اسلم رئیسانی کی حکومت کو سانس لینے کی مہلت

اسلم رئیسانی کی حکومت کو سانس لینے کی مہلت
اسلم رئیسانی کی حکومت کو سانس لینے کی مہلت

  

سپریم کورٹ نے بلوچستان کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے عبوری حکم جاری کیا، جبکہ 31 اکتوبر کو کارروائی کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب آئین کی خلاف ورزی میں لگے ہوئے ہیں۔ صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ کسی نے نوٹس نہیں لیا ۔ بلوچستان حکومت کن اختیارات کے تحت کام کر رہی ہے؟ صوبائی حکومت کے پاس حکمرانی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وفاقی حکومت بھی نوٹس نہیں لے رہی ۔ عبوری حکم کے بعد بلوچستان حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں رہا۔ صوبائی حکومت کے فنڈز روک دئیے جائیں....سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد نواب محمد اسلم رئیسانی نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا سپیکر بلوچستان اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کو کہا تو انہوں نے انکار کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد، مَیں نے اجلاس طلب کیا تو مَیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف توہین عدالت کا مرتکب ہوں گا۔ اس لئے انہوں نے گورنر بلوچستان کو خط لکھا۔ گورنر بلوچستان نے سپیکر کو اجلاس بلانے کا کہہ دیا ہے۔ اب بلوچستان اسمبلی کا اجلاس نومبر میں ہوگا۔

اس فیصلے کے بعدجمعیت العلمائے اسلام نے نواب محمد اسلم رئیسانی پر دباو بڑھانا شروع کر دیا انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ جمعیت علیحدہ ہوئی تو حکومت جا سکتی ہے۔ اس لئے نواب محمد اسلم رئیسانی قلعہ سیف اللہ پہنچے اور جمعیت کے سینئر وزیر عبدالواسع سے ملاقات کی اور تمام مطالبات تسلیم کر لئے۔ اس لئے انہیں اطمینان ہوگیا۔ نواب محمد اسلم رئیسانی کی مخالفت میں سب سے سرگرم پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر صادق عمرانی تھے۔ انہوں نے ان کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی۔ پریس کانفرنس اور بیانات دئیے۔ اے این پی نے بھی حکومت کے رویہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی کارکردگی سے اے این پی ناراض ہے اور موجودہ صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی نے اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری، کور کمانڈر بھی شامل تھے۔ نواب محمد اسلم رئیسانی کو کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست داخل کریں۔

سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد جماعت اسلامی، بی این پی (مینگل)، نیشنل پارٹی، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماو¿ں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مستعفی ہو جائے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری انتخابات کرائے جائیں اور وزراءکے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کئے جائیں۔ صادق عمرانی نے وزیر اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ صادق عمرانی کے اس مطالبے کے بعد ساروان ہاﺅس (وزیراعلیٰ جہاں رہائش پذیر ہیں، اسے ساروان ہاﺅس کہتے ہیں) کے ترجمان نے بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ صادق عمرانی کے الزامات توہین آمیز ہیں۔ ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے گا، مزید کہا کہ صادق عمرانی قرآن پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ انہوں نے ساروان ہاﺅس میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر معافی نہیں مانگی تھی۔ اس دوران یکم نومبر کو پی پی قلات کے صدر رفیق سجاد نے نواب محمد اسلم رئیسانی کی ممبر شپ ختم کر دی۔ بیان میں کہا گیا کہ نواب اسلم رئیسانی پیپلز پارٹی کی پالیسی کے خلاف کام کر رہے تھے ، انہیں اس حوالے سے دو نوٹس پہلے بھی بھجوائے گئے تھے، یوں اسلم رئیسانی کا وہ چیلنج کہ میری رکنیت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ قلات کے صدر نے قبول کر لیا اور ان کی بنیادی رکنیت ختم کر دی۔

اب نواب رئیسانی کو فریال تالپور نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی رکنیت بحال ہے اور اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ ٹی وی پر ایک سوال کے جواب میں نواب اسلم رئیسانی نے مذاقاً کہا کہ مَیں پیپلز پارٹی کا 5 روپے کا ممبر ہوں، اگر ممبر شپ ختم کر دی گئی تو ( جمعیت العلمائے اسلام کے وزیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ) ان کی پارٹی مجھے 10 روپے کا ممبر بنا لے گی۔ نواب اسلم رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 62 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ 62 ارکان اسمبلی میں سے اکثریت وزراءکی ہے اور جو رہ گئے ہیں، انہیں مشیر بنا دیا گیا ہے۔ عبوری حکم کے بعد سپریم کورٹ میں سردار اختر مینگل کا تحریری بیان پارٹی کی طرف سے داخل کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ حکومت کو بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کرے۔

قارئین محترم! بلوچستان کی حکومت اس وقت تک قائم رہے گی، جب تک ایوان صدر میں جناب آصف علی زرداری حکم جاری نہیں کرتے۔ اس فیصلے سے قبل نواب محمد اسلم رئیسانی کا رویہ وفاق سے باغیانہ تھا، مگر سپریم کورٹ کے عبوری حکم نے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔ اب وہ آصف علی زرداری کے رحم و کرم پر ہیں۔ بلوچستان میں نواب محمد اسلم رئیسانی نے تاریخ کی بالکل انوکھی مثال قائم کی کہ تمام ارکان اسمبلی کے منہ میں وزارتوں کے لولی پاپ دے رکھے ہیں، اس لئے ان کا زیادہ وقت اسلام آباد میں گزرتا رہا۔ اب لوگ مذاقاً کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کوئٹہ کے دورے پر آتے ہیں۔ 62 وزراءاپنی اپنی وزارتوں میں مصروف ہیں، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اس سال 30 کروڑ روپے ہر ایم پی اے کو دئیے گئے ہیں۔ خواہ وہ وزیر ہو یا نہ ہو، یوں ان 5 سال میں ہر ممبر اسمبلی کو ایک ارب 30 کروڑ روپے دئیے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں 6 وزیر ہیں، انہیں5 سال میں7 ارب 80 کروڑ کی خطیر رقم دی گئی ہے۔ 1972ءمیں سردار عطاءاللہ مینگل کا بجٹ بلوچستان کے لئے 32 کروڑ تھا، تب کوئٹہ اس موجود کوئٹہ سے کئی گنا خوبصورت اور صاف ستھرا تھا۔ اس دور حکومت میں لوٹ مار کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان میں صرف یار محمد رند ہیں، جو حکومت میں شامل نہیں ہیں۔

نواب غوث بخش رئیسانی کے قتل کے بعد رندوں اور رئیسانی میں قبائلی چپقلش ایک طویل عرصے سے جاری ہے بے شمار لوگ قتل ہوگئے ہیں۔ ان کا تعلق بھی مسلم لیگ (ق) سے ہے اور مسلم لیگ (ق) حکومت بلوچستان کا حصہ ہے تو یار محمد رند کس لحاظ سے قائد حزب اختلاف بن سکتے ہیں۔ وہ اسمبلی میں صرف حلف اٹھانے آئے تھے، اس کے بعد سے وہ رخصت پر ہیں۔ وفاق کی جانب سے ابھی تک کوئی قدم نواب محمد اسلم رئیسانی کے خلاف نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اس لئے بظاہر طوفان تھم گیا ہے، مگر اندر کھچڑی پک رہی ہے۔ اب طویل عرصے کے بعد سپیکر کھل کر وزیراعلیٰ کے خلاف میدان میں اترے ہیں۔اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 5 ممبر تھے، بعد میں بادشاہ گروپ نے تاج پیپلز پارٹی کے نواب محمد اسلم رئیسانی کے سر پر رکھ دیا۔ اس سے قبل وزارت اعلیٰ کے لئے جام محمد یوسف دعویدار تھے۔ انہوں نے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتی تھیں۔ جام یوسف وزیراعلیٰ بن جاتے۔ ان کے راستہ میں نواب محمد اسلم بھوتانی رکاوٹ بن گئے اور مسلم لیگ (ق) میں اپنا گروپ بنا لیا۔ یوں مسلم لیگ تقسیم ہوگئی، اسلم بھوتانی سپیکر بننا چاہتے تھے۔ اس لئے انہیں سپیکر بنا دیا گیا۔

ان کی مرضی کی وزارت دے دی گئی۔ وہ بھی خوش ہوگئے۔ یوں جام محمد یوسف کو بلوچستان اسمبلی کی صوبائی نشست چھوڑنا پڑی اور انہوں نے اپنے داماد کو الیکشن میں جتوایا اور اب حکومت میں تو شامل نہیں، لیکن حکومت کے حامی ہیں۔ جمعیت العلماءاسلام کو سینئر منسٹرشپ دی گئی اور ڈپٹی سپیکر کا عہدہ دیا گیا۔ باقی تمام ممبروں کو وزارتیں دی گئی ہیں۔ جمعیت العلمائے اسلام کا مسئلہ صرف وزارتیں حاصل کرنا ہے۔ یہ سلسلہ انہوں نے 1972ءسے شروع کیا ہوا ہے۔ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی سب سے منظور نظر پارٹی ہے۔ ہر حکومت میں شامل رہی ہے، خواہ حکومت نوابوں کی رہی ہو، سرداروں کی ہو یا جاگیر داروں کی ہو۔ ان کی مکمل تائید اقتدار کو ہمیشہ حاصل رہی ہے اور جب اشارہ ہو تو حکومت سے فوراً علیحدہ ہو جاتے ہیں اور نئے کھیل میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم اپنا کتنا اثر دکھاتا ہے اور اس پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں۔ اب تک سپریم کورٹ کے جتنے بھی فیصلے ہوئے ہیں، ان پر عمل اس لئے نہیں کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے حق میں نہیں تھے ، یا اس کو پسند نہیں تھے۔ اصغر خان کیس کے فیصلے پر پیپلز پارٹی نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے تو وہ ایک نظر بلوچستان حکومت کے حوالے سے بھی سپریم کورٹ کے عبوری حکم کا مطالعہ کرے تو بہتر ہوگا۔ فی الحال نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو کچھ سانس لینے کی مہلت مل گئی ہے، جس دن یہ مہلت ختم ہوئی حکومت گھروں کو چلی جائے گی۔ ٭

مزید :

کالم -