سات برسوں کے دورا ن ہونے والی نجکاری نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو ئی

سات برسوں کے دورا ن ہونے والی نجکاری نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو ئی

  

لاہور(کامرس رپورٹر)کاروباری طبقہ کے رہنماوں نے نجکاری کے موجودہ طریق کار اور رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران ملک میں ہونے والی نجکاری نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو ئی۔ ان خیالات کا اظہار فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدارتی امیدوار میاں انجم نثار نے گزشتہ روز یہاں بزنس لیڈرز کے ایک اجتماع سے خطاب میں کیا ،انہوں نے کہا کہ کاروبار میں حکومت کی دخل اندازی نہ ہونے کے باوجود حکومتی منصوبہ ساز نجکاری کا عمل انتہائی سست روی سے چلا رہے ہیں ۔ میاں انجم نثار نے کہا کہ حکومتی سرپرستی میں چلنے والی پاور کمپنیاں حکومت کے لیے بھاری نقصانات کا باعث بنی ہوئی ہیں اس کے باوجود 2005ءکے بعد بجلی پیدا کرنے یا تقسیم کار کسی کمپنی کی نجکار نہیں کی گئی - انہوں نے بتایا کہ 2005 میں کراچی الیکٹرک کمپنی کو نجی شعبہ میں دیا گیا - شروع میں کمپنی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس وقت کمپنی خاصی اچھی حالت میں ہے۔

 انہوں نے بتایاکہ کراچی الیکٹرک کمپنی کی بجلی سرکاری کمپنیوں کی نسبت کافی سستی ہے - فیڈریشن کے صدارتی امیدوار نے اس موقع پر ایوانہائے صنعت و تجارت اور فیڈریشن کو توجہ دلائی کہ وہ نجکاری کا عمل تیز تر کرنے کے لیے حکومت پر دباو بڑھائیں - اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے سابق صدر انجنئر سہیل لاشاری نے کہا کہ حکومتی سرپرستی میں سیمنٹ کمیپنیوں کی صورت حال کافی خراب تھی لیکن نجی شعبہ میں آنے کے بعد سٹاک مارکیٹ کی اچھی کمپنیوں میں شامل ہیں - انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد کمپنیوں نے خود کو ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ کر لیا ہے اور اپنی پیداواری گنجائش میں 400 فیصد تک اضافہ کر لیا ہے - انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد ملک میں سیمنٹ کی قلت پیدا نہیں ہوئی - انڈیا افغانستان بنگلہ دیشن اور افریقن ممالک کو سیمنٹ ایکسپورٹ ہو رہا ہے - لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر نے کہا کہ 1993 اور 1996 کے دوران رائس پلانٹس کی نجکاری کے بعد پاکستان چاول کی ایکسپورٹ میں کافی بہتر صورت حال میں آ چکا ہے - پاکستان 2 - ارب ڈالر سالانہ کے چاول برآمد کر رہا ہے ۔

مزید :

کامرس -