قادر مندو خیل دوبارہ گنتی میں بھی جیت گئے

قادر مندو خیل دوبارہ گنتی میں بھی جیت گئے

  

بلاول بھٹو کی  انصافی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سخت تنقید،ناصر شاہ نے مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں چلنے پر عمران کی تعریف کر دی

لاک ڈاؤن عید پر بھی ہو گا،تاجروں نے طویل بندش کی مخالفت کی،بنک کیوں اتنے روز بند کئے؟ 

ڈائری۔ کراچی۔ مبشر میر

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کے دورہئ سعودی عرب کے موقع پر سخت تنقید کی، انہو ں نے کہا کہ غربت بڑھ رہی ہے اور لوگ روزانہ خودکشیاں کررہے ہیں۔ حکومت کی اقتصادی پالیسی قطعی ناکام  ہو چکی ہے،حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کے دوسرے بڑے صوبے کے حکمران بھی تمام مسائل کی وجہ صرف وفاقی حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔  چاہیے تو یہ تھا  کہ ان کے اپنے 13 سالہ اقتدار میں کیے گئے عوامی فلاح کے کام پر عوام دادِ تحسین پیش کرتے، لیکن جو تنقید وہ وفاقی حکومت پر کررہے ہیں ویسی ہی تنقید کا سامنا ان کی پارٹی حکومت کو بھی ہے۔ دیگر تمام سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر کراچی کے عوام پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔  اب انہوں نے این اے 249 کی نشست حاصل کرکے یہ دعوی بھی کردیا ہے کہ کراچی کے عوام نے ہماری پارٹی پر اعتماد کرنا شروع کردیا ہے۔ دراصل کراچی کے عوام انگشت بدنداں ہیں کہ یہ کیسے ہوگیا؟ 

پاکستان میں جمہوریت اور سیاست کا عالم یہ ہوگیا ہے کہ سیاسی جلسہ اور ریلی کی تعداد دیکھ کر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ شرکاء جلسہ نظریاتی طور پر اسی پارٹی کے کارکن ہیں، ہر پارٹی اخراجات کی بنیاد پر کامیاب جلسہ اور ریلی منعقد کرسکتی ہے، ایسے اجتماعات میں لوگ کرایہ پر حاصل کیے جاتے ہیں۔ نشتر پارک کراچی، موچی دروازہ لاہور یا لیاقت باغ راولپنڈی ہو، اگر بجٹ اجازت دے تو چھوٹی موٹی پارٹی بھی مناسب تعداد میں جلسہ منعقد کرسکتی ہیں۔ گویا سیاسی نظام میں معاشی بدحالی کی وجہ سے ہماری نظریاتی سیاست تباہ ہوئی ہے۔ جلسہ کے شرکاء اصلی نہیں ہوتے،  اور اب انتخابات پر سے  بھی عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہے۔ سیاسی عمل میں اس قدر بے اعتباری پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ 

تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید بلدیاتی الیکشن ہی ایسے الیکشن رہ گئے ہیں جن میں دھاندلی کے امکانات بہت ہی محدود ہوتے ہیں۔ امیدوار کیلئے حلقہ چھوٹا ہوتا ہے، ہیرا پھیری روکنا ممکن ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ بلدیاتی نظام پورے ملک میں قائم ہوجائے اور بلدیاتی نمائندوں کو الیکٹورل کالج کا درجہ دے دیا جائے۔ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک مہنگے ترین سیاسی نظام کا متحمل نہیں۔ الیکشن کے بعد ضمنی الیکشن بھی غیر ضروری مشق ہے۔ اس لیے انتخابی اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ مسئلے کی جڑ کو پکڑا جائے۔ 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے الیکٹرونک ووٹنگ کے طریقہئ انتخابات کو مسترد کردیا ہے۔ حیرت ہے سیاسی جماعتیں انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے گریزاں  ہیں؟۔ پی پی رہنما شیریں رحمان نے کہا ہے کہ صدراتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کوئی تکنیکی خامی نظر نہیں آرہی۔ اصلاحات کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی سے تعاون بھی نہیں کیا گیا۔ ایسا تاثر ہورہا ہے کہ سیاستدان شفاف انتخابات کے عمل میں خود ہی رکاوٹ ہیں۔ 

صدر مملکت نے ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر تحفظ والدین آرڈیننس بھی جاری کیا ہے۔ پاکستانی بینکوں میں اکاؤنٹ ہولڈر کے نام کے ساتھ ماں کا  نام بھی لکھا جاتا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اس آرڈیننس میں یہ شق بھی شامل کردی جاتی کہ قومی شناختی کارڈ پر بھی ہر کسی کے نام کے ساتھ ”ماں“ کا نام بھی لکھا جائے گا۔ 

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کے دورہئ سعودی عرب کے دوران تنقیدی بیان جاری کیا وہاں ان کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے وزیراعظم عمران خان کی تعریف بھی کردی، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ مدینہ منورہ میں عمران خان کا ننگے پاؤں چلنا عقیدت کا بہترین اظہار ہے۔ 

سندھ حکومت نے رمضان کے آخری عشرے کے آخری ایام اور عیدالفطر کے موقع پر لاک ڈاؤن کے سخت ایس او پیز متعارف کروائے ہیں۔ تاجر برادری نے اتنی زیادہ تعطیلات پر حکومت پر سخت تنقید کی ہے، کم از کم کمرشل بینکوں کو اتنی تعطیلات نہیں کرنی چاہئیں تھی۔ 

وزیراعظم عمران خان اور دیگر وفاقی وزراء، وزیراعظم کے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں۔ صوبہ سندھ ابھی تک اس پروجیکٹ سے محروم ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ زمینوں کے فیصلے پچاس برس میں بھی انجام کو نہیں پہنچتے، عدالتی نظام میں کئی مسائل کی وجہ سے لاکھوں مقدمات زیرالتواء ہیں، حکومت کو چاہیے کہ املاک کے مقدمات کے جلد فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کیلئے ایک علیحدہ کمیشن تشکیل دے جہاں روایتی عدالتی مسائل سے ہٹ کر عوام کو ان مسائل سے نجات دلائی جاسکے۔

حلقہ این اے 249 میں دوبارہ گنتی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کے ووٹ بڑھ گئے ہیں اور مسلم لیگ ن کے امیدوار مفتاح اسماعیل کے ووٹ مزید کم ہوگئے ہیں۔ نتیجہ تو وہی ہے لیکن یہ ثابت ہوگیا کہ پہلے والی گنتی درست نہیں تھی۔ تحریک انصاف نے این اے 249 میں دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ 

تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے 18ویں ترمیم کو ہدف تنقید بنایا ہے ان کے خیال میں اس کا فائدہ آصف علی زرداری کو ہوا جبکہ صوبہ سندھ نقصان میں چلا گیا۔ یہی حال ہر صوبے کے ساتھ ہورہا ہے، سیاسی اشرافیہ فوائد حاصل کررہی ہے لیکن عوام بدحال ہورہے ہیں، وسائل کی تقسیم درست نہیں۔ رمضان المبارک میں لوگ اپنی دعاؤں میں رب رحیم سے کشادگی رزق کی التجا کرتے ہیں، یقینا اللہ سب کی دعا قبول کرنے والا ہے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غربت دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کی وجہ سے جنم لیتی ہے، اگر صوبے، وفاق سے وسائل لے کر منصفانہ طور پر تقسیم نہیں کررہے تو غربت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ سندھ میں تو کتوں نے عوام کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس پر سخت ایکشن لیا ہے، انتظامیہ کو سخت اقدامات کرنے کی تنبیہ کی ہے اور لگاتار سرزنش کی جارہی ہے لیکن نتیجہ ابھی تک اچھا سامنے نہیں آیا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -