریں:جب بھی وقت ملے تو اپنے والدین کے پاس جا کر بیٹھا کریں: کیو نکہ والدین کے ساتھ گزرا ہوا وقت قیامت کے دن بخشش کا باعث بنے گا۔والدہ کے ساتھ احسان کرو ان کے ساتھ محبت کرو۔رفتار، گفتار میں نشست برخاست میں تعظیم کرو۔ ان کی شان میں تعظیمی کلمات ادا کرو۔ان کو راضی اور خوش کرنے کی کوشش کرو۔ اپنا عمدہ مال ان پر خرچ کرو۔ ان کی حکم عدولی نہ کرو۔ ان کو کسی قسم کا رنج نہ دو۔ اگر وفات پا جائیں تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں صدقات دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس شخص کا کیا نقصان ہے جو ماں باپ کے نام سے صدقہ دے ان کو ثو اب ملے اور اس کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے۔ اے صحابہ کرام کیا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا:جی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ارشاد فرمایا:”سب سے بڑا گناہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور اپنے والدین کی نافرمانی کرنا ہے“۔ایک اور جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبر پر جایا کرو اللہ پورے ہفتے کے صغیرہ گناہ معاف فرما دیتا ہے جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اور ان پر صلہ رحمی کرو۔ خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ماں کے قدموں تلے جنت ہے“۔ والدین خصوصاً ماں کے احسانات انعام و اکرام اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ اگر اولاد اپنی ساری زندگی ان کا شکر ادا کرنے پر لگا دے تو بھی کبھی حق ادا نہیں ہو سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -