نائٹ ڈیوٹی کے دوران ساتھی نرس اور خاتون ڈاکٹر کو زبردستی گلے لگانے اور بوس و کنار کا الزام، مقدمے میں بری ہونے پر ڈاکٹر آبدیدہ ہوگیا

نائٹ ڈیوٹی کے دوران ساتھی نرس اور خاتون ڈاکٹر کو زبردستی گلے لگانے اور بوس و ...
نائٹ ڈیوٹی کے دوران ساتھی نرس اور خاتون ڈاکٹر کو زبردستی گلے لگانے اور بوس و کنار کا الزام، مقدمے میں بری ہونے پر ڈاکٹر آبدیدہ ہوگیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں جنسی ہراسگی کے الزام سے بری ہونے والا ڈاکٹر بھری عدالت میں آبدیدہ ہو گیا۔ میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر سینتھل گوپال کرشنم پر اپنی ساتھی ڈاکٹر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس خاتون ڈاکٹر نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ ڈاکٹر سینتھل نے نائٹ ڈیوٹی کے دوران اسے زبردستی گلے لگایا اور بوس و کنار کی۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر سنتھل اور خاتون ڈاکٹربرطانوی شہر ڈورسیٹ کے این ایچ ایس ہسپتال میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ پولیس نے ڈاکٹر سنتھل کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں بورن متھ کراﺅن کورٹ میں پیش کیا جہاں سے 10/2کے اکثریتی فیصلے سے انہیں گزشتہ روز بے گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔ جیوری کی طرف سے اپنی بریت کا فیصلہ سنائے جانے پر52سالہ ڈاکٹر سنتھل آبدیدہ ہو گئے۔ 

ڈاکٹر سنتھل نے عدالت میں کہا کہ ”میں ایک قابل بھروسہ اور ایماندار آدمی ہوں۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس خاتون کی طرف میرا کبھی ایسا کوئی رجحان ہی نہیں رہا۔ میں نے اسے کبھی اس نظر سے دیکھا ہی نہیں تو ہراساں کرنے کا سوال ہی کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔“

مزید :

برطانیہ -