نئی رویت ہلال کمیٹی آج شہادتوں کی بنیاد پر عید الفطر کے چاند کا فیصلہ کرے گی!

نئی رویت ہلال کمیٹی آج شہادتوں کی بنیاد پر عید الفطر کے چاند کا فیصلہ کرے گی!

  

آج شب سے سستے رمضان بازار بند، ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند ہو گی

انتظامیہ اور حکومت بروقت فیصلے نہ کر سکی، مہنگائی نے عوام کو بے حال کر دیا

محمد شہباز شریف لندن نہ جا سکے، حکومتی وزراء اور لیگی راہنماؤں میں الفاظ کی جنگ

پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی قیادت مستعفی، راجہ پرویز اشرف چیف آرگنائزر 

لاہور سے چودھری خادم حسین

آج شب تک یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ عید الفطر کل (جمعرات) ہو گی یا پرسوں جمعہ کو شکرانہ کی دو رکعت ادا کی جائیں گی۔ سعودی  عرب اور مشرق وسطی کی ریاستوں میں طے شدہ امر کے مطابق عید کل (جمعرات) کو ہے۔ نئی روئیت ہلال کمیٹی کا یہ پہلا امتحان ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ عید پورے ملک میں ایک ہی روز ہو گی۔ رمضان المبارک کے چاند پر تو کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا، حتیٰ کہ مفتی پوپلزئی کی روئیت ہلال کمیٹی بھی خاموش رہی۔ البتہ مغربی سرحدوں کے بعض قبائل نے روائتی طور پر سعودی عرب کی پیروی کی سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات نے بہر حال یہی بتایا ہے کہ ہمارے خطے پاکستان، بھارت اور برما میں بدھ کو چاند نظر آنے کا امکان بہت ہی کم ہے البتہ جمعرات کو بہت واضح طور پر دیکھا جا سکے گا اور عید 14 مئی جمعہ کو ہو گی بہر حال حقیقی بات وہ مانی جائے گی جو مرکزی روئیت ہلال کمیٹی والی ہو گی۔

رمضان المبارک کا اختتام ہے دنیا بھر میں مسلمانوں نے روزوں کا فریضہ ادا کیا لیکن یہ معمول کے حالات کے مطابق نہیں تھا۔ کورونا کی تیسری لہر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے پاکستان بھی شدید متاثر ہے اور یہاں 16 مئی تک لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، بھائی لوگوں نے اس کے باوجود روزے رکھ کر معمول کے مطابق ماتھے محراب اور ہاتھ میں تسبیح والے تاجر بھائیوں نے ممکنہ حد تک مہنگائی  کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے، صورت حال یہ ہے کہ پھل نصیبوں والوں نے ہی کھائے اور چینی کے لئے روزانہ دھکے بھی کھائے گئے۔ اشیاء خوردنی اور ضرورت کی مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ مرغی (برائلر) کا گوشت مختلف شہروں میں 407 روپے فی کلو سے 470 روپے فی کلو تک بیچا گیا۔ گزشتہ روز بکرے کے گوشت کے نرخ پندرہ سو روپے فی کلو ہو گئے۔ جو اتوار تک چودہ سو روپے تھے۔ یکایک ایک سو روپے فی کلو کا اضافہ کیا گیا۔ ایسا ہی حال گائے کے گوشت کا بھی تھا۔ انتظامیہ قیمتوں پر قابو پانے میں قطعی ناکام ہو گئی اور چند پرچون فروشوں کو پکڑ کر جرمانے کئے، لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہ دے سکے۔ بعض علاقوں میں دوکان داروں اور گاہکوں کے درمیان تکرار بھی ہوئی۔ حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی دی۔ وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو رقوم دے کر لوگوں کو سہولت بہم پہنچانے کے لئے کہا لیکن یہ ناکام رہے۔ اسی طرح رمضان بازار بھی اچھا تاثر نہ بنا سکے نہ تو اشیا سستی ملیں اور نہ ہی اشیاء خوردنی کا معیار بہتر تھا حکومت پنجاب نے یہ سلسلہ ختم کر دیا، یہ بازار پیر کی شب کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ اربوں روپے کی سبسڈی سے عوام کو کیا فائدہ ہوا یہ صارفین ہی بتا سکتے ہیں جو ایک کلو چینی کے لئے سارا دن قطاروں میں پسینہ بہاتے رہے ہیں۔ اس سبسڈی کا حساب کون دے گا؟ اللہ ہی جانتا ہے۔

کورونا کے حوالے سے بھی حکومت مخمصے ہی کا شکار رہی 8 سے 16 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ اور اعلان کیا تاہم اس پر بھی قائم نہ رہ سکی۔ انٹر سٹی اور انٹر پرونشل ٹرانسپورٹ کو ایک ایک روز بڑھا کر اجازت دی گئی۔ جو گزشتہ شب ختم ہو گئی اور اب 16  مئی تک بند کی گئی۔ ایسا ممکن نہ ہوسکے گا کہ جو حضرات اپنے اپنے آبائی گھروں کو گئے ہیں ان کو کام کاج اور ڈیوٹیوں پر بھی آنا ہوگا۔ اس لئے حکومت کو ٹرانسپورٹ کی اجازت ایک روز قبل سے دینا ہو گی جبکہ عید پر چلنے والی خصوصی مسافر ریل گاڑیوں کا پہیہ چلتا رہے گا۔ اس سلسلے کا فیصلہ تاخیر سے کیاگیا جس کی وجہ سے شہری پریشان ہوئے ہیں۔

کورونا،عید اور شدید ترین مہنگائی کے دوران بھی سیاست ہوتی رہی پیپلزپارٹی کی وسطی صوبہ پنجاب کی ٹیم نے اپنی ناکامی بالواسطہ طور پر قبول کی اور صدر قمر زمان کائرہ اور جنرل سیکریٹری منظور چودھری سمیت سب عہدیدار مستعفی ہو گئے۔ نئی تنظیم سازی کے لئے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو چیف آرگنائزر بنا کر یہ ہدایت کی گئی کہ وہ وسیع تر مشاورت کے بعد تنظیم سازی کے لئے اپنی سفارشات پیش کریں دلچسپ امر یہ ہے کہ پی پی 248 کے ضمنی انتخاب میں پی پی کے امیدوار کو 236 ووٹ ملے۔ اس امیدوار کی الیکشن میں شرکت سے نہ صرف بلاول بھٹو بے خبر تھے۔ بلکہ سینئر وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے اعتراف کیا کہ ان کو بھی علم نہیں تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر قائد حزب اختلاف (قومی) محمد شہباز شریف لندن جاتے جاتے رہ گئے وہ عدالت عالیہ سے اجازت لے کر جا رہے تھے کہ ایئرپورٹ سے امیگریشن حکام نے انہیں واپس کر دیا اب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ عید کی چھٹیوں کے باعث عدالتوں میں بھی کام نہیں ہو رہا۔ اب یہ معاملہ ایک بار پھر 16 مئی کے بعد عدالتوں ہی میں جائے گا۔ شہباز شریف کے مطابق وہ اپنے چیک اپ کے لئے جا رہے تھے۔ جبکہ حکومت فرار کی کوشش کا الزام لگا رہی ہے بہر حال محمد شہباز شریف کی یہ روانگی بہت اہم ہے بڑے بھائی کے ساتھ طویل مشاورت کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل کے لئے سیاسی تگ و دو کے معیار طے کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں میڈیا میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -