اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ریاست کو گالی دینے والوں کے نام

اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ریاست کو گالی دینے والوں کے نام
اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ریاست کو گالی دینے والوں کے نام

  

میرا ایمان ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے اور ماں کو سب بچے عزیز ہوتے ہیں۔ میری والدہ مرحومہ سے جب کبھی میں پوچھا کرتا تھا کہ امی آپ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہیں یا چھوٹے بھائی سے۔ تو وہ کھلکھلا کر ہنس دیا کرتیں اور کہتی بیٹا اگر شہادت کی انگلی پر چوٹ لگ جائے تو وہ بھی درد کرے گی، اگر انگوٹھے کو چوٹ لگے تو بھی اتنا ہی درد ہو گا۔ دماغ ایسے کام نہیں کرتا کہ ایک عضو کا درد زیادہ محسوس کرے۔ اسی طرح ماں کا دل بھی سب کا درد ایک جیسا محسوس کرتا ہے. حال ہی میں کچھ سیاسی لوگوں نے اپنی مفادات کی خاطر ریاست اور اس کے اداروں پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا ہے۔ ان کی حالت اس بلی کے جیسی ہے جس کے پاوں جلیں تو وہ بچے نیچے لے لیتی ہے۔  اگر آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ کو پبلک سپورٹ بہت ہے، تو آپ الیکشن کی تیاری کریں اور فل زور سے پاور میں آئیں۔ وہ لوگ جو دوسری جماعتوں سے آپ کی کشتی میں سوار ہوئے تھے تو آپ ان کو صافے پہناتے تھے اور کہتے تھے وکٹ گر گئی، اب وہ پرانی کشتی میں گئے تو آپ ان کو ضمیر فروش اور لوٹے اور پتا نہیں کیا کیا القابات سے نواز رہے ہیں۔ آپ نے اپنے ہی ملک کی سلامتی کے اداروں  پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیا ہے ۔ آپ نے  ہماری جذباتی قوم جو کہ بھوک اور مفلسی کے ہاتھوں تنگ ہے اس کو ایک نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔

ہماری فوج، ہمارا سپہ سالار، اور ہمارے ادارے ہمارا مان ہیں اور ہماری بقا کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں،  کسی بھی ملک کی سالمیت کی ضامن اس کی فوج ہی ہوتی ہے۔ عظیم قومیں کسی کو اپنی فوج اور ریاست پر انگلی  نہیں اٹھانے دیتیں، جرمن بچہ دوسری جنگ عظیم کے ہار جانے کے بارے میں کبھی جرمنی کو طعنے نہیں دیتا اور یہی حال جاپان  کا ہے  وہاں بھی کوئی جاپانی بچہ جنگ ہارنے پر "جاپان"  پر طنز نہیں کرتا۔ اس کی بجاۓ  انہیں ان لوگوں کی تعریف کرنا سکھایا جاتا ہے جنہوں نے اپنے ملک کے لیے کوشش کی اور قربانی دی۔ اتنا دور جانے کی کیا ضرورت ہے  ابھی چند ماہ پہلے لداخ کے علاقے  میں ہندوستان کی فوج کو چینی افواج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ جس کے باوجود ان کے  عوام نے نہ کوئی  احتجاج کیا نہ کوئی  الزام لگاۓ کیوں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں ان کے  دفاع کی آخری لکیر ان کی فوج ہے اور دوسری جانب پاکستان ہے، جہاں اپنی ہی فوج کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب یہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے  سینہ سپر ہو جاۓ اور دشمن کی  سازشوں کو ناکام  بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔  اپنی فوج کی تائید کرے  اور ان لوگوں کے ملک دشمن پراپگینڈہ کو ناکام کرے جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر  فوج کا مذاق بنارہے ہیں .

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -