بات کہنے کے بہانے ہیں بہت۔۔۔

بات کہنے کے بہانے ہیں بہت۔۔۔
بات کہنے کے بہانے ہیں بہت۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر : خالد کمال ( کینیڈا )

جا شفق دار لہروں پر گاتا ہوا چلا جا 
 اور خوش ہو کہ تو بے حس ہے  ورنہ سنگ مر مر کی چھتوں کے نیچے اور بھاری بھاری پردوں کے اندر تیری بھی دبی ہوئی آہیں ہوتیں 

مو قلم،
 ساز گل تازہ 
تھرکتے پاؤں
بات کہنے کے بہانے ہیں بہت
آدمی کس سے مگر بات کرے؟

بات کی غایت غایات نہ ہو!
آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،
اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں
اور پھر کس کے لیے بات کروں؟

کون سہے گا تاذیانے وقت کے، حاکم کے۔
کونسی چیزیں ہیں جو جکڑ رہی ہیں ،
  غلط کام کی برداشت کتنی باقی رہی ہے!

جب امید ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو کیا ہوتا ہے 
جا شفق دار لہروں پر گاتا ہوا چلا جا 
اور خوش ہو کہ تو بے حس ہے  ورنہ سنگ مر مر کی چھتوں کے نیچے اور بھاری بھاری پردوں کے اندر تیری بھی دبی ہوئی آہیں ہوتیں ۔

نوٹ : ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -