فلسطینی حکمراں جماعت فتح نے یاسر عرفات کی برسی منانے سے معذرت کرلی

فلسطینی حکمراں جماعت فتح نے یاسر عرفات کی برسی منانے سے معذرت کرلی

  

غزہ (این این آئی)فلسطین کی حکمران جماعت 'فتح‘ نے سابق صدر یاسر عرفات مرحوم کی دسویں برسی کے موقع پر غزہ کی پٹی میں جلسے کی سیکیورٹی کی ضمانت نہ ملنے پر تقریبات منسوخ کر دیں،فتح کی جانب سے کہا گیا کہ اسلامی تحریک مزاحمت”حماس“ نے غزہ کی پٹی میں یاسر عرفات کی برسی کے حوالے سے ایک تعزیتی پروگرام کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کی ہے جس کے بعد پروگرام منسوخ کیا جا رہا ہے۔تحریک فتح کے ترجمان فائز ابوعیطہ نے فرانسسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں آنجہانی یاسر عرفات کی دسویں برسی کی تقریبات سیکیورٹی نہ ملنے کے باعث منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی سیاسی اور سیکیورٹی قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ سابق فلسطینی لیڈر کی برسی کی تقریبات اور جلسے کے لیے سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ سیکیورٹی نہ ملنے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ہمیں یاسر عرفات کی برسی کی تقریبات منسوخ کرنے کا دکھ ہے مگر ہم نے قومی مفاہمت کی خاطر اسے قبول کر لیا ہے۔ ہم شہریوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں حماس کے سیکیورٹی حکام نے الکتیبہ گراﺅنڈ میں تعزیتی جلسے کی تیاری کرنے والے کارکنوں کو وہاں سے نکال دیا اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی 'فتح' سے عدم تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کا یہ طرز عمل قومی مفاہمتی عمل کے خلاف ہے۔قبل ازیں غزہ وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تحریک فتح کی جانب سے انہیں باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ وہ یاسر عرفات کی برسی کے لیے جلسہ کرنا چاہتئے ہیں۔ ہم کسی گروپ، سیاسی جماعت یا مسلح تنظیم کو جلسے جلوسوں کی آڑ میں شہر کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ جب سے فلسطین میں قومی حکومت تشکیل دی گئی ہے اس کے بعد سے اب تک غزہ کے ملازمین کو تنخواہیں جاری نہیں کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین فلسطینی اتھارٹی اور 'فتح' پر سخت برہم ہیں۔ اس لیے موجودہ حالات میں 'فتح' کا جلسہ کسی قسم کی بدنظمی کا باعث بن سکتا ہے۔خیال رہے کہ فتح اور حماس کے درمیان تازہ کشیدگی تین روز قبل اس وقت پیدا ہوئی تھی جب شہر میں 'فتح' کے ایک منحرف گروپ کے رہ نماﺅں کے 10 مکانات کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ فتح نے ان دھماکوں کا الزام حماس پر عائد کیا تھا جبکہ حماس نے اس دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے 'فتح' کے داخلی انتشار کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -