’’یو ٹرن لیتا نیا پاکستان‘‘

’’یو ٹرن لیتا نیا پاکستان‘‘
’’یو ٹرن لیتا نیا پاکستان‘‘

  


دو سیاسی ’’کزنوں‘‘ کا دھرنا 14اگست سے اسلام آباد میں شروع ہوا تھا۔ ایک کزن(جناب طاہر القادری) 22اکتوبر کودھرنا ختم کر کے اپنے دوسرے وطن کینیڈا پرواز کر گئے جہاں وہ آج کل سڑک کنارے ’’سب وے‘‘ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں برگر کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی اس تصویر کا چرچا سوشل میڈیا پر بھی ہورہا ہے۔ بعض ستم ظریف یہ تک کہہ رہے ہیں ’’بالآخر کینیڈا کی ایک سڑک پر قادری انقلاب آہی گیا‘‘۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے دعووں کے مطابق ان کا ’’انقلاب مارچ‘‘ پاکستان سے کرپٹ نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار تھا، جس کے لئے وہ اپنے ہزاروں انقلابی کارکنوں کے ساتھ شہادت کا اعلیٰ مقام پانے کا اعلان بھی کرتے تھے۔ خیر اِس وقت ہمارا موضوع ’’نئے پاکستان‘‘ کے بانی عمران خان ہیں جو ایک نیا یو ٹرن لیتے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ دِنوں انہوں نے سراج الحق سے ملاقات کی اور ’’دھاندلی‘‘ کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ پر اعتماد کا بھرپور اظہار کیا۔ قارئین کو یاد ہو تو 12اگست کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم محمد نوازشریف سپریم کورٹ سے تحقیقات کروانے کا اعلان کر چکے تھے اور چیف جسٹس صاحب کو تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کے لئے خط بھی لکھ دیا تھا۔

اب عمران خاں سپریم کورٹ کے تحت تحقیقات کرانے کی بات کررہے ہیں تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ 12اگست کو ہی وزیراعظم کی بات مان لیتے، لیکن بقول اُن کے فاسٹ باؤلر بے صبرا ہوتا ہے، شاید انہیں کسی مخصوص دروازے سے اقتدار میں آنے کی جلدی تھی۔ اب وہ وزیراعظم کے فوری استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ اس یوٹرن کی ایک بڑی وجہ قادری صاحب کے دھرنے کا خاتمہ بھی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب خاں صاحب کے دھرنے میں 200 کے قریب خیمے اور ان میں ڈیڑھ سو لوگ ہیں۔تقریباً تین ماہ کے اس دھرنے میں خان صاحب نے جو زُبان استعمال کی کیا وہ ان جیسے لیڈر کے شایانِ شان تھی؟ مخالفین پر بھرپور بہتان تراشی ، اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو بکاؤ مال قرار دینا، معزز قومی اداروں اور شخصیات کی بے دریغ پگڑیاں اُچھالنا ، اپنے کارکنوں کو تشدد پر اُبھارنا، یہ کیسا نیا پاکستان تھا ،جو بننے جا رہا تھا؟

کبھی سول نافرمانی کی کال جس کی خود تحریک انصاف کے رہنماؤں سمیت عوام نے بھرپور نافرمانی کی، جبکہ FBR کے مطابق اس سال معمول سے ایک ارب زائد ٹیکس ریکوری ہوئی۔ سب سے بڑھ کر چینی صدر کے دورے کا منسوخ ہونا، جس سے 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آنا تھی یہ تو پاک چائنہ دوستی کی مضبوطی ہے کہ اس کے بعد بھی معاملات ٹھیک رہے اور وزیر اعظم کے دورۂ چین کے نتیجے میں 42ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوگئے ۔تحریک انصاف نے دھرنا تحریک میں اسمبلیوں سے استعفوں کا پتہ بھی کھیلا، جس پر اُسے اپنی ہی صفوں میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ استعفیٰ تو صرف ملتان کے ’’باغی‘‘ نے دیا۔استعفوں کا معاملہ اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس حوالے سے بہت پریشان ہے ، جبکہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق پرسکون ہیں۔

پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ اس کے ارکانِ اسمبلی استعفوں کی تصدیق کے لئے ایک ساتھ جائیں گے، جبکہ سپیکر صاحب کا اصرار ہے(جو آئینی اور قانونی ہے) کہ ارکانِ اسمبلی الگ الگ تصدیق کے لئے آئیں۔ دراصل پی ٹی آئی کی قیادت کو خوف ہے کہ اکیلے میں بہت سے ارکان استعفے سے انکار کرسکتے ہیں،جس کی مثال نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سراج محمد خان ہیں،جنہوں نے تحریری طور پر سپیکر کو آگاہ کر دیا ہے کہ استعفے کے لئے اُن پر دباؤ تھا، لیکن وہ مستعفی نہیں ہونا چاہتے، اس لئے اُن کا استعفیٰ قبول نہ کیا جائے۔ سپیکر نے سراج محمد خان کی یہ درخواست قبول کر لی، جبکہ سراج خان کے علاوہ قیصر جمال اور سلیم الرحمن بھی 30اکتوبر کو شاہ محمود قریشی کے ساتھ نہیں گئے تھے، مسرت زیب، گلزار خان اور ناصر خٹک پہلے ہی باغی ہو چکے ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے ، ایک طرف عمران خاں استعفوں کا شور مچائے جا رہے ہیں، دوسری طرف اسد عمر قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کی حیثیت سے بدستور مراعات لے رہے ہیں، اسے دوہری پالیسی نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان تو پہلے ہی مستعفیٰ ہونے کے لئے تیار نہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد دھرنے میں ’’گو نوازگو‘‘ کے نعرے لگانے والے وزیراعلیٰ پرویز خٹک گزشتہ دنوں وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم سے الگ سے ملاقات بھی کی ظاہر ہے، یہ ملاقات انہوں نے اپنے چیئرمین کی اجازت ہی سے کی ہوگی۔

مزید : کالم


loading...