احکام فطرانہ عید 

احکام فطرانہ عید 
احکام فطرانہ عید 

  

احکام فطرانہ عید مختصراََ ملا حظہ ہوں:

 (1) فطرانہ کی مقدار:  عید کے دن صدقہ فطر بھی ادا کریں،  جو صاحب نصاب پرواجب ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ فطر روزوں کو لغواور گندی باتوں سے پاک کرنے کے لئے اور مسکینوں کی روزی کے لئے مقرر کیا گیا ہے(ابوداؤد)۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ الفطر کو ضروری قرار دیا۔ (فی کس) ایک صاع کھجوریں یا اس قدر جو دیئے جائیں۔ غلام اور آزاد، مذکر اور مونث (یعنی مرد اور عورت) اور ہر چھوٹے بڑے مسلمان کی طرف سے، اور نماز عید کے لئے لوگوں کو جانے سے پہلے ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ (مشکوٰۃ صفحہ 160، بحوالہ بخاری و مسلم)

(2) کس پر واجب ہے: صدقہ فطر اس شخص پر واجب ہے، جس پر زکوٰۃ فرض ہے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت اس کی ملکیت میں ہو یا اگر سونا چاندی اور نقد رقم نہ ہو اور ضرورت سے زائد سامان موجود ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی بن سکتی ہو تو اس پر بھی صد قہ الفطر واجب ہے۔ زکوٰۃ فرض ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مال پر چاند کے حساب سے ایک سال گزرجائے، لیکن صدقہ الفطر واجب ہونے کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔ اگر رمضان کی تیس تاریخ کو کسی کے پاس مال آگیا، جس پر صدقہ الفطر واجب ہو جاتا ہے، تو عید الفطر کی صبح صادق ہوتے ہی اس پر صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ 

 (3) روزوں کی قبولیت: صدقۃ الفطر ادا کر دینے سے روزوں کی قبولیت کی راہ میں کوئی اٹکانے والی چیز باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ 

 (4) ادائیگی فطرانہ: صدقہ فطر بالغ عورت پر اپنی طرف سے دینا واجب ہے۔ شوہر کے ذمہ اس کا صدقہ فطر ادا کرنا ضروری نہیں‘ اور جو نا بالغ اولاد ہے اس کی طرف سے والد پر صدقہ دینا واجب ہے۔ بچوں کی والدہ کے ذمے بچوں کا صدقہ فطر دینا  لازم نہیں ہے۔

(5) جو اور گیہوں وغیرہ: حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جو اور گیہوں وغیرہ ناپ کر فروخت کیا کرتے تھے اور ان چیزوں کو تولنے کی بنائے ناپنے کا رواج تھا۔ اس زمانے میں ناپنے کا جو ایک پیمانہ تھا اسی کے حساب سے حدیث شریف میں صدقہ فطر کی مقدار بتائی ہے۔ ایک صاع کچھ اوپر ساڑھے تین سیر کا ہوتا تھا۔ 

(6) وقت ادائیگی: صدقہ فطر عید کے دن کی صبح کے طلوع ہونے پر واجب ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے پہلے مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ فطر واجب نہیں۔ صدقہ الفطر عید سے پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اگر پہلے ادا کیا تو عید کی نماز کے لئے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے یا بعد نہ دیا تو ساقط نہ ہوگا۔ اس کی ادائیگی برابر ذمہ رہے گی، جو بچہ عیدالفطر کی صبح صادق ہو جانے کے بعد پیدا ہوا ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں۔ 

(7) نابالغ شخص: اگر کسی نا بالغ کی ملکیت میں خود اپنا مال ہو، جس پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو اس کا وارث اسی کے مال سے اس کا صدقہ فطرادا کرے۔اس صورت میں اپنے ما ل سے دینا واجب نہیں۔

(8)رشتہ داروں کو صدقہ فطر:جن رشتہ داروں کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر دینا جائز ہے ان کو دینے سے دہرا ثواب ہوتا ہے۔ 

(9) غریب نوکروں کو ادائیگی: اپنے غریب نوکروں کو بھی زکوٰۃ اور صد قہ فطر دیا جا سکتا ہے،مگر ان کی تنخواہ میں لگانا درست نہیں۔

(10) دیگررشتہ داروں کو ادائیگی: اپنی اولاد کو یا ماں  باپ اور نانا نانی،دادا دادی کو زکوۃ اور صدقہ فطر نہیں دے سکتے البتہ دوسرے دشتہ داروں مثلاً بھائی، بہن،چچا، ماموں، خالہ وغیرہ کو دے سکتے ہیں۔شوہر بیوی کو، بیوی شوہر کوبھی صدقہ فطر ادا نہیں کر سکتی ہے۔

(11) کن کو دینا جائز نہیں: جس پر زکوٰۃ خود واجب ہو یا زکوٰۃ واجب ہونے کے بقدراس اس کے پاس مال ہویا ضرورت سے زائد سامان ہو جس کے وجہ سے صدقہ فطرواجب ہو جاتا ہے۔ تو ایسے شخص کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں، جس کی حیثیت اس سے کم ہو شریعت کے نزدیک اسے فقیر کہا جاتا ہے اسے زکوٰۃ اور فطر دے سکتے ہیں۔

(12) ایک ہی محتاج کو دینا: صدقہ فطر ایک محتاج کو دے دینا یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی محتاجوں کو دے دینا دونوں صورتیں جائز ہیں اور یہ بھی جائز ہے کہ چند آدمیوں کا صدقہ ہی ایک محتاج کو دے دیا جائے۔

(13) روزے نہ رکھنے کی صورت میں بھی ادائیگی ہے: اگر کسی بالغ مرد عورت نے کسی وجہ سے روزے نہ رکھے تب بھی صدقہ فطر کا نصاب ہونے پر صدقہ فطر کی ادئیگی واجب ہے۔

(14) متبادل جنس: صدقہ فطر میں جو، گیہوں یاکوئی اور متبادل جنس نقد قیمت بھی دی جاسکتی ہے، بلکہ اس کا دینا افضل ہے۔

مزید :

رائے -کالم -