کاشتکار مرچ کی نرسری کی کاشت 15نومبر تک مکمل کر لیں

کاشتکار مرچ کی نرسری کی کاشت 15نومبر تک مکمل کر لیں

لاہور(اے پی پی) کاشتکار مرچ کی نرسری کی کاشت 15نومبر تک مکمل کر لیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق تیار کردہ پنیری کوجنوری کے مہینہ میں کھیت میںمنتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرچ کی پنیری کی منتقلی کے لیے زرخیز میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ وافر مقدار میں ہوکا انتخاب کریں۔ان زمینوں میں نمی دیر تک قائم رہتی ہے اورمرچ کی جڑیں زمین کے نیچے آسانی سے خوراک حاصل کرکے بڑھتی اور پھولتی رہتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرچ کی پنیر ی کی کھیت میں منتقلی سے پہلے فی ایکڑ دس تا بارہ ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد میں 20کلو گرام یوریا ملا کر استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ کھیت کی آبپاشی کریں اور وتر آنے پر دو تین ہل بمعہ سہاگہ چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیں تاکہ جڑی بوٹیاں کاشت سے پہلے اگ آئیں۔جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد دوبارہ ہل چلا کر جڑی بوٹیوں کی تلفی کریں اور کھیت کو کھلا چھوڑ دیں تاکہ دھوپ لگنے سے زمینی بیماریوں کے جراثیم ختم ہوجائیں ۔

 زمین تیار کرنے کے بعد اڑھائی فٹ چوڑی اورآٹھ سے دس انچ گہری کھیلیاں بنائیں ۔انہوںنے کہاکہمرچ کی پنیری منتقلی کے وقت پنیری والے کھیت کی ہلکی آبپاشی کریں اور پنیری کو کھیت سے وتر حالت میں اس طرح اکھاڑیں کہ اس کی جڑیں نہ ٹوٹنے پائیں۔مرچ کی نرسری کے پودے کھیلیوں کے دونوں طرف ایک فٹ کے فاصلے پر لگائیں اور کھیت کو پانی لگادیں۔پنیر ی منتقلی کے بعد فصل کوکورے کے اثرات سے محفوظ کرنے کے لیے شمال ومغربی سائیڈ پر سرکنڈا وغیرہ کی باڑ لگائیں۔سرد راتوںمیں پہلی دو تین آبپاشیاں پانچ سے چھ دن کے وقفہ سے لگائیں اس کے بعد آبپاشی کا دورانیہ ہفتہ سے دس دن تک بڑھادیں۔اوسط زرخیز زمینوں میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی ، ایک بوری سلفیٹ آف پوٹاش بوقت پنیری منتقلی کھیت میں ڈالیں۔ مرچ کی فصل کو کالرراٹ پھپھوندی کی بیماری سے بچاﺅ کیلئے پھپھوند کش زہر 2گرام فی لیٹر پانی میںملا کرپنیری کی جڑوں کو پانی تک اس محلول میں بھگوئیں۔مہر عابد حسین نے کہا کہ مرچ پنجاب کی اہم سبزی ہے کیونکہ اس میں معدنی نمکیات اور حیاتین "الف "و "ب©©©"اور بڑی مقدار میں "ج"کے علاوہ نشاستہ اور طاقت کی اکائیاں کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں جو کہ صحت کے لیے مفید ہیں۔مرچ کو تمام سبزیوں کے ساتھ ملا کر پکانے کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔

مزید : کامرس


loading...