بشارالاسد کا حلب میں لڑائی ''منجمد'' کرنے کی تجویز پرغور

بشارالاسد کا حلب میں لڑائی ''منجمد'' کرنے کی تجویز پرغور

  

دمشق(ثناءنیوز)شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ شمالی شہر حلب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی ''منجمد'' کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جانب سے پیش کردہ تجویز پرغور کے لیے تیار ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے دمشق میں صدر بشارالاسد سے ملاقات کی اور انھیں حلب میں شامی فوج اور اس کے مخالف باغی گروپوں کے درمیان لڑائی بند کرانے سے متعلق اپنے منصوبے کے اہم نکات سے آگاہ کیا ہے۔شامی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''بشارالاسد نے اس تجویز کو اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے یہ وہ اس کا جائزہ لیں گے''۔ان کا کہنا ہے کہ حلب میں امن وامان کے قیام کے لیے اس تجویز پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ڈی مستورا کا جولائی میں شام کے لیے امن ایلچی مقرر ہونے کے بعد دمشق کا یہ دوسرا دورہ ہے۔انھوں نے 30 اکتوبر کو شام کے لیے ایک لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا جس میں انھوں نے بعض علاقوں میں لڑائی منجمد کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خانہ جنگی سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچایا جاسکے اور امن بات چیت کے آغاز کی راہ ہموار ہوسکے۔شامی صدربشارالاسد نے حلب کی اہمیت پر زوردیا ہے''۔خانہ جنگی کا شکار ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں جولائی 2012 سے اسدی فوج اور باغیوںکے درمیان لڑائی جاری ہے اور ان میں سے کوئی بھی فریق اس پر مکمل طور پر اپنا کنٹرول قائم نہیں کرسکا ہے۔شہر کے ایک حصے پر اسدی فوج کا قبضہ برقرار ہے اور دوسرے حصے پر باغیوں کا کنٹرول ہے۔دسمبر 2013 کے بعد سے شامی فوج کے جنگی طیارے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر کم وبیش روزانہ ہی بمباری کررہے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

شامی فوج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں پر عاید پابندی کے باوجود یہ سب کچھ کررہی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -