افغانستان میں پُرامن حالات کیسے پیدا ہوں گے؟

افغانستان میں پُرامن حالات کیسے پیدا ہوں گے؟
افغانستان میں پُرامن حالات کیسے پیدا ہوں گے؟

  

افغانستان گزشتہ بیالیس برسوں سے بیرونی حملوں اور خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور اس تناظر میں اس کی تباہ حالی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں؛ تاہم 29 فروری 2020 کو افغان طالبان اور امریکی انتظامیہ کے مابین امن معاہدے نے اس امید کو جنم دیا کہ جلد افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو سکے گا۔ امید کی یہ کرن اس وقت مزید روشن ہو گئی جب کابل حکومت اور افغان طالبان نے ستمبر 2020 میں داخلی سیاسی تصفیہ کے لئے بات چیت کا آغاز کیا۔ لیکن اب امید کی یہ کرن بجھنے لگی ہے کیونکہ افغان طالبان اور کابل حکومت نے سیاسی تصفیے کی شرائط کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے اور وہ اس کو بدلنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ دونوں کے مابین بات چیت کے معاملات فی الحال دو امور پر رکے ہوئے ہیں:  ایک‘ طالبان جنگ بندی اور افغان حکومت کی تنصیبات، افغان شہریوں اور افغان حکومت کے سکیورٹی اہلکاروں پر اپنے حملے روکنے پر راضی نہیں ہوئے۔ دوسرا‘کابل حکومت طالبان کے ساتھ بات چیت میں آسانی پیدا کرنے کیلئے کابل میں عبوری حکومت کے قیام سے متفق نہیں ہے۔ آگے بڑھنے کے لئے دونوں کو اپنے موقف میں لچک لانا پڑے گی‘ جو فی الحال تو نظر نہیں آ رہی‘ ممکن ہے آگے جا کے ایسی کوئی لچک پیدا ہو جائے‘ لیکن اس کے امکانات محدود ہیں۔ اور یہی وہ معاملہ جو سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ 1988 میں جنیوا معاہدے کے بعد سوویت افواج بھی اسی طرح واپس چلی گئی تھیں‘ اور افغانستان میں کوئی ٹھوس‘ منظم اور مربوط سیٹ اپ نہیں بنایا گیا تھا۔ سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے دھڑوں کو مدد اور کمک پہنچانے والے امریکہ نے بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اب بھی 29 فروری 2020ء کو طے پانے والے معاہدے کے ایک حصے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے یعنی اتحادی افواج کی افغانستان سے واپسی جبکہ دوسرے حصے یعنی انٹرا افغان نتیجہ خیز ڈائیلاگ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہ نکلے گا اور خدشہ یہ ہے کہ 1990کی دہائی جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے  اقتدار کے دعوے دار دھڑے آپس میں لڑتے رہیں گے‘ یوں جانی و مالی نقصان ہوتا رہے گا اور افغانستان کے پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے‘ خصوصی طور پر پاکستان پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح امریکی انخلا کے بعد پاکستان کو  نئے امتحانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے ابھی سے تیاری شروع کر دی جانی چاہئے۔ خاص طور پر اس تناظر میں جس کی طرف امریکی سینٹرل فوج کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے توجہ مبذول کرائی ہے۔ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کے افغانستان میں دوبارہ فعال ہو جانے کا اندیشہ وسط ایشیا کی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہو گا۔ یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد امریکہ کی فوج کے لیے افغانستان میں القاعدہ جیسے دہشت گردی کے خطروں پر نظر رکھنا اور ان کا تدارک کرنا مشکل ہو گا۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے پورے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے‘ جزوی عمل درآمد سے جزوی نتائج ہی برآمد ہوں گے اور اس اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ کچھ عرصہ بعد عالمی برادری کو ایک بار پھر اس ملک پر توجہ دینے کی ضرورت پڑے۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ ابھی سے معاملات کو ٹھیک رکھنے کی کوشش کی جائے۔ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے ذہن پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں کہ افغان طالبان اور افغان حکومت اگر اب ایک دوسرے سے مختلف موقف اور سوچ رکھتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ مستقبل قریب یا بعید میں متفق ہو جائیں؟

مزید :

رائے -کالم -