گھر تو جنت ہونا چاہیے مگر کیسے ؟ 

گھر تو جنت ہونا چاہیے مگر کیسے ؟ 
 گھر تو جنت ہونا چاہیے مگر کیسے ؟ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر : ڈاکٹر  محمد اعظم رضا تبسم 

کسی سلطنت کی کہانی ہے کہ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎہ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﯿﺮ ﮐﺮ ﺭہا ﺗﮭﺎ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻩ ﺍﯾﻨﭧ ہوﺍ ﻣﯿﮟ ﻗﻼﺑﺎﺯﯾﺎﮞ ﮐﮭﺎﺗﯽ ہوﺋﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ جا پہنچتی۔ ﺑﺎﺩﺷﺎہ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ہو ﮐﺮ ﻭﺯﯾﺮ ﺳﮯ پوچھا کہ ﮐﯿﺎ ﻭجہ ہے کہ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ہو ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ہوﺋﯽ ﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچ جاتی ہے؟
ﮐﯿﺎ یہ ﺍﺗﻨﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ہے؟
 ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩشاہ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ کہ ﺣﻀﻮﺭ اس طاقت کا ایک گہرا راز ہے ۔ 
بادشاہ نے وہ کیا ؟
 بادشاہ سلامت اصل میں اس شخص کی ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ بہت ﺍﭼﮭﯽ ﮔﺰﺭ رہی ہو گی ۔ اس کی بیوی اس کا بہت خیال رکھتی ہے اور یہی خوشگوار گھریلو ماحول اس کی طاقت ہے ۔ اسے لیے اس کی ﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچ جاتی ہے۔ 
ﺑﺎﺩﺷﺎہ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ اس پرمجھے ایک مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کرو کہ کیا ایسا ہی ہے ۔ 
 چنانچہ ﺍﯾﮏ ہفتہ ﺑﻌﺪچند ماہرین نے بادشاہ کو ایک جاندار سی ﺭﭘﻮﺭﭦ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ۔ رپورٹ اس طرح سے تھی : مزدور روز  شام کو گھر آتا ہے اور اس کی ﺑﯿﻮﯼ ﺷﺎﻡ ہوﺗﮯ ہی بہترین تیار ہو کر اس کا انتظار کرتی ہے ۔ ﺟﯿﺴﮯ ہی وہ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﺎ ہے وہ اس کو مسکرا کر خوش آمدید کہتی ہے ۔ سلام دعا کے ساتھ ہی وہ اسے پانی کا گلاس پیش کرتی ہے ۔ ساتھ ساتھ گپ شپ بھی کرتی ہے ۔ پھر اس کے غسل کے لیے نلکے سے ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﭩﯽ بھر کر غسل خانے رکھتی ہے اور صاف ﮐﭙﮍﮮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہے ۔ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ہی ﻧﮩﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ہوﺗﺎ ہے بیوی ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺘﯽ ہے ۔ کھانا پکاتے ہوئے مزدور کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہے نمک مرچ اس کی عادت اور صحت کے مطابق استعمال کرتی ہے ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ہو کر دونوں ہنسی خوشی باتیں کرتے ہیں ۔ گھر کا کوئی ضروری کام ہو تو مزدور وہ نمٹا لیتا ہے ۔ پھر رات کو بیوی ﻟﯿﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﻟﮕﺎﺗﯽ ہے ۔ ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﻫﺮ ﮐﻮ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺘﯽ ہے ۔ وہ ہربات سمجھداری سے کرتی ہے اور ﮐﺴﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ نہیں ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﯽ ہے۔پھر بستر پر وہ اپنے شوہر کے پاؤں بھی دباتی ہے ۔ اکثر وہ دونوں خوش مسکراتے ہی نظر آتے ہیں ۔ جب وہ تھکتی ہے تو شوہر کے کندھے پر سر رکھ لیتی ہے ۔ 
ﺟﺐ یہ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﺎﺩﺷﺎہ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ہوﺋﯽ ﺗﻮ ﻭہ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ہوا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ کہ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ  کچھ  ﺭﻧﺠﺶ اور چپقلش ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ نتیجہ نکلتا ہے۔ چنانچہ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ خاتون کی ملنے جلنے والی عورتوں کی مدد سے ﺍﯾﺴﺎ ہی کروا دیا۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ بات ڈالی کہ تمہارے ﺷﻮہر ﮐﮯ غیر ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ہیں ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮنہی ﮔﮭﺮ پہنچا ﺗﻮ سب کچھ بدلا ہوا ۔ نا خوش آمدید کہا گیا ۔ نا پینے کو پانی ملا ۔نا نہانے کو پانی کی بالٹی اور کپڑے ۔ بالآخر بڑی کوشش کے بعد شوہر کی منت سماجت کے بعد بیوی نے اس سے یہ شکوہ کیا کہ وہ کسی اور عورت کو توجہ دیتا ہے اسی بات پر وہ لڑ مرنے کو تیار ہو گئی۔ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻧﮯ بہت ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﮭﯽ کہ ماننے کو تیار ہی نہ ہوئی ﭼﻨﺪ ﺩﻥ یہ قصہ ﯾﻮنہی ﭼﻠﺘﺎ ﺭہا ۔  ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎہ ﮐﻮ ساتھ لیا اور ﺍﺱ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ دکھائی ۔ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ پہنچے ﺗﻮ دیکھا کہ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻻﮐھ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﻫﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﻨﭧ پہلی ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ نہیں ﺟﺎﺗﯽ تھی۔
 ﺑﺎﺩﺷﺎہ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﯽ ﻓﻬﻢ ﻭ ﻓﺮﺍﺳﺖ ﮐﻮ ﻣﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻫﻮ ﮔﯿﺎ کہ ﺍﯾﻨﭧ ﮐﻮ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﻃﺎﻗﺖ نہیں بلکہ انسان کی ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﮩﻨﭽﺎتی ﻫﮯ۔

قصہ ﻣﺨﺘﺼﺮ کہ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ کہ یہ ﺳﺐ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﺳﺎتھ  ﮈﺭﺍمہ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻫﻮﺋﯽ ﺗﻮ وہ ﺧﻮﺵ ﻫﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﻫﯽ ﺷﻮﻫﺮ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﻭہی ﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ۔

ﺣﻘﯿﻘﺖ یہی ﻫﮯ کہ ﺟﻮ شخص ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭘﺮیشانیوں ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ہے وہ اپنی دنیاوی زندگی کو احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں اور کاروباری مشغلے ہوں یا تجارتی ان میں ترقی کی منزلیں طے کرتے ہیں۔میاں بیوی گاڑی کے دوپہیے ہیں اس معاشرے میں آپ ہر شادی شدہ شخص کو دیکھیں جس کی گھریلو زندگی میں سکون ہے اس کا ہر کام اچھا ہے ۔ ایک شخص جو گھر سے پریشان ہو وہ باہر خواہ کتنی بھی عظیم شخصیت کا مالک ہو وہ اپنی پہچان کھونے لگتا ہے ۔ میاں بیوی کو اللہ نے ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے ۔ ایک دوسرے کے سکون کا ذریعہ بنایا ہے  ۔ مرد جو پورا دن باہر کمانے کی فکر میں ہوتا ہے اگر عورت اس سے اخلاق سے پیش نہ  آئے تو وہ گھر کبھی آباد نہیں رہتا ۔ خوشگوار زندگی کے لیے چند باتیں اپنے پلے سے باندھ لیں ۔ 
ایک دوسرے پر اعتماد کریں 
ہر وقت نرم لہجے اور نیچی آواز میں بات کریں

عورت اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرے اور مرد اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرے 
خواہشات کے پیچھے مت بھاگیں ۔۔ یہ کبھی پوری نہیں ہوتیں 
دنیا میں خالی ہاتھ آئے ہیں ، خالی ہاتھ واپس جانا ہے ۔ درمیان والے عرصے میں چیزوں کے لیے مت لڑیں اور تعلق برباد نہ کریں ۔ 
غصے کی حالت میں مکمل خاموش ہو جائیں 
اگر کبھی ناراض ہوں تو مکمل دوری نہ کریں بلکہ راضی کرنے ہونے یا منانے کے لیے ایک دروازہ کھلا رکھیں 
 ناراضی آگے نہ بڑھائیں اسے مٹا دیں 
کسی بات سے دل خفا ہو تو اس کا اظہار مناسب الفاظ میں کیا جائے اور سننے والا اس بات پر خوش ہو کہ ہم اپنی ہر بات آپس میں کر لیتے ہیں کسی تیسرے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ 
ایک جملہ ہر لمحہ یاد رکھیں  جس گھر میں فیصلے کے لیے تیسرے انسان کی ضرورت پڑتی ہے وہ زیادہ دیر آباد نہیں رہ سکتا ۔ 
شادی شدہ زندگی کے بارے مشورہ شادی شدہ انسان سے ہی کریں لیکن وہ جس کے کردار اور فہم و فراست کی سب مثال دیں ۔ اس مخلص سے نہیں جو صرف آپ کو مخلص نظر آرہا ہو کبھی کبھار وہی تعلق آستین کا سانپ ثابت ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کا دیا مشورہ گلے پڑ جاتا ہے ۔ 
مرد رزق حلال کمائے اور عورت رزق حلال میں خود کو ایڈجسٹ کرے ۔ اگر مرد حرام کمائے گا تو بھی زندگی پر برا اثر پڑے گا اور اگر عورت خواہشات کا پٹارا کھول کر بیٹھی رہے گی تو بھی گھر بے سکون ہو گا ۔ 
 ماں باپ ساتھ ہوں تو ان کی بات توجہ سے سنیں ۔ مرد اور عورت دونوں ماں باپ کی خدمت کریں۔
میاں بیوی ایک دوسرے پر اعتماد کریں ۔ ہر بات کا مشورہ پہلے آپس میں کریں ۔ 
اگر بڑے بہن بھائی ہیں تو جائز ذمہ داریاں پوری کریں ۔ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کا اس معاملے میں ساتھ دیں ۔ 
مسائل ہوں تو ان کو حل کرنے کی کوشش کریں نا کہ ان کی تشہیر کریں ۔
نوٹ : ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -