لاہورچیمبرنے صنعتوں کو 4ماہ گیس بندش کا منصوبہ مستردکردیا

لاہورچیمبرنے صنعتوں کو 4ماہ گیس بندش کا منصوبہ مستردکردیا

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پنجاب کی صنعتوں کو چار ماہ گیس بندش کا منصوبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صنعتی شعبہ مزید بحران کا شکار ہوگا، لاکھوں افراد کا روزگار اور اربوں ڈالر کی برآمدات داﺅ پر لگ جائیں گی لہذا گیس کی سپلائی کے سلسلے میں پنجاب کی صنعتوں سے امتیازی سلوک بند کیا جائے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ پنجاب کی صنعتوں کو چار ماہ کے لیے گیس کی بندش حکومت کے خلاف سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے کیونکہ بے روزگاری میں اضافے سے حکومت مخالف جذبات کو ہوا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی بندش سے صرف صنعتوں ہی کو نہیں بلکہ حکومت کو بھی محاصل کی مد میں بھاری نقصان ہوگا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ گیس بند ہونے کے بعد صنعتکار اپنا مارک اپ اور دیگر واجبات کیسے ادا کریں گے؟ دنیا بھر میں صنعتی شعبے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پنجاب میں چالیس فیصد صنعتی یونٹس گیس پر چلتے ہیں جنہیں گیس کی سپلائی روکنے کا مطلب تقریباً آدھی صنعت کا پہیہ روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے برآمدات کا فروغ ناگزیر ہے لیکن صنعتوں کو جب گیس ہی میسر نہیں ہوگی تو وہ اپنے برآمدی آرڈرز کس طرح پورے کر پائیں گی، نتیجہ مجموعی قومی برآمدات میں کمی کی صورت میں برآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے مقامی و غیرملکی سرمایہ کاری کی صورتحال پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہونگے، بالخصوص غیرملکی سرمایہ کاروں کو بہت منفی پیغام ملے گا اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔ اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ صرف گیس کی قلت ہی نہیں بلکہ اس کی غیر منظم سپلائی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ۔

جسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے حکومت پر زور دیا کہ گیس کی سپلائی کے سلسلے میں وہ فوری طور پر اپنی ترجیحات از سر نو متعین کرے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔

مزید :

کامرس -