چائنہ کی سیاسی استحکام لانے کی تجویز……  پھر نظر انداز

چائنہ کی سیاسی استحکام لانے کی تجویز……  پھر نظر انداز
چائنہ کی سیاسی استحکام لانے کی تجویز……  پھر نظر انداز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال میں آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کا دورہ چائنہ بڑی اہمیت کا حامل تھا آرمی چیف کے چار روزہ کامیاب دورے سے دنیا کے چودھری امریکہ کی پریشانی فطری عمل تھا جس کا اظہار میڈیا کے ذریعے امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو یہ پیغام دے کر کہا آپ کو امریکہ اور چائنہ میں سے ایک کا انتخاب کرنا  ہو گا۔آرمی چیف کے تاریخی دورے کے ساتھ ہی چائنہ اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے دورے کی تاریخ طے ہونے اور افغانستان کے امن کے حوالے سے لائحہ عمل کی منظوری نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مزید پریشان کر دیا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے چین پاکستان کا مخلص اور مشکل وقت کا ساتھی ہے۔چائنہ کے وزیر خارجہ کے دورے کے دوران پاک افغان وزرائے خارجہ سہ فریقی مذاکرات اور افغانستان کے امن منصوبے عالم اسلام کے لئے نوید اور اُمت مسلمہ کے دشمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی۔آرمی چیف عاصم منیر کے دورے کے بعد سی پیک منصوبے میں تیزی لانے اور دیگر ممالک تک پھیلانے سمیت نئے منصوبوں کے لئے پاک چائنہ معاہدوں کی گونج جاری تھی  کہ سہ فریقی ممالک کے معاہدوں نے طاغوتی قوتوں کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دفتر خارجہ میں پاکستان اور چین کے درمیان چوتھے سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان اور افغانستان کو باہمی مشاورت سے معاملات حل کرنے اور کشمیر پر پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم نے خطے کی سیاست میں بونچال پیدا کر دیا ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے آرمی چیف کے چائنہ کے دورے کے دوران چائنہ کے صدر نے پاکستان میں سیاسی استحکام لانے کا وہی مشورہ دیا جو کہا جاتا ہے1971ء میں بھی دیا تھا۔ بتایا گیا ہے وزیر خارجہ نے پاکستان کی سیاسی قیادت اور اداروں کو خیر خواہانہ دانشمندانہ مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا، مستحکم ترقی کے لئے پاکستان میں سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر سیاسی استحکام لائیں تاکہ پاکستان معاشی اور داخلی سطح پر ہمارے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ بتایا گیا ہے جہاں تک کہا گیا ہم یقین دلاتے ہیں ہم ہر معاملے میں آپ کی مدد کریں گے۔عالمی اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لئے اسلام آباد کے ساتھ ہوں گے، سی پیک منصوبوں کے تعاون کو فروع دیں گے،چائنی وزیر خارجہ کا مشورہ وقتی نہیں تاریخی پس منظر کا حامل رہا۔


یاد رہے پاک چائنہ دوستی کئی عشروں پر محیط ہے اور مثالی ہے گزشتہ نو سالوں میں پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے نے پائیدار اور مستحکم جدوجہد کو ایسی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے1971ء میں پاکستان مشکلات کا شکار تھا عدم استحکام تھا اُس وقت بھی سیاسی جماعتیں اور ادارے ضد اور اَنا کی بھینٹ چڑھ رہے تھے۔ چین نے دوست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے انتشار ختم کرنے اور سیاسی استحکام لانے کا مشورہ دیا تھا مگر ہم نے نہیں سنا جس کا نتیجہ پاکستان1971ء میں بھگت چکا ہے اِس وقت بھی دشمن دین اور طاغوتی قوتوں نے مل کر پاکستان میں جو حالات پیدا کر دیئے ہیں بین الاقوامی میڈیا طرح طرح کی بولیاں بول رہا ہے، علیحدگی پسند قوتیں بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں پوری طاقت سے  سرگرم ہیں، سیاسی عدم استحکام عروج پر ہے، سیاسی قیادت ضد اَنا کی بھینٹ چڑھ چکی ہے، ادارے باہم دست وگریبان ہیں، جمہوریت کے دعویدار جمہوریت سے فرار کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس انداز میں 2022ء میں رجیم چینج کا عمل سامنے آیا ہے اور مختلف الخیال نظریات کی حامل سیاسی مذہبی جماعتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کرایا گیا۔2018ء سے2022ء تک عمران خان کی حکومت کو سلیکٹڈ اور دھاندلی کی پیداوار قرار دینے والوں کی طرف سے اسی سلیکٹڈ اسمبلی میں وزیر اور وزیراعظم بننے اور شیر و شکر ہونے کے مناظر قوم کو دیکھنے کو ملے ہیں، ان دِنوں جب الیکشن کرواؤ نہیں کروائیں گے کی گونج چاروں اطراف گونج رہی ہے عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ کے درمیان محاذ آرائی اور کردار کشی کی مہم نے دشمنانِ پاکستان کو مزید حوصلہ دیا ہے اور قومی یکجہتی، سیاسی استحکام کو پارہ پارہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے بہت سے واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے مگر مصالحت کے تحت نہیں دوں گا،ان حالات میں جب خطے میں تبدیلی کی لہر ہے دنیا کے چودھری باہم دست و گریبان ہیں ایک دوسرے کو ناکام بنانے اور اپنی کامیابی کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے میں مصروف ہیں اِن حالات میں افغانستان سے دخل اندازی، بلوچستان میں علیحدگی پسند قوتوں کی منظم کارروائیاں اور پاک فوج کے جوانوں کی مسلسل شہادتیں ہمارے ارادوں کو نہیں بدل سکیں ہیں۔پی ڈی ایم کی حکومت اور عمران خان کی ضد نے جو حالات پیدا کر دیئے تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے پی ڈی ایم کی مقبولیت میں تیزی سے ہوتی کمی اور عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے صلح جوئی کے راستے بند کر دیئے تھے۔ ان حالات میں مخصوص لابی اور پاکستان کی دشمن قوتوں کی طرف پاکستان کی سلامتی کی واحد علامت پاک فوج کے خلاف مہم جوئی نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔


سوشل میڈیا کی بے لگام اڑان نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے ان حالات میں جب عدلیہ پارلیمنٹ، مقننہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں کوئی بھی میز پر آنے کے لیے تیار نہیں، ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، آئی ایم ایف امریکہ بہادر کے حکم پر تمام شرائط منوا کر بھی تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے جب مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی دشمن قوت رختہ ڈال دیتی ہے ان حالات میں چین کے صدر اور وزیر خارجہ کا سیاسی قیادت اور مقتدر قوتوں کو سیاسی استحکام لانے کا مشورہ بروقت اور صائب تھا، افسوس1971ء میں بھی دشمن کی سازشیں کامیاب ہوئیں اِس وقت بھی لگ  رہا ہے وہی قوتیں کا میاب ہو رہی ہیں۔
عمران خان کی گرفتاری کے  بعد پی ٹی آئی کا ردعمل فطری عمل تھا، مگر احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ، نجی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ سوشل میڈیا کچھ کہہ رہا ہے۔پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کچھ کہہ رہے،9مئی کا دن واقعی سیاہ دن تھا اس دن ہونے والی تخریبی کارروائیوں کی رپورٹ 10مئی کو آنا چاہئے تھی جو نہیں آئی،11مئی کو آئی ایس پی آر کا ردعمل اور موقف ایک ساتھ شائع ہوئے ہیں۔9مئی کو جو کچھ ہوا  یا10مئی کو ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا، طاغوتی قوتیں تو75 سال سے پاک فوج اور عوام کو لڑانے کی سازش کر رہی تھی، کامیاب رہے ہیں۔


9اور10 مئی کے واقعات کی رپورٹنگ میں بڑا تصاد سامنے آ رہا ہے، بلاتفریق تحقیقات ہونا چاہئے پاک فوج کا وقار اور ساکھ برقرار رہنا چاہئے۔وزیراعظم اور آصف علی زرداری کی پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے موقف کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ ایک دوسرے کو طعنے دینے، نااہل قرار دینے کی روایت ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ایمرجنسی حل نہیں ہے، دشمن یہی چاہتا ہے پاکستان میں استحکام نہ آئے، اب سیاسی قیادت، عدلیہ، مقتدر قوتوں کا امتحان شروع ہے۔ضد،اَنا، بدلہ کی دوڑ ختم کر کے درمیانی راستہ نکالنے کی ضرورت ہے، سیاسی انتشار میں بیرونی قوتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں،اِس وقت مخلص دوست چائنہ کے پاکستان میں سیاسی استحکام لانے کے مشورے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -