راکا پو شی اور التر گلیشئیر کے درمیان چکر لگاتی ہوا سرد تھی۔ ہوا ماتھے پر بو سہ دیتی تو سفید برفوں کی ٹھنڈ ک رگ و پے میں اترنے لگتی

راکا پو شی اور التر گلیشئیر کے درمیان چکر لگاتی ہوا سرد تھی۔ ہوا ماتھے پر بو ...
راکا پو شی اور التر گلیشئیر کے درمیان چکر لگاتی ہوا سرد تھی۔ ہوا ماتھے پر بو سہ دیتی تو سفید برفوں کی ٹھنڈ ک رگ و پے میں اترنے لگتی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :72

 ایک تصویر تھی (14اگست 2004):

 طاہر کچھ دیر سے ہنزہ آرٹ میوزیم نا می دکان کے باہر لگے تصویری پو سٹر کو غور سے دیکھ رہاتھا۔شام رات میں بدل چکی تھی۔ ہم کھانا کھانے کے بعد بازار میں گھوم رہے تھے جو بہت حد تک بے آباد تھا۔ آسمان پر بادل تھے اور راکاپو شی نگا ہوں سے اوجھل تھی۔ چھو ٹی چھوٹی بوندیں ہلکی بارش کی طرح گر رہی تھیں۔ پتھروں کی سڑک گیلی ہو کر دکانوں کے باہر لگے بجلی کے بلبوں کی زرد روشنی میں چمکتی تھی۔ راکا پو شی اور التر گلیشئیر کے درمیان چکر لگاتی ہوا سرد تھی۔ یہ ہوا میرے ماتھے پر بو سہ دیتی تو سفید برفوں کی ٹھنڈ ک رگ و پے میں اترنے لگتی۔ میں نے جیکٹ کی زِپ بند کر کے ہاتھ جیبوں میں ڈال لیے۔ اسی ہوا کے دوش پر علی آ باد کے سکول میں 14اگست کے حوالے سے ہونے والی تقریب کی آوازیں یہاں تک آرہی تھیں جس کی میزبانی داور منعیم خان کر رہا تھا جو مقامی سکول میں استاد ہو نے کے علاوہ ایک شاعر اور فلسفی بھی ہے۔اس نے ہمیں بھی تقریب میں مدعو کیا تھا لیکن ہم کاہلی اور تھکاوٹ کی وجہ سے نہ جا سکے تھے۔ طاہر اپنی جیکٹ نہیں لایاتھا اوراب سرد رات میں کریم آباد کے بازار میں کو ئی جیکٹ ڈھونڈنے نکلا تھا اور جیکٹ بھول کر ایک پُل کی تصویر کے سامنے حیرت سے خود تصویر بنا اسے دیکھتا تھا۔یہ ایک معلق پُل کی تصویر تھی۔ برف سے ڈھکے پہا ڑوں کے درمیان اور نیلے پا نیوں کے اوپر ایک وسیع خلا ءکو پا ٹتا ہوا ایک پُل ۔ لکڑی کے تختوں سے بنا پُل کافی خطرناک دکھائی دیتا تھا۔ ٹیڑھے میڑھے تختے ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بے تر تیبی سے لگے ہوئے تھے جنہیں آ ہنی رسوں سے قا بو کیا گیا تھا۔پل کے اطراف کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی۔ لوہے کے ڈھیلے سے رسے تھے اورایک بو ڑھی عورت کمر پر ایندھن یا چارہ اٹھائے اسے عبور کر رہی تھی۔تصویر خوبصورت اور پُل کا فی challenging لگتا تھا۔میں بھی کچھ لمحے اس تصویر کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھتا رہا۔ پھر طاہر سے پوچھا، ”ہوں۔۔۔ کیا دیکھ رہے ہو؟“

”یہ پُل کہاں ہے؟“ طاہر نے خود کلامی کے انداز میں آہستہ سے سوال کیا۔

میں نے ذرا قریب ہوکر پو سٹر کے نچلے کو نے میں درج تفصیل پڑھی۔ 

”پسُوبریج (Passu Bridge )لکھا ہے۔“

”پسو بریج کہاں ہے؟“ طاہر نے اگلا سوال کیا۔

”پوچھ لیتے ہیں کسی سے۔“ میں نے کہا۔

اگلی صبح ہم نے سوست جانا تھا اس لیے یہ جاننے کےلئے کہ پسوپل کہاں ہے، اسی دکاندار سے رابطہ کیاجس کی دکان کے باہر پسو پُل کی تصویر آویزاں تھی۔میرے سوال کہ ”پسو پُل کہاں ہے؟“کے جواب میں اس نے مختصرا ً کہا۔”پسو میں۔“

 اس جواب کےلئے ہمیں اس کا احسان اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ مزید پتا یہ چلا کہ پسو بھی سوست ہی کے راستے میں پڑتا ہے اس لیے ہم نے یہ تلاش کل پر اٹھا دی اور کو ہ پیمائی کے سیکنڈ ہینڈ سامان کی دکان سے، جسے ایک خوش اخلاق نو جوان ظہور چلاتا تھا، طاہر کےلئے ایک بہترین جیکٹ سستے داموں لے کر کیفے ڈی ہنزہ کی بالائی منزل پر بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے کل کا پروگرام بنانے لگے۔ پھر میں شیلف سے ایک انگریزی ناول اٹھا کر اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ قریب کی میز پر ایک غیر ملکی سیّاح بھی کپ سامنے رکھے اپنے خیالوں میں کھو یا ہوا تھا۔شیشوں سے باہر اندھیرا تھا اور بارش میں بھیگتی ہنزہ کی رات تھی۔ 

 سوست:

اگلی صبح میری جیب میں داور منعیم خان کادیا ہوا رقعہ تھا جو اس نے سوست میں کسٹم گیٹ کے قریب واقع ”جاپان آٹوز“ کے مالک ثناءاللہ کے نام دیا تھا جو داور کے بقول اس کا بہت اچھا دوست تھااور خریداری میں ہماری راہنمائی اور قیمتوں میں رعا یت کروانے میں ہماری مدد بھی کر سکتا تھا۔ چین کی سرحد پر ”جاپان آٹوز“ کا نام ہی دلچسپ تھا اس لیے میں داورہی جیسے ایک دلچسپ میز بان سے ملنے کے لیے تیا ہوگیا تھا۔

 اب ہم کافی دیر سے علی آباد کی سڑکوں پر سوست جانے والی ویگن ڈھو نڈ رہے تھے جو کہیں نہیں تھی۔ ہر ڈرائی ور ہمیںسپیشل گا ڑی کروا کر سوست جانے کا ہم در دانہ مشورہ دیتا تھا جس میں ہمیں ہمدردی کا کو ئی شائبہ نظر نہیں آتا تھا۔دو تین اور مسافر بھی جو بلی ہو ٹل کے باہر آ کھڑے ہوئے انہیں بھی سوست ہی جانا تھا۔ یہ ایک ویگن کی معقول سواریاں تھیں۔ ایک ویگن والا عام کرائے کے حساب سے سوست لے جانے پر رضا مند ہوا تو ہم سب اس میں لد گئے۔ویگن چلی اور بہت جلد گنیش سے ہو تی دریائے ہنزہ کا چینی پُل عبور کر کے سوست کی طرف دوڑنے لگی۔ مقدس چٹا نیں، دریائے ہنزہ، دریا پار مٹی کی بلند چٹا ن پر ہرا بھرا التیت ، ایک کگر پر ا ٹکا التیت قلعہ۔ ڈر لگتا تھاکہ یہ کسی بھی وقت نیچے دریا میں آ گرے گا لیکن وہ صدیوں سے یو ں ہی مٹی پتھروں میں اپنے قدم جمائے مضبوطی سے قائم ہے۔دائیں ہاتھ کی چٹانیں بالکل خشک اور بنجر تھیں زرد پہا ڑوں کے پہلو سے لگی سڑک کبھی دریا کے نیلے ہرے پانیوں کے بالکل قریب آجاتی اور کبھی اتنی اونچی ہو جاتی کہ دریا ندی لگنے لگتا۔شاہ را ہ ِ ریشم تاریخ کی شاہ راہ ہے۔ آئین آباد گزرا، ششکٹ آیا پھر گلمت آگیا ۔ یہاں سے گو جال یابالا ئی ہنزہ شروع ہو تا ہے۔ گلمت گوجال کا انتظامی ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں بروشسکی کی نسبت واخی زبان زیادہ بولی جاتی ہے۔اب دریا ہمارے دائیں ہاتھ آ گیا تھا۔ میں نے ڈرائی ور سمیت اپنے دیگر ہم راہیوں سے پسو پُل کا پوچھامگر سب کے لیے یہ ایک نام تھاجس کا مقام کسی کو علم نہیں تھا۔میں اور طاہر کھڑکی سے ناک لگائے غور سے دریا کو دیکھ رہے تھے جس کارنگ سبزی مائل نیلے سے بھورا اور سرمئی ہو چکا تھااور اس کا پاٹ پھیل کر بہت زیادہ ہو گیاتھا۔ نہا یت پُر شور غل کِن چشمہ گزرا۔ حسینی گزرا، بوریت آیا اور پھر سڑک کے سامنے لیکن دور پسو گلیشئیر کی سفید برفیں نظر آئیں۔ ان کے آگے ایک پشتے پر نمایاں سفید حروف میں ” Welcome to Passu“ لکھا ہواتھا۔دریا پار نوکیلی اور مخروطی پسو کونز دکھائی دینے لگیں۔ میری درخواست پر ڈرائی ور نے گاڑی روک لی اور ہم لوگ نیچے اتر آئے اور پو ری تندہی سے دریا کے اوپر کسی ممکنہ پُل کو کھوجنے لگے مگر اس کا کوئی نشان دکھائی نہیں دے رہاتھا۔ ڈرائی ور نے احساس دلایا کہ اسے دیر ہو رہی ہے اس لیے زیادہ دیر رکنا ممکن نہیں ہے۔ ہم ناکام ہوکر پھر ویگن میں بیٹھ گئے۔ 

پسو کا قصبہ اتنا چھوٹا اور خا موش تھا کہ ہمیں اس کا نام قصبے کی مجموعی آبادی سے زیادہ وزنی محسوس ہوا۔ہموار سڑک ایک بل کھا کر لمحہ بھر میں ہمیں قصبے کے پار لے گئی۔یہاں سے سوست تقریبا ً 38 کلو میٹر تھا۔ کچھ آگے آکر دائیں ہاتھ ایک راستہ شمشال کو مڑتا نظر آیا۔ہم بائیں مڑ گئے۔آہستہ آ ہستہ پہا ڑ بلند ہو نے لگے اور سوست آتے آتے اتنے اونچے ہو گئے کہ انہیں گردن اٹھا کر دیکھنا پڑتا تھا۔ ہم ان کے آ گے بالکل بونے لگنے لگے تھے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -