لودھراں، مبینہ جعلی پیروں کی لسٹ  سوشل میڈیا پر وائرل، فہرست غلط یا  صحیح، عوامی حلقوں میں چہ مگوئیاں،اعلی  حکام سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ

لودھراں، مبینہ جعلی پیروں کی لسٹ  سوشل میڈیا پر وائرل، فہرست غلط یا  صحیح، ...

  

 لودھراں (بیوررپورٹ)  سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تینوں تحصیلوں میں موجود  مبینہ جعلی پیروں کی لسٹ (بقیہ نمبر48صفحہ6پر)

کس نے جاری کی لسٹ کی شفافیت بارے کئی سوالات نے جنم لے لیا لسٹ میں فوت ہونے والے افراد۔ سرکاری ملازمین۔  اور ایک عرصہ سے ضلع سے باھر رھنے والے افراد کے نام بھی شامل۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی لسٹ کی شفافیت بارے عوامی سماجی حلقوں میں کئی سوالات جنم لینے لگے لسٹ کو ترتیب دینے کے حوالے سے کیا کوئی ادارہ ذمہ داری قبول کرے گا۔۔؟ اس بارے ابھی کچھ نہیں بتایا جا سکتا  تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا اور مختلف سوشل گروپ میں جعلی پیر تھانہ وائز لسٹ وائرل کی گئی ہے جس میں مختلف پیروں کے نام درج کیے گئے ہیں اور اس لسٹ میں نمبر شمار کے ساتھ 75 لوگوں کے نام درج ہیں نام معہ اڈریس اور جعلی پیر تھانہ کی حدود درج ھے اور آگے ریمارکس کے خانے میں تین چار کے علاوہ تمام کے خانے خالی ہیں ان میں لودہراں شہر کے ایک بابو پیر کا نام درج کیا گیا ھے جو تین سال قبل وفات پا گیا ہے جبکہ دو مسیح پیروں کے نام درج ہیں ان میں سے ایک صوبہ سے باہر سی پیک کمپنی میں کام کرتا ہے اور پچھلے چار سال سے وہیں کام کر رہا ھے جبکہ دوسرا سلیم نامی شخص میونسپل کمیٹی میں ملازم ھے شوگر کا مریض ھے اور آنکھوں سے کم دکھائی دیتا ھے مذید یہ کہ کچھ سال قبل بیان حلفی جمع کروا چکا ھے کہ وہ اس قسم کا کوئی کام نہیں کرتا اس بیان حلفی پر اس کی ضمانت منظور ہوگء ھے اسی طرح دوسرے بھی کئی خاندانی معززین کے نام بھی درج کیے گئے ہیں جو کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ میں شامل نہ ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی درخواست کسی بھی تھانہ میں جمع نہ ھے لیکن اس لسٹ میں نمائیاں ہیں عوامی سماجی حلقوں نے اس لسٹ کی شفافیت پر کئی سوالات اٹھائے ہیں اس لسٹ کی آڑ میں ضلع بھر میں مخصوص بلیک میل گروپ ضلع بھر کے معززین کو تنگ کرنے کے در پے ہیں اور جعلی پیر کے نام شائع کروا کر اپنی منتھلی اور بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جبکہ بعض افراد نے بلیک میل کرنے والے افراد کے نام بھی بتائے ہیں اور ان کا کہنا ھے بلیک میل کرنے والے افراد کے نام بہت جلد میڈیا کو بتائے جائیں گے اور اعلی حکام تک بھی پہنچائے جائیں گے جو ان لسٹوں کو بنیاد بنا کر بلیک میل کر رہے ہیں۔

مطالبہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -