ایک دو جگہ ویگن رکوا کر پل ڈھونڈا مگر ہما رے سامنے وسیع علاقے میں پھیلا دریا تو تھا لیکن کسی پل کا نشان بھی نہیں تھا

ایک دو جگہ ویگن رکوا کر پل ڈھونڈا مگر ہما رے سامنے وسیع علاقے میں پھیلا دریا ...
ایک دو جگہ ویگن رکوا کر پل ڈھونڈا مگر ہما رے سامنے وسیع علاقے میں پھیلا دریا تو تھا لیکن کسی پل کا نشان بھی نہیں تھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :73

سوست دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی۔یہ ایک بے رنگ اور بور جگہ تھی۔ میرا خیال تھا کہ کاروباری مرکز ہو نے کےساتھ ساتھ یہ وادی ہنزہ کا ایک خوش نما مقام ہو گا لیکن ویگن سے اترتے ہی ما یوسی نے بڑھ کر مجھ سے ہاتھ ملا یا اور پھر میرے ساتھ نتھی ہو گئی۔یہ ایک اجاڑ سی جگہ تھی جہاں سڑک کنارے دو رویہ چھو ٹی چھو ٹی دکانیں اور مارکیٹیں تھیں۔ اکثر دکانیں ٹین کی چادروں سے بنی تھیں۔میں نے ڈرائی ور سے واپسی کا پو چھا تو اس نے کوئی واضح جواب دئیے بغیر ٹال دیا اور گاڑی ایک طرف کھڑی کر دی۔ سوست ویران ساتھا۔ زیادہ تر دکانیں بند تھیں کیوں کہ آج 14 اگست کی چھٹی تھی جو ہمیں آ نے سے پہلے یاد نہیں رہی تھی۔ میں نے داور کارقعہ نکا لا اور پہلے آدمی سے کسٹم گیٹ کا پتا پوچھا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد سڑک سے ذرا ہٹ کر ثناءاللہ کی دکان جاپان آٹوز مل گئی۔ ثناءبھی داور کاہم عمر لیکن اس کے بر عکس بے حد کم گو اور unfriendly تھا۔ نیم تاریک دکان میں موٹر سا ئیکلوں کے پرزے، ٹائر اور ربڑ کی بُو بھری ہوئی تھی۔ ثناءنے ہم سے مل کر کسی خاص کیا عام خوشی کا اظہار بھی نہیں کیا۔داور کا رقعہ پڑھ کر اٹھا، دکان بند کی اور خاموشی سے ساتھ چل پڑالیکن اس کے ساتھ ہو نے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہم کئی دکانوں پر گئے مگر نہ تو وہ کسی دکان دار سے چیز کی قیمت کم کر نے کے لیے کہتا اور نہ دکان دار اس کے کہے سے قیمت کم کر تے تھے ۔ ثناءکو چینی چیزوںمیں کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی(اور جاپانی آلات سے ہمیں کو ئی علاقہ نہیں تھا)۔وہ ایک بند بند سا آدمی تھا،جاپانی پیکنگ۔ ہم ایک دوسرے سے اجنبی اجنبی ساتھ ساتھ گھوم رہے تھے۔ مجھے وا ضح محسوس ہو رہا تھا کہ دکان بند کر کے ہمارے ساتھ گھو منا اس کے لیے کوئی خوش گوار کام نہیں ہے۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی دکان پر لوٹ جائے، ہم جاتے ہوئے اس سے مل لیں گے۔ وہ خاموشی سے واپس چلاگیا۔ایک تو سوست میں دکانیں کم کھلی تھیں جو کھلی تھیں ان میں سامان بہت کم اور فضول سا تھا۔ میں نے خاص طور پر کچھ لیناتو تھا نہیں بس سفر کی نشانی کے طور پر دو تین سفیدچینی ڈو نگے، جن پر نیلے رنگ سے چینی منظر بنے تھے،اور ایک جوگر لے لیا (جو ایک ماہ بھی نہیں چلاالبتہ ڈونگے آج بھی زیر ِ استعمال ہیں)۔ اعظم کے دوست کمبل، شیمپو اور جانے کیا کیا خرید رہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ قریب ہی کہیں چینی انجنیئر ایک سرنگ تعمیر کرہے ہیں، شاید ریلوے لائن بچھانے کے لیے (تب سی پیک کا نام کسی نے سنا بھی نہیں تھا)۔ہم نے ہاتھ کا سامان ثنا ءکی دکان پر رکھا اور سرنگ کی طرف چل پڑے لیکن کافی چڑھائی چڑ ھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ سرنگ کا فی دور ہے اس لیے واپس لو ٹ آئے۔ 

مارکیٹ سے ذرا آ گے کسٹم کی سادہ سی عمارت تھی اور اس سے آگے ہوٹل تھا۔ وہاں سے یو ں ہی عادتاً سیا حتی نقشے لیے۔ہم سوست سے بےزار ہو چکے تھے اور جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتے تھے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ واپس چلا جائے چناں چہ سامان اٹھانے کےلئے واپس ثنا ءکی دکان پر آ گئے لیکن وہاں تا لا پڑا ہوا تھا۔ دوپہر کی دھوپ تیز تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی ۔ سوچا ثناءکے آنے تک کھانا کھا لیتے ہیں۔

ٹاٹ کے پردوں اور ٹین کی دیواروں سے بنا ”علی بوق ریسٹورنٹ“ بالکل سڑک کے اوپر تھا۔ لگتا تھا اسے عارضی بنیا دوں پر بنا یا گیا ہے ۔ دھا تی میز کرسیوں پر بیٹھ کر چاول منگوا ئے جو ذائقے میں اچھے تھے۔پیٹ پوجا کے بعد دوبارہ ثنا ءاللہ کا پتا کیا مگر دکان اب تک مقفل تھی۔ میں دکانوں کے پیچھے ویران پتھریلے علاقے میں چلا گیا۔ یہ بے آباد علاقہ تھا۔ ہر طرف چھو ٹی بڑی چٹا نیں ہی چٹانیںبکھر ی تھیں۔ کچھ دور دریا تھا جس کے پار پہاڑوں کی بلند دیوار تھی۔ واپس آیا تو سا منے سے ثناءخراماں خراماں آتا دکھائی دیا۔ اس نے بتا یا کہ وہ کھا نا کھانے چلا گیا تھا۔ اس کے ساتھ جاپا ن آٹوز آکر ہم نے اپنا سامان اٹھایا،” تعاون“ پر اس کا شکریہ ادا کیا اور سڑک پر آ کھڑے ہو ئے۔

ویگنوں کے اڈے پر کوئی گاڑی نہیں تھی۔ البتہ اسپیشل گاڑی سے علی آباد لے جانے کو ہر ڈرائی ور تیار تھا۔ ہم سب ادھر اُدھر پھیل کر سواری تلاش کرنے لگے۔ آخر ایک ویگن والے نے سواریوں کے ساتھ علی آباد لے جانے کی ہامی بھری۔وہ ہمیں ویگن میں بٹھا کر کافی دیر مزید سواریاں ڈھو نڈنے کے لیے پورے سوست میں گاڑی بھگاتا اور ہارن بجاتا پھرا۔ اس کی محنت سے دو چار مزید سواریاں مل گئیں تو ہم روانہ ہوئے۔ واپسی پر بھی طاہر پسو پل ڈھونڈ رہا تھا۔ ایک دو جگہ ویگن رکوا کر پل ڈھونڈا مگر ہما رے سامنے وسیع علاقے میں پھیلا دریا تو تھا لیکن کسی پل کا نشان بھی نہیں تھا۔ایک دو لوگوں نے کچھ راہ نمائی بھی کی مگر وہ کنکریٹ کے عام پل نکلے بل کہ ایک پل تو چینی مزدور منہدم بھی کر رہے تھے۔ڈرائی ور کو بار بار ویگن رکوانے پر کوفت بھی ہو رہی تھی۔ کسی کو اس پُل کا علم نہیں تھا۔ اب تو یوں لگنے لگا تھا جیسے کسی نے نقلی تصویر بنا کر چھاپ دی تھی اور ہم بلا وجہ خوار ہو رہے تھے۔ آخر ہم مایوس ہو کراور تھک کر کمر سیٹ کی پشت سے لگا کر بیٹھ گئے۔ ایک اداس سا منظر پیچھے بھاگ رہا تھا۔ پسو گزرا پھر حسینی آیا۔ویگن نے موڑ کاٹا اور مجھے نیچے دریا پر معلق پُل کی جھلک دکھائی دی۔ویسا ہی جیسا تصویر میں دیکھا تھا۔

”پُل!“ میں نے بے ساختہ اونچی آواز میں کہا۔ 

ہموار سڑک پر بھا گتی ویگن نے ایک اور موڑ کاٹا اور پُل پہا ڑوں کی اوٹ میں کھو گیا۔ گویا پسو پُل دراصل حسینی میں تھا۔میں نے طاہر کو پل دکھانے کی کافی کوشش کی مگروہ کسی جادو کے خزانے کی طرح نظروں سے اوجھل ہوچکاتھا۔ میں نے ڈرائی ور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا مگر اس نے انکار کردیا۔شام ہو رہی تھی، علی آباد ابھی تقریبا ً 2 گھنٹے کے فا صلے پر تھااور ہم نے گاڑی ”اسپیشل“ نہیں کروائی ہوئی تھی۔ ایک بار خیال آیا کہ یہیں اتر جائیں اور پُل سے ہوکر کسی دوسری ویگن سے واپس چلے جائیںلیکن ایک تو اس راستے پر پہلے ہی گا ڑی ملنے کے امکانات کم تھے دوسرے ہم حسینی کافی پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔

”کوئی بات نہیں ہم دوبارہ ہنزہ آئیں گے اور مل کر اس پُل کے پار چلیں گے۔“ میں نے طاہر سے وعدہ کیا۔

طاہر نے ہمیشہ کی طرح مسکرا کر مجھے دیکھا اور کہا۔ ”ٹھیک ہے۔“ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -