عید،اقلیتی برادری میں جوش وخروش، پکوان بنانے کی تیاریاں 

عید،اقلیتی برادری میں جوش وخروش، پکوان بنانے کی تیاریاں 

  

ملتان (سٹی رپورٹر) کروناکے ساتھ ساتھ عید کی تیاریاں بھی عروج پر، پہنچ گئی ہیں پاکستان میں بسنے والی اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی، اقلیتی خواتین نے کرونا ایس او پیز کے تحت بازار بند ہوسے قبل نئے کپڑ ے، جوتے، مہندی اور (بقیہ نمبر10صفحہ6پر)

چوڑیاں خرید لی ہیں بچوں کے کھلونے پڑوسی مسلم بچوں میں عیدی دینے کے لئے نئے نوٹ اور عید کے روز طرح طرح کے پکوان بنانے کی بھی تیاریاں مکمل کر لی ہیں تفصیل کے مطابق پاکستان کے مختلف شہریوں میں 98لاکھ سے زائد اقلیتی کمیونٹی آباد ہے جس میں ہندو، مسیحی، سکھ، سمیت دیگر شامل ہیں پاکستان میں بسنے والی یہ اقلیتی کمیونٹی اپنے اپنے مذہبی تہواروں کرسمس، ایسٹر، ہولی، دیوالی، بابا گرونانک کا جنم، کے علاوہ مسلم کمیونٹی کے تہوار، عید الفطر، عید الاضحی، شب برات، محرم الحرام، اولیاء کرام کے عرس کے تقریبا ت سمیت دیگر تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خصوصی طور پر عید الفطر اور عید الاضحی کی خصوصی تیاریاں کی جاتی ہیں جس کیلئے ان اقلیتی کمیونٹی کے بچے، نوجوان اور خواتین نئے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوس میں رہنے والے مسلم افرادکے گھروں میں جا کر مبارکبادیں پیش کرتی ہیں ملتان اقلیتی کمیونٹی کے اکثریتی آبادی والے علاقوں ڈبل پھاٹک چوک، نقشبندی کالونی، جمیل آباد، گلزارٹاؤ ن، لاسال کالونی، باغ لانگے خان، سعید کالونی، لوئس کالونی، سمیت دیگر علاقوں میں عید کے موقع پر خصوصی تقریبات بھی منعقدہوتی ہیں جس میں مسلم کمیونٹی کے دوستوں کو بلا کر عید کیک کاٹے جاتے ہیں اس حوالے گفتگو کرتے ہوئے اقلیتی رہنماؤ ں شکنتلہ دیوی، مسرت غنی، ہائی سینٹ پیٹر، پادری نعیم جاوید، ڈاکٹر لیاقت رشید نے کہاہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہمیں اس سے پیار ہے پاکستان میں رہتے ہوئے جہاں ہم اپنے مذہبی مذہبی تہوار مناتے ہیں ا س کے ساتھ ساتھ اپنے مسلم بھائیوں کے مذہبی تہوار وں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں انہوں نے جب عید آتی ہے تو ہم بھی اس کے لئے خصوصی تیاریا کرتے ہیں گھروں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ اپنے مسلم دوستوں کے گھروں میں جاکر مبارکبا دیتے ہیں انہوں نے کہاہے کہ عید کے موقع پر جب سارے بچے نئے کپڑے پہتے ہیں تو ہمارے بچے بھی ہم سے نئے کپڑوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور ہم خوشی سے بچوں کی عید کی شاپنگ کرواتے ہیں اقلیتی کمیونٹی کے بچوں ایشان جاوید، مہک دیوی، ایلکا سہوترے، سطریخ سنگھ اور امن پیٹر، نے کہاہے کہ ہم نے عید کی تیاری مکمل کر لی ہے بس کچھ چیزیں رہ گئی ہیں وہ چاند رات کولے لیں گے انہوں نے کہاہے کہ جب پاکستان میں رہنے والے تمام لوگ مناتے ہیں توہم بھی نئے کپڑے اور عید کی شاپنگ کرتے ہیں پھر ہم عید والے دن اپنے دوستوں کے گھر جاکر کھیر کھاتے ہیں انہوں نے کہاہے کہ اپنے تہواروں میں بھی ہمیں نئے کپڑے بنتے ہیں مہک دیوی اور ایلکار سہوترے نے کہاہے کہ ہم عید کے روز اپنی کلاس فیلو مسلم دوستوں کو گھروں میں جاکر عید کی خوشیوں مناتے ہیں اور جب ہمارے تہوار ہوتے ہیں تو وہ بھی ہمارے گھر آتے ہیں انہوں نے کہاہے کہ بازار بند ہونے کی وجہ سے کچھ چیزیں خرید نہیں سکیں ہیں باقی شاپنگ پہلے ہی مکمل کر لی تھی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم ایکشن اگینسٹ پاورٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری سرفراز کلیمنٹ نے کہاہے کہ عید کی چھٹیوں میں مسیحی نوجوانوں کے مابین ان ڈور گیمز کے مقابلے جات کرائیں جائیں گے جس میں اول دوئم سوئم آنے والے نوجوانوں میں انعامات تقسیم کئے جائیں گے اس سلسلے میں انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں گیمز کے مقابلہ جات کا آغاز چاند رات سے لاسال کالونی میں ہو گا انہوں نے کہاہے کہ عیدکی چھٹیوں میں مسیحی نوجوان دفاتر، سکول، سمیت دیگر اداروں میں تین دنوں کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے اکیلے پن کا چکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بوریت محسوس کرتے ہیں نوجوانوں کو ان چھٹیوں میں مصروف رکھنے کے لئے سماجی تنظیم ایکشن اگینٹ پاورٹی  نے ان ڈور گیمز کے مقابلے جات تشکیل دیئے ہیں جس میں کیرم بورڈ، لڈو، بیڈ منٹن، سمیت دیگر گیمیں شامل ہیں ان گیمز کا آغاز چاند رات سے کیا جائے گا۔

تیاریاں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -