عید الفطر کیسے منائیں؟

عید الفطر کیسے منائیں؟
عید الفطر کیسے منائیں؟

  

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمؐ جب مدینہ تشریف لائے تو اس زمانہ میں اہل مدینہ نے دو دن مقرر کر رکھے تھے جن میں وہ خوشیاں مناتے اور کھیل تماشے کرتے تھے آپ نے لوگوں سے پوچھا‘ یہ دو دن کیسے ہیں؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ان ایام میں ہم لوگ عہد جاہلیت کے اندر خوشیاں مناتے اور کھیلتے تھے۔ رسول اللہ ؐنے فرمایا‘ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دنوں کو دو بہترین دنوں میں تبدیل فرما دیا ہے یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی، چونکہ  عیدالفطر قریب ترہے تو آج ہم اپنے کالم میں عید الفطر کے حوالے سے گفتگو کریں گے یہ کیسے منائی جانی چاہئے اور اس دن کی مناسبت سے ہمیں بطور مسلمان کون سے کام کرنے چاہئیں۔عید چونکہ مسرت اور خوشی کا موقع ہے تو ہمیں اس موقع کی مناسبت سے ایسے کام ہی کرنے چاہئیں جن کا ہمارے دین نے ہمیں حکم دیا ہے اور خوشی اور مسرت کے موقع پر بے قابو ہو کر ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہئے جن کا ہمارے دین نے ہمیں حکم نہیں دیا یا جن کو کرنے سے منع فرمایا ہے یا جن کے کرنے سے اللہ کی ناراضی کااحتمال ہو  سکتا ہے۔ عید الفطر وہ عید ہے جو رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام پر خوشی اور شکرانے کے طور پر منائی جاتی ہے۔عید کا دن خوشی و مسرت کا دن ہے۔یہ عید، اللہ کی طرف سے ایک انعام اور تحفہ بھی ہے یعنی رمضان المبارک کے روزوں کے ذریعے عبادت اور اس بابرکت مہینے کی تکمیل پر رب العزت کی طرف سے خصوصی انعام والا دن ہے۔اللہ تعالیٰ نے عید کی خوشی عطا کرنے سے قبل رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے تا کہ ایک ماہ تک دن بھر کھانے پینے سے ہمیں روک کر نفس کو خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دی جائے اور اس کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ کے نزدیک ہو جائیں اور اس کے پرہیز گار بندوں میں شامل ہو جائیں۔ اللہ تعالی قران پاک میں بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے تم پر روزے اس لئے فرض کئے ہیں تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔روزہ کی حالت میں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو اللہ نے صدقہ فطر ادا کر کے اس کو مٹانے کا بھی اہتمام فرمایا ہے اور ایک تو اس سے ہمارے گناہ مٹتے ہیں اور اس کا دوسرا مقصد غریب اور محتاج لوگوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنا ہے۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ کورونا نے غریب طبقے کے کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں لوگ عید الفطر کی خوشیاں اس طرح منانے سے قاصر ہیں جیسے صاحب حیثیت لوگ مناتے ہیں یا جیسے وہ کورونا سے قبل عام دنوں میں مناتے تھے۔۔چونکہ کورونا کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن بھی ہے تو اس موذی وبا کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں تو ایسے میں ہمیں اس عید کیلئے اپنے ان مسلمان بھائیوں کو خصوصی طور پر اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہئے جو بے روزگار ہیں، جن کے پاس اپنے بچوں کے کپڑے خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہیں جو پریشان حال ہیں ان کی مالی مدد کرنی چاہئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عیدالفطر کے دن حضور اکرم ؐ میدان میں نماز ادا فرماتے، نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں سے ملاقات کرتے، گلے ملتے پھر واپس گھر آ جاتے۔جب ہم سیر ت رسول حضرت محمد ؐ  کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ عید کی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے۔عید کی خوشیوں میں دوسروں کو کیسے شریک کیا جا سکتا ہے اور ان کی کیسے مدد کی جا سکتی ہے تو اسلام کے پانچ اراکین میں سے ایک رکن زکوٰۃ کا بھی ہے اوراللہ تعالیٰ نے صاحب نصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ اور صدقہ فطر واجب کیا ہے جس کا مقصد ہی یہی ہے کہ غریبوں اور مصیبت زدہ انسانوں کو عام حالات میں اور بالخصوص عید کی خوشیوں میں اپنی زکوٰ ۃ و صدقات اور خیرات کے ذریعے شامل کیا جائے۔عام طور پر مسلمان اسی مبارک مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، چونکہ رمضان میں صدقہ و خیرات کرنے کا اجر بھی دگنا ہوتا ہے تو صاحب حیثیت لوگوں کو بھی اس مہینے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ارد گرد غریب اور حاجت مندوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنی چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ مسکینوں پر اتنا خرچ کرو تاکہ وہ سوال کرنے سے بے نیاز ہو جائیں، یعنی انہیں مانگنے کی حاجت ہی نہ رہے اس کے مانگنے سے قبل ہی اس کی مدد کر دی جائے۔ہمیں خود سے دیکھنا چاہئے کسی کے سوال کرنے سے قبل ہی اپنے ارد گرد نظر دوڑانی چاہئے  پڑوس میں،دکان کے ارد گرد یا جس جگہ ہم کام کرتے ہیں وہاں ایسے لوگ تو موجود نہیں ہیں جو سفید پوش ہیں اور بھرم کی وجہ سے مانگنے سے بھی گریز کرتے ہیں ان کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنا چاہئے انہیں اپنے زکوٰۃ اور فطرانہ میں یاد رکھا جائے۔ فطرانہ ہم بطور عیدی بھی دے سکتے ہیں کیوں کہ فطرانہ صدقہ فطر ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ یہ ہماری روزوں میں کی جانے والی کوتاہیوں کا کفارہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور التجا بھی ہے اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں رکھے گئے روزوں کے صدقے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور پاکستان سمیت دنیا بھر کوجلد از جلد کو کورونا جیسے مہلک مرض سے نجات دے آمین۔ 

مزید :

رائے -کالم -