اوورسیز پاکستانی ، ووٹنگ کا حق اور پارلیمان میں حق نمائندگی

اوورسیز پاکستانی ، ووٹنگ کا حق اور پارلیمان میں حق نمائندگی
اوورسیز پاکستانی ، ووٹنگ کا حق اور پارلیمان میں حق نمائندگی
سورس: File

  

 بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی براہ راست ووٹنگ ممکن ہے اگر ان کا نام مقامی ووٹرز کی فہرست میں درج ہے۔ بحرالحال وہ فی الحال پاکستان کے دورے کے دوران اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ جیسا کہ ریاست اب بیرون ملک مقیم شہریوں کو ووٹنگ کا حق دینا چاہتی ہے، ہمیں تمام جماعتوں اور ای سی پی کی باہمی مشاورت کے ساتھ سوچ سمجھ کر اور اس بات کا تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیسے کریں گے اور کس امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کس قسم کے عمل کو اپنایا جائے  تا کہ ہمارے بیرون ملک مقیم بھائیوں اور بہنوں کے اطمینان کے لیے آزادانہ اور منصفانہ طریقہ انتخابات طے کیا جاسکے اور ان کا ووٹ بہتر طریقے سے ملک کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

 پاکستانی پارلیمنٹ نے 17 نومبر 2021 کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق فراہم کرنے کے لیے ایک بل منظور کیا ہے۔ یہ حق رائے دہی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے بھی عیاں ہے جس کو  چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب کی عدالت نے صادر فرمایا تھا۔ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت اس نئی پیشرفت کو اپنی آئندہ انتخابی حکمت عملی کے اہم ستونوں میں سے ایک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ سیاسی اتفاق رائے پیدا کیے بغیر اور جس عجلت میں بل کو بلڈوز کیا گیا اور اوورسیز کی نمائندہ شخصیات سے مشاورت کئے بغیر قانون سازی یقیناً بہت سے سوالات پیدا کر چلی ہے۔ یہ عجلت میں کی  جانے والی قانون سازی اور اقدام پی ٹی آئی حکومت کے ارادوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس نئی پیش رفت کو اپنے فائدے کے لیے کس طرح استعمال کرنا چاہتی ہے۔وہ یہ پہلے ہی باور کروارہے ہیں کہ اوورسیز ووٹوں کی اکثریت ان کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔ اب اس سے پہلے کہ ہم کوئی نتیجہ نکالیں، ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر بیرون ملک مقیم ووٹرز واقعی مجموعی انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کے لیے اپنا ووٹ ڈالتے ہیں تو اصل میں کیا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے ملک بھر میں تقریباً 118 ملین رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 9.9 ملین ہے، جو کہ پاکستان کے کل رجسٹرڈ ووٹرز کا تقریباً 8.3 فیصد بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ووٹ اتنے اہم کیوں ہیں اور یہ پاکستانی عام انتخابات کے مجموعی انتخابی نتائج کو کیسے بدل سکتے ہیں۔

حال ہی میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، جن کی وزارت بھی نادرا کی نگرانی کرتی تھی نے دعویٰ کیا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹوں سے قومی اسمبلی کے تقریباً 70 حلقوں کے انتخابی نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس دعوے کو پلڈاٹ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی) کی تحقیق سے مزید تقویت ملی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 100 سے 140 قومی اسمبلی کے حلقوں میں اوورسیز پاکستانی ووٹرز کی تعداد 2018 کے عام انتخابات میں ریکارڈ کی گئی جیت کے مارجن سے زیادہ تھی۔ اسکا الیکٹورل پالیٹیکس کیلئے کیا مطلب ہے؟

اگر ہم ان اوورسیز ووٹرز کا مزید تجزیہ کریں تو 9.9 ملین میں سے لگ بھگ 5.8 ملین ووٹرز (60%) پاکستان بھر کے 20 اضلاع میں رجسٹرڈ ہیں جہاں NA کی 91 سیٹیں آتی ہیں۔ فی الحال، وہاں سے پی ٹی آئی کے پاس 52 ایم این اے ہیں، پی ایم ایل این کے پاس 30 ایم این اے ہیں، اور پی پی پی کے پاس ان اضلاع سے بھی ممبران ہیں اور دیگر میں ایک ایم این اے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی ووٹرز الیکشن کے دن اپنے ٹرن آؤٹ کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ حلقوں میں جیت یا ہار کا فرق بنا سکتے ہیں اگر وہ باہر بیٹھ کر اس ووٹ کا استعمال کریں۔ زمینی حقائق کو سمجھے بغیر بیرون ملک مقیم ووٹرز آسانی سے ریاستی پروپیگنڈے سے متاثر ہو سکتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک موثر قوت بن سکتے ہیں جو ان 91 حلقوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو اگلی حکومت کا چہرہ تشکیل دے سکیں۔

 متوقع سمندر پار پاکستانیوں کی حمایت کی بنیاد پر، اور 2018 کے انتخابات کے نتائج کے مطابق یہ تعداد ٹاپ 20 اضلاع کے انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈالنے کی سکت رکھتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اور سیاسی منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن اسکا فائدہ یا نقصان اوورسیز کو کیا ہوگا یہ بھی یہاں قابل ذکر ہے۔ 

اصولی طور پر، 80 لاکھ جانوں کے حق رائے دہی کو فروغ دینا، اس کی حمایت اور تحفظ کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اس معاملے پر بہت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔ ایک اور پہلو جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر یورپی شہری ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں تو جی سی سی ممالک، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سمندر پار پاکستانیوں پر ووٹ ڈالنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کے بنیادی اصول کے خلاف ہو گا۔ لیکن گلف میں ووٹ کا استعمال تقریباً ناممکن ہوگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کا ڈیٹا خاص طور پر جہاں ہندوستانی انٹیلی جنس کمیونٹی کا اثر و رسوخ ہے، سےمحفوظ نہیں ہوگا۔ ہم پہلے ہی نادرا کا ڈیٹا محفوظ کرتے پھر رہے ہیں ۔ یہ ایک نیا ملکی سلامتی کا ایشو پیدا کرے گا۔

تیسرا، پوسٹل ووٹ یا الیکٹرانک ووٹ تنقید کا باعث بنیں گے اور بعض مواقع پر اثر و رسوخ، جبر، یا بدانتظامی کی شکایات مقامی پولیس حکام کی توجہ مبذول کر واسکتی ہیں اور ملک کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہیں۔ یوکے میں ہمارے پہلے ممبر پارلیمنٹ جو پنجاب کے گورنر  بنے تھے کو پوسٹل ووٹ کے استعمال کے نتیجے میں برطانیہ میں اس طرح کی تنقید اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا۔ بات عدالتوں تک بھی جا پہنچی تھی۔ آخر میں، بیرون ملک مقیم شہری اپنے اپنے حلقے میں لوکل امیدواروں کےمستحق ہیں جو پاکستان میں مقامی امیدواروں کو ووٹ دینے کے بجائے سمندر پار پاکستانیوں کو درپیش مسائل کو حل کر سکیں، یا وہ لوگ جنہیں بیرون ملک مسائل کو حل کرنے میں کوئی سمجھ یا دلچسپی نہیں ہے۔سعودی عرب میں مقامی ایم این اے اور برطانیہ میں برطانیہ کا رہائشی پارلیمانی سیٹ کا امیدوار زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔ 

 نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

بیرسٹر امجد ملک سمندر پار پاکستانیوں کے چیف کوآرڈینیٹر اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں ۔

مزید :

بلاگ -