سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی بہ نسبت وزیراعظم

  سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی بہ نسبت وزیراعظم
  سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی بہ نسبت وزیراعظم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جسٹس شاہد کریم کا فرمان روزنامہ پاکستان میں نہ پڑھا ہوتا تو میں یہی سمجھتا کہ یہ کسی فیس بکی فلسفی کی دانش کا استفراغ ہے جس کا نفسیاتی استعلاج چاہیے۔ لیکن معلوم ہوا کہ یہ حکم فاضل جج کی طرف سے مطلقاً آزاد عدلیہ کا ثبوت ہے۔ جج صاحب نے پنجاب حکومت کو الیکٹرک بائک تقسیم کرنے سے روک کر تفصیلات طلب کر لیں۔ یہاں تک خبر پڑھی تو دل میں مسرت کی لہر اٹھی کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ پارلیمان  سے منظوری لیے بغیر اربوں کے فنڈ کبھی ارکان اسمبلی کو بے دریغ دیتے ہیں تو کبھی لیپ ٹاپ پر اربوں خرچ کر گزرتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے موٹر بائک کی تقسیم میں یہی کچھ کیا تو لگا کہ عدالت یہ عمل اسمبلی سے مشروط کرے گی۔ لیکن خبر کا اگلا جملہ پڑھا تو میرا سر افسردگی سے جھک گیا۔ کاش وہ جملہ آئینی و قانونی مفہوم میں ملفوف ہوتا۔ کاش عدالتی حکم میں سوقیانہ طرز تکلم نہ ہوتا۔

فاضل جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا: "۔۔۔۔ طلباء کو الیکٹرک بائیک دیں گے تو وہ ون ویلنگ کریں گے, لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کے باہر جائیں گے. (لہذا) حکومت کالجوں کو الیکٹرک بسیں فراہم کرے". یہ نکتہ اٹھائے بغیر کہ الیکٹرک بائیک کی جگہ بسیں دینے کا حکم کیا آئینی و قانونی حیثیت رکھتا ہے، میں تو سر پکڑے بیٹھا ہوں کہ حکم اخبارات میں چھپ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر  تبصرے آ چکے ہیں۔ جسٹس صاحب کو ہمت پڑے تو روزنامہ پاکستان کی سائیٹ پر  خبر کے نیچے ایک ہی تبصرہ ملاحظہ کر لیں، میں البتہ لکھنے سے معذور ہوں۔ یہ عدالتی حکم بیرونی ذرائع ابلاغ کی زینت بھی بنا ہوگا۔ یہ خبر جب بیرونِ ملک کے آئینی و قانونی حلقے پڑھیں گے تو یہ ضرور سوچیں گے کہ جج صاحب نے اپنی کن ذہنی کیفیات کے زیر اثر یہ حکم صادر کیا ہے۔ کاش جج صاحب کا حکم یوں ہوتا: "بائیک بانٹنے سے قبل حکومت کابینہ اور اسمبلی سے منظوری لے". موجودہ شکل میں جج صاحب کے اس حکم کو گلی محلے کے بزرگ بابے کی رائے تو کہا جا سکتا ہے, اس سے قانون کشید کرنا سعی لاحاصل ہوگا۔ایسی آرا ہم گلی محلوں میں آئے دن سنتے رہتے ہیں۔

 9 مئی کو وکلاء کی ہڑتال پر چیف جسٹس فائز عیسی نے یوں انتباہ کیا: "عدالت میں پیش نہ ہونے پر اتنے جرمانے کریں گے کہ یاد رکھیں گے". نتیجہ یہ نکلا کہ صبح ابتدا میں چند وکلا کی طرف سے اگلی تاریخ مانگی گئی تو اس سرزنش کے بعد  وکیل دن بھر پیش ہوتے رہے۔ لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ہڑتالی وکلا کے کیس خارج کر کے ان کی "سرزنش" کی۔ معلوم نہیں کیس خارج کرنے سے ہڑتالیوں کی کیا سرزنش ہوئی۔ کاش جج صاحب وکلا کو حکم دیتے کہ وہ فیس موکلوں کو واپس کر کے ثبوت عدالت میں پیش کریں۔ موجودہ سرزنش سے تو نقصان معصوم موکلوں کو پہنچا ہے جو وکلا کو لاکھوں روپے دے کر جج کی سرزنش بھگت رہے ہیں۔ امید ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئندہ کے لیے ایسی غیر متوازن سرزنشوں کو متوازن بنانے کی کوئی ترکیب کریں گے۔ عجیب تماشہ ہے۔ جرم کرے تو وکیل اور جرم کی فیس بھی لے اور بھگتے  پیسے دینے والا موکل۔ یہ عمل کسی پولیس اسٹیشن یا پٹوار خانے میں ہوا ہوتا تو رنج کی یہ کیفیت نہ ہوتی، افسوس ہے کہ یہ کچھ ایک اعلیٰ عدالت کے معزز جج کے فیصلے کے باعث ہوا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے خط پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران  چیف جسٹس فائز عیسی نے درست کہا ہے:"جو جج مداخلت دیکھ کر کچھ نہیں کر سکتا, وہ گھر بیٹھ جائے". یہی بات جسٹس مسرت ہلالی نے یوں کہی: "جو جج دباؤ برداشت نہیں کر سکتا، اسے کرسی چھوڑ دینا چاہیے"۔ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی بجا فرمایا: "ہم نے 75 سال جھوٹ بولا اور سچ کو چھپایا ہے". جسٹس اطہر کی تائید میں مثالیں دی جائیں تو باعث مسرت نہیں ہوں گی۔ 25 کروڑ عوام کا نمائندہ وزیراعظم عدالتوں کے سامنے اب بھی کمزور ترین عہدہ دار ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر اسے ہائی کورٹ کا ہر جج طلب کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔

 اسی وزیراعظم کے نہایت نچلے ماتحت میجر جنرل اور لفٹیننٹ جنرل گریڈ اکیس اور  بائیس کے عہدے دار ہوتے ہیں۔ کیا عدلیہ نے ان میں سے کسی کی طرف کبھی میلی آنکھ سے دیکھا ہے؟ کسی حاضر جرنیل کو چھوڑیے، لاقانونیت کے پھریرے لہرانے والے ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو کیا چیف جسٹس آف اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنی عدالت میں طلب کر پائے ہیں؟ نزلہ بر عضو ضعیف کے مصداق کیا بجلیاں گرانے کو ایک وزیراعظم ہی ملا ہوا ہے ہماری عدلیہ کو؟ عجب تماشہ ہے کہ جسٹس بابر ستار وزیراعظم کو بات بات پر عدالت میں طلب کرنے کی دھمکی دیتے ہیں لیکن اسی وزیراعظم کے ایک نہایت معمولی اور ازحد نچلی سطح کے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کی مبینہ دھمکی پر وہ سپریم جوڈیشل کونسل سے کم اپنے چیف جسٹس پر راضی نہیں ہوتے۔

1973 سے آگے کا ماضی دیکھ لیجئے۔ دو دفعہ گریڈ 22 کے ایک افسر کی عزیز ہم وطنو والی صدا نے کانوں میں پگھلا سیسا انڈیلا تو لوگوں نے عدالت کا رخ کیا کہ یقیناً ہماری داد رسی ہوگی لیکن ہوا کیا؟ دونوں دفعہ دنیا نے یہ عدالتی تماشہ دیکھا کہ سائل عدالت سے پارلیمان بحال کرنے کی استدعا کر رہا ہے اور عدالت نے آئین شکن آمر مطلق کے بن مانگے اسے آئینی ترمیم کا  اختیار تک دے دیا۔ عدلیہ  نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے تقریبا نصف صدی بعد ان کے لواحقین کی بری بھلی دلجوئی تو کر دی ہے لیکن ضیا الحق اور پرویز مشرف کے غیر آئینی کاموں کا از سر نو جائزہ لے کر ملکی تاریخ میں ان آئین شکنوں کا درست مقام متعین کرنا ہماری آئینی ضرورت ہے۔ موجودہ چیف نے یہ کام نہ کیا تو سیٹھ وقار قسم کا کوئی شیر دل جج یقینا یہ کام کرے گا۔

ایک خوش آئند خبر کے مطابق پارلیمان آئینی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرریوں کا طریقہ بدل رہی ہے۔ موجودہ طریق کار نے عدلیہ کو زمین بوس کر رکھا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ تبدیلی آئینی ترمیم ہی کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن پارلیمان موجودہ آئین کے اندر رہ کر تفصیلی قانون سازی سے بھی عدلیہ کو علاوہ ازیں بہتر بنا سکتی ہے۔ 1999 کی آئین شکنی کے بعد مفلوج عدلیہ کو ہلکا سا مثبت لیکن جزوی افاقہ قاضی فائز عیسی کی صورت میں یقیناً ملا ہے لیکن یہ اتفاقی امر ہے۔ جب تک پارلیمان آئین کی روشنی میں مزید قانون سازی نہیں کرتی کسی پائیدار مثبت تبدیلی کی کوئی امید نہیں اور یوں ہم جسٹس شاہد کریم کے بزرگانہ احکام سے عدل تلاش کیا کریں گے۔ امید ہے کہ وزیراعظم، وزیر قانون اور پارلیمان اس طرف توجہ کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -