فلاحی اداروں نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے لاوارث بزرگوں کو تھام لیا 

فلاحی اداروں نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے لاوارث بزرگوں کو تھام لیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (سٹی رپورٹر)اولاد کا اپنے عمر رسیدہ والدین کو اولڈایج ہومز میں داخل کرنے کے رجحان میں اضافہ، ملتان سمیت صوبہ بھر میں موجود اولڈ ایج ہومز میں سینکڑوں بزرگ افراد اپنے پیاروں کے بغیر زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں ایدھی ہاؤس ملتان میں مقیم 400سے زائدبزرگ شہری بچے اور خواتین عید پراپنوں کی راہ تکنے لگے قسمت اورحالات کا شکاران افراد میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی دیکھ بھال کرنیوالا کوئی نہیں ہے جبکہ کئی ایسے (بقیہ نمبر37صفحہ7پر)
افراد بھی ہیں جن کی اولاد خود انہیں یہاں چھوڑگئی ہے۔ایدھی ہومز ملتان میں کئی ایسے لاوارث افراد بھی موجود جن کو سرکاری اداروں کو اہلکار چھوٹی سی عمر میں سڑکو ں پر ملنے کے باعث  15سال قبل چھوڑ کر گئے تھے لیکن ان کے اہل خانہ ٹریس نہ ہونے کہ وجہ سے اسی ادارے میں مقیم ہیں کئی بزرگ افراد کے اہل خانہ اور اولاد تک رسائی حاصل ہونے کے باوجود بچے والدین کو ملنے تک نہیں آئے ایدھی ہومز میں موجود بزرگ افراد،خواتین اور بچوں نے ایک دوسرے کو سہارہ دینے کے لئے آپس میں عارضی رشتے قائم کئے ہوئے ہیں ان ہی عارضی رشتوں کے تحت ایک دوسرے چاچا، بابا جی، بھائی، چھوٹے، منا، کہہ کر پکارتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں کام آنے کی کوشش کر تے ہیں بزرگ افرا د چھوٹے بچوں کو اپنے بیٹوں کی طرح جبکہ بچے بزرگوں کا والد کادرجہ دیکر ایک دوسرے کا احترام اور وقت پاس کرتے ہیں ملتان کے ایدھی ہومز میں دو سال سے مقیم60سالہ ساجد حسین نے کہاہے کہ اس کے دوبیٹے چائنہ میں جبکہ بیوی لاہور میں اپنے بھائیوں کے ساتھ میرے ذاتی مکان میں رہتی ہے میں ایم ایس سی سائیکالوجسٹ ہوں ریلوے کے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ میں تھا بیماری کی وجہ سے گھر میں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ایدھی ہومز میں آگیا تھااتنے عرصے میں کبھی بچوں نے یاد نہیں کیا اب تو بس زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں 65سالہ خوشی محمد نے کہاہے کہ تین سالوں سے ایدھی ہوم میں رہتا ہوں تین بچے ہیں تینوں لاہور میں ہوتے ہیں بیٹے کے کاروبا ر میں نقصا ن آنے کی وجہ سے میں ملتان آگیا تھا یہاں پر کام کرکے اپنا پیٹ پالتارہا تین سال قبل طبیعت خراب ہونے والے مالک ایدھی ہومز  چھوڑ گئے اب یہی میرا مسکن ہے ایدھی ہومز والے نے میرے بیٹوں سے رابطہ کیا تھا انہوں نے کہاہے کہ ہم ان کو لے جائیں گے لیکن آج تک دوبارہ نہیں آئے بلکہ ان کے نمبر بھی اس دن سے بندہے 55سالہ محمد ارشد نے کہاہے کہ میرے 6بچے ہیں میں ایک سال سے ایدھی سنٹر میں رہ رہاہوں میرے بچوں نے کبھی میرے یاد نہی کیا لیکن مجھے اپنے بچے بہت یاد آتے ہیں ملتان کے رہائشی محمد اشرف نے کہاہے کہ گھر میں لڑائیوں کی وجہ سے میں میری بہن نے مجھے ایدھی ہومز میں داخل کر وادیا تھا میری بہن اب بھی مجھے ملنے آتی ہے لیکن بچے کبھی ملنے نہیں آئے ایک سال سے یادوں کے سہارے جی رہا ہوں ایدھی ملتان میں ذہنی مریض درجنوں کی تعداد میں بچے موجود ہیں جن کو ان کے والدین خود ایدھی ہومز چھوڑ کر گئے تھے لیکن کئی کئی سال گزرنے کے باجود وہ اپنے بچوں کو ملنے یا ان کی خیریت تک پوچھنے نہیں آئے 13سالہ بچہ عمران 8سا ل سے ایدھی ہوم میں رہائش پذیرہے لاہور سے تعلق رکھنے والا شان دو سال سے، لاہور سے تعلق رکھنے والا عبد اللہ 4ماہ سے، مزمل ایک سال، سے علی حسن اور وقاص دو سال سے، معز ایک سال سے محمد آصف دوسال سے، اور علاج نامی بچہ تین سالوں سے ایدھی سنٹر میں رہائش پزیر ہیں ان بچو ں کے والدین کو بار بار تلاش کرنے کے لئے باجود بچوں کے ورثاء تک کسی قسم کوکئی رسائی حاصل نہ ہونے کہ وجہ یہ بچے سال ہا سال سے ایدھی ہوم میں رہنے پر مجبور ہیں ایدھی ہومز میں مقیم بزرگوں کا کہنا تھا کہ انہیں عید پرنئے کپڑے اورجوتے ادارے کی طرف سے اورمخیرحضرات کی طرف سے مل گئے ہیں، اس طرح کے کپڑے اور جوتے شاید ان کی اپنی اولاد بھی نہ خرید کردیتی۔ کئی لوگ عیدی بھی دے کرگئے۔
تلخ یادیں