شیریں مزاری کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکہ پر اعتراض، پاک فوج کا موقف آگیا

شیریں مزاری کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکہ پر اعتراض، پاک فوج کا ...
شیریں مزاری کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکہ پر اعتراض، پاک فوج کا موقف آگیا

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کاکہنا ہے کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہوں کی آپس میں ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،  اس حوالے سے کوئی ابہام پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام "نقطہ نظر" میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

میزبان اجمل جامی نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کے اس ٹویٹ کا حوالہ دے کر سوال پوچھا جس میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کے امریکہ کے دورے پر اعتراض اٹھایا تھا۔ اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں ڈی جی آئی ایس آئی  کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ کچھ پتا نہیں ہے کیونکہ ان کے دوروں کو اوپن نہیں رکھا جاتا، وہ کہیں بھی جاتے ہیں تو انٹیلی جنس لیول پر یہ معاملات چلتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح کے چیلنجز ہمارے ریجن میں چل رہے ہیں، اس کے دوران انٹیلی جنس چیفس کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی مختلف ملکوں کے دوروں پر جاتے ہیں اور وہاں کے انٹیلی جنس چیفس بھی پاکستان آتے رہتے ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دوروں کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ بڑے افسوس کی بات ہے، اس پر تو بات ہونی ہی نہیں چاہیے، ہم آخر اس کے بارے میں بات کر ہی کیوں رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ جب فوج کی قیادت پر تنقید کی جاتی ہے تو اس طرح کے بیانات اور سوچ کا ادارے کے مورال اور جوانوں پر اثر ہوتا ہے، جوان اور آفیسرز ایک ہیں، ہماری فوج میں لیڈر شپ کا معیار بہت اچھا اور اعلیٰ ہے، ہمارے جوان اور نوجوان افسر کو یقین ہے کہ اس کے اوپر جو بھی کمانڈر بیٹھا ہوا ہے وہ انتہائی قابل ہے، ہمارے آفیسرز فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں اور ہر رینک میں ہماری شہادتیں ہیں۔ یہ سمجھنا کہ لیڈر شپ کو ٹارگٹ کریں تو اس کا نیچے کوئی اثر نہیں ہوگا تو یہ غلط سوچ ہے، آرمی چیف کی ذات پر کوئی بات کی جاتی ہے تو اس کا اثر پوری فوج پر ہوتا ہے، یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ ٹی وی پر ہر وقت فوج پر ہی بات ہورہی ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کےبراستہ لندن واشنگٹن ڈی سی  پہنچنےکی اطلاعات پرمبنی چند صحافیوں کےٹویٹس جبراًحذف کروانےکےبعدخبر اب امریکہ سےجاری ہوئی۔سوال پیداہوتاہےکہ(امریکہ  کامنتخب کردہ) وزیرِخارجہ توغذائی تحفظ پرایک کثیرالفریقی اجلاس کیلئےجارہا ہےمگر ڈی جی آئی ایس آئی کےدورےکاتویقیناًغذائی تحفظ سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ 

انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکہ کے حوالے سے خبر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خبر کے مطابق دورہ افغانستان سیکیورٹی سےمتعلق ہے، چنانچہ تبدیلی  حکومت کی سازش کے نتیجےمیں رکاوٹ یعنی عمران خان اور پی ٹی آئی  حکومت ہٹنےپر  پاکستان میں امریکی اڈوں پربات چیت کاآغازہو چکا؟”حصولِ ہدف“کا سُرور آیاان محفلوں پرغالب ہے؟ انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرکے کہا کہ پاکستان کے  متفکر شہریوں کیلئےبراہِ کرم وضاحت کیجئے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -دفاع وطن -