ڈرگ مافیا متحد، ادویات قیمتوں میں کئی گنااضافہ، غریبوں کی سانسیں بند

ڈرگ مافیا متحد، ادویات قیمتوں میں کئی گنااضافہ، غریبوں کی سانسیں بند

  

سیت پور (نمائندہ خصوصی)ادویات کی قیمتوں میں بے تحا شہ اضافہ  ہوگیا ڈریپ ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام۔محکمہ صحت کے اعلی افسران دفتر (بقیہ نمبر28صفحہ6پر)

تک محدود۔ تفصیل کے مطابق آئے روز ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ادویات غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ سب ڈرگ مافیاز کی کارستانی ہے۔ ڈریپ اسکو لگام ڈالنے میں بظاہر ناکام نظر آرہا ہے۔ جسکی وجہ سے ایک منظم سازش کے تحت آئے روز ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اور غریب علاج معالجے سے بھی محروم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تبدیلی سرکار کے نااہل حکمرانوں نے پورے ملک کے دو اہم شعبوں صحت اور تعلیم میں پچاس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ایک طرف مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ دوسری طرف اگر کسی غریب کا  بچہ بیمار پڑ جائے۔تو ادویات اسکی پہنچ سے دور کر دی ہیں۔ دوسری طرف دو نمبر ادویات اگر سستی ہیں۔ اگر بیماری کا حملہ شدید ہو۔تو یہی دو نمبر ادویات کھا کر اپنی بیماری کو مذید پیچیدہ بنا بیٹھتا ہے۔ اور آخر کار موت کی پر سکون وادی میں جا پہنچتا ہے۔ لیکن اصل اور معیاری ادویات نہ وہ خرید سکتا ہے۔ اور نہ وہ خریدنے کا سوچ سکتا ہے۔ کیونکہ اسے تو ادویات کے بارے میں کیا علم۔ہے  کیا اصل اور کیا دو نمبر ادویات ہیں۔ وہ تو ڈاکٹر کی صوابدید پر اپنی زندگی کو چھوڑتا ہے۔ یا وہ عطائیوں جو معاشرے میں جگہ جگہ بیٹھے  ہیں۔ اور حکومت ان  کو ڈھونڈ نے  میں ناکام نظر آتی ہے۔ کیونکہ وہ افسروں کو ماہانہ بھتہ جو دیتے ہیں۔ جس سے آگے یہی افسران سب اوکے کی رپورٹ اوپر بجھواتے ہیں۔ غریب کی کسی بھی محکمے میں شنوائی نہیں ہوتی۔ غریب ہر جگہ لٹ رہا ہے۔ پس رہا ہے۔ اور غریب تر ہو رہا ہے۔ امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ اب یہ محکمہ ڈریپ کا فرض بنتا ہے کہ معیاری ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرکے ہر غریب اور امیرکیلئیخریدنے میں آسان تر بنائے۔ اور دو نمبر ادویات یعنی جنکی ڈبہ پر یا سیرپ پر قیمت کچھ اور درج ہوتی ہے۔ اور وہ ملتی ون تھرڈ پرائس میں ہیں۔ ایسی ادویات کارزلٹ کیا ہوگا۔ کا ملک سے جلد از جلد خاتمہ کیا جائے۔ ہول سیل میڈیسن کی خریدو فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔صرف کمپنیز ڈارائکٹ اپنے لائسنس پر مال سپلائی کریں۔ اسطرح دو نمبر ادویات کا ملک سے خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔ میڈیکل سٹور یا فارمیسی کیلئے فارماسسٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ جو ادویات کے علم کو بخوبی جانتے ہیں۔اور مریض کو ادویات دینے اور اسے صحیح استعمال کرانے کے بارے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس سیمریض کو بہت جلد بیماری سے نجات مل سکتی ہے۔

اضافہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -