وزیر اعظم عمران خان کا دورہ کامیاب ہو گیا،ولی عہد نے دورہ پاکستان کی دعوات بھی قبول کر لی!

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ کامیاب ہو گیا،ولی عہد نے دورہ پاکستان کی دعوات ...

  

 باجوہ ڈاکٹرائن،جنرل باجوہ نے قائدانہ  کردار ادا کیا،سعودی عرب سے تعلقات بحال، ماحول خوشگوار!

افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کی اہم حیثیت پھر تسلیم کر لی گئی!

 سیاسی ڈائری اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں پاکستان کو درپیش خارجہ امور کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے حوالے سے غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں اس ضمن میں سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہ صرف قائدانہ اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ انتہائی متحرک انداز میں خطے میں دوست ممالک کے ساتھ اس انداز میں دفاعی سفارت کاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس سے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو اقتصادی ثمرات سمیٹنے کے مواقع بھی مل رہے ہیں۔ اگرچہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے چوٹی کے عسکری رفقائے کار پس پردہ بھی اور سامنے بھی خارجہ امور کے محاذ پر وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل نظر آتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ غیر معمولی طور پر متحرک نظر آ رہے ہیں۔ پاک بھارت کنٹرول لائن پر عرصہ دراز سے جاری کشیدگی اور بھارتی اشتعال انگیزیوں کو لگام دینے کے لئے ”سیز فائر“ بھی انہی کی کوششوں کا ثمر ہے جبکہ ان دنوں انہوں نے بھارت کے ساتھ با معنی ا ور با مقصد مذاکرات کے آغاز کے لئے لچک کا بھی مظاہرہ کیا تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی کا راستہ ہموار ہو سکے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں حالیہ گرمجوشی بھی آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جبکہ پاکستان کے دیرینہ اور برادر دوست سعودی عرب کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی بعض پالیسیوں کے باعث جو ایک سرد مہری پیدا ہو گئی تھی اور ایک ڈیڈ لاک کی سی کیفیت  تھی اس میں بریک تھرو بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس برف پگھلنے کے کچھ عوامل عالمی اور خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں پر بھی منحصر ہیں۔ در حقیقت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں سے ہی وزیر اعظم عمران خان اور سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے درمیان گاڑی چھننے لگی تھی لیکن بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 270 کی تنسیخ اور ظالمانہ اقدامات کے بعد او آئی سی کی جانب سے پاکستان کی توقعات کے مطابق ردعمل نہ آنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فرط جذبات سے معمور ہو کر جس انداز میں او آئی سی پر تنقید کی  شاید سفارتی آداب کے مطابق نہ تھی۔ مزید ازاں پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کی امنگوں کے مطابق ترکی اور ملائشیا کے ہم رکاب ہو کر ایک نئے اسلامی بلاک کے قیام کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے جبکہ ترکی اور سعودی عرب کی باہم حالیہ رنجش اور رقابت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جذبات کی رو میں بہہ کر اس تلخ حقیقت کو بھی نظر اندار کر دیا گیا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں 25 لاکھ سے زائد تارکین وطن موجود ہیں جو سالانہ 12 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملک بھیجتے ہیں یہ رقم پاکستان کے بجٹ اور خزانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مزید براں 25  لاکھ افراد 25 لاکھ خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب   میں یمن میں پاکستانی فوج نہ بھجوانے اور اپنی اس درخواست کو پاکستان کی داخلی سیاست کی بھینٹ چڑھانے پر بھی نالاں تھا پاکستان جو معاشی لحاظ سے سعودی عرب کا مرہون منت ہے اس کی جانب سے سعودی عرب اور ایران کی ثالثی کے لئے پیش کش، تجاویز یا کوششوں پر بھی خوش نہیں تھا جس کیو جہ سے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے دورے پر جو وعدے وعید ہوئے تھے سعودی سرد مہری کا شکار ہو گئے اور تمام مشترکہ منصوبے کھٹائی میں پڑ گئے لیکن عالمی سطح پر جوبائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے سے سعودی شاہی خاندان اور سابق امریکی صدر ٹرمپ کے مابین جو انتہائی غیر معمولی انڈر سٹینڈنگ پیدا ہو گئی تھی اسے خاصا دھچکہ لگا جبکہ دوسری جانب پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں اینڈ گیم اپنے فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو گئی تھی سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے بھی افغانستان میں سٹریٹجک مفادات ہیں شاید امریکہ اور سعودی عرب دونوں اس بات کے خواہاں تھے کہ پاکستان، ہندوستان کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد سے بے نیاز ہو کر اپنی پوری توجہ افغان امن عمل میں اپنے کردار پر مرکوز کرے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی آمد اور افغان عمل کا فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونا، ان دو عوامل نے کنٹرول لائن پر کشیدگی میں کمی اور سیز فائر اور سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ قربت کے لئے راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاہم یہ کریڈٹ ملک کی عسکری قیادت کو جاتا ہے جس نے ان اہم ترین مواقع کا نہ صرف بروقت ادراک کیا بلکہ اس کے ثمرات بھی سمیٹ لئے۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سعودی عرب سے وطن واپس آتے ہی ان سے برطانوی افواج کے سربراہ جنرل سرنیکولس پیٹرک نے  تفصیلی ملاقات کی اس کے بعد آرمی چیف اگلے دن ہی افغانستان کے دورہ پر چلے گئے ان کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید بھی تھے۔ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے اہم ترین ملاقاتیں کیں ان ملاقاتوں میں برطانوی جنرل سرنیکولس پیٹرک بھی موجود تھے اب دیکھنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو فورس طالبان اور افغان حکومت کے درمیان یہ ثالثی کس طرح امن عمل کو نتیجہ خیز بناتی ہے، جبکہ اس میں پاکستان کی حیثیت اپنی اہم جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے غیر معمولی ہے،اور پاکستان ایک سہولت کار کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا یہ سارا پس منظر بھی ہے اور پیش منظر بھی۔ اگرچہ کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے ایک طویل عرصہ کی خاموشی کے بعد غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم عمران خان کو غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا جس کی راہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے دورہ سعودی عرب میں استوار کر چکے تھے۔ مشترکہ اعلامیہ میں محمد بن سلمان کی جانب سے اپنے وژن 2030ء کے تحت پاکستان کے لئے بہت سے معاشی ثمرات گنوائے گئے اور 500 ملین ڈالر کے ایک ترقیاتی فنڈ کا بھی اعلان کیا گیا جو کہ ایک خوش آئند پیش قدمی ہے لیکن سعودی آئل ریفائنری پاکستان میں لگانے کے حوالے سے کوئی فالو اپ سامنے نہیں آیا اور مسئلہ کشمیر کے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل پر اتفاق تو کیا گیا لیکن بھارت کے کشمیر کی آزادانہ حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا جبکہ فلسطین میں حالیہ صہیونی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت بھی نہیں کی گئی اور نہ ہی فرانس کے توہین رسالت کے حوالے سے رویہ پر کوئی ردعمل دیا گیا در حقیقت خارجہ امور جذبات کے نہیں، بلکہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں، ہمیں بھی جذبات سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -