فلسطین اور القدس کی آزادی ناگزیر ہے

فلسطین اور القدس کی آزادی ناگزیر ہے
فلسطین اور القدس کی آزادی ناگزیر ہے

  

فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ شروع میں یہ علاقہ لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلافت عثمانیہ میں شامل رہا مگر خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1948ء میں یہاں کے بیشتر علاقے پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ اس کا دار الحکومت بیت المقدس تھا جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اول یہیں ہے۔

عربستان سے قبیلہ سام کی ایک شاخ جو کنعانی یا فونیقی کہلاتی تھی، 2500قبل مسیح میں یہاں آ کر آباد ہو گئی۔ پھر آج سے 4000سال پہلے یعنی لگ بھگ 2000قبل مسیح میں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ار (Ur) سے جو دریائے فرات کے کنارے آباد تھا ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کو بیت المقدس میں، جبکہ دوسرے بیٹے اسمعٰیل علیہ السلام کو مکہ میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام، کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا لقب اسرائیل بھی تھا۔ ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اسی سرزمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہ خطہ زمین پیغمبروں کی سرزمین کہلایا۔

اسرائیل اور فلسطین  کے مابین حالیہ تنازعہ اس دن سے شروع ہوا جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔اس پر اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر کونے میں ہمارے لوگ یروشلم واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں اور آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے اسے ہمارے لیے ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔

لیکن امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا 'ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔'مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا  اعلان مسترد کر دیا۔

 حالیہ تنازعہ بھی اسی اعلان کا شاخسانہ ہے کہ اسرائیل اب یروشلم سے فلسطینیوں کا مکمل انخلا چاہتا ہے۔  دس دن سے زیادہ عرصے سے اس محلے کے رہائشیوں اور کارکنوں کی زیرقیادت، اسرائیلی آباد کاری تنظیموں کی جانب سے فلسطینی باشندوں کے گھر خالی کرنے کے احکامات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔اس علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان گھروں میں 1950 کی دہائی سے رہ رہے ہیں جبکہ اسرائیلی اس بات کو نہیں مان رہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”اور آپ سے یہودی اور عیسائی ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں۔“

(القرآن - سورۃ البقرۃ - آیت 120)

اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح فرمادی ہے کہ امریکہ، اسرائیل، انگلینڈ، فرانس وغیرہ کبھی  مسلمانوں اور اسلامی ممالک سے خوش نہیں ہوں گے۔ یہ یہودی اور عیسائی صرف اس وقت خوش ہوں گے جب سارے اسلامی ممالک اور مسلمان اسلام چھوڑ دیں اور ان کے مذہب کے تابع بن جائیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ جو معاہدے کر رہے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور ان کی امن اور انسانیت کی باتیں دھوکہ ہیں۔اس آیت کی سچائی ہم اسلامی ممالک میں دیکھ سکتے ہیں کہ جہاں مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ اور نبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے بتائے ہوئے نظام کے بجائے یہودیوں اور عیسائیوں کے نظامِ حکومت اور قوانین کو اپنایا لیکن کیا وہ ہم سے خوش ہوئے؟  ہم نے عدالت، تعلیم، معیشت، میڈیا اور دیگر بنیادی شعبوں میں انہی کے بنائے ہوئے اصول اور طریقے اپنائے مگر وہ ہم سے راضی نہ ہوئے اور ان کے مطالبے بڑھتے گئے۔

انہیں خوش کرنے کے لئے نام نہاد مسلمان حکمرانوں نے بے حیائی اور فحاشی پھیلائی اور سود کا نظام چلایا گیا لیکن یہ سب حرام کام کرنے کے باوجود بھی یہودی اور عیسائی ان سے راضی نہیں ہوئے۔  اور تو اور،  وہ ان اسلامی ممالک اور حکومتوں سے بھی راضی نہیں ہورہے ہیں جنہوں نے انہیں فوجی اڈے دئے۔ دوسرے اسلامی ممالک کے خلاف ان کے  اتحادوں میں شمولیت اختیار کی اور ان کی خاطر جنگیں لڑیں۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس آیت میں واضح انداز میں سمجھادی ہے:اور آپ سے یہودی اور عیسائی ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -