طوطا کہانی (1)

طوطا کہانی (1)

آج کے کالم کے لئے ذہن میں کئی موضوعات مرتب ہو رہے تھے، لیکن کسی جگہ طوطا کہانی پڑھی تو ذہن سے سارا مواد تحلیل ہو گیا۔ہم ہر روز اپنے قومی مسائل پر مبنی مباحث پر بحث کرتے ہیں۔ اخبارات، جرائد اور نجی گفتگو میں ایک دوسرے کے ساتھ پاکستان کو درپیش موجودہ مسائل کا ذکر بڑے زور شور سے ہوتا ہے، لیکن ہمارا ارتکاز اس بات پر نہیں ہو پاتا کہ ہمارا اصل اور بڑا مسئلہ کیا ہے؟اصلی چیلنج پر بات تو ہوتی ہے، لیکن اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا۔اس بات سے کسے انکار ہے کہ ہمارے قومی مسائل میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی، تعلیمی انحطاط کا تسلسل، دہشت گردی کا فروغ، مذہبی عدم رواداری، اقتصادی ناہمواری اور قومی قیادت کے لئے قحط الرجال شامل ہیں۔ان سب پر قومی میڈیا کے ذریعے بڑے بڑے لکھنے والوں کے پُر مغز خیالات سے ہم مستفید ہوتے رہتے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ من حیث القوم ہم سارے مسائل کی جڑ کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہر موضوع پر لکھنے والے طوطا مینا کی کہانیاں سناتے نظر آتے ہیں، لیکن ہم ابھی تک اپنے بنیادی قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے سے قاصر رہے ہیں۔یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہمارا قومی مسئلہ اصل میں کیا ہے؟ جس کے ساتھ دیگر مسائل مربوط ہیں۔

قومی تعلیمی انحطاط ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر حکومت اور پورے معاشرے کو دل جمعی کے ساتھ توجہ دینا ہوگی۔قومی زندگی کا یہ اہم ترین پہلو ہماری نظروں سے اوجھل ہے،جس میں بہتری لا کر ہی ہم قومی انقلاب بپا کر سکتے ہیں، کیونکہ دیگر سب شعبہ جات کے مسائل کا حل اس شعبے کی بہتری میں مضمر ہے۔ تعلیمی میدان میں ہماری کوتاہیوں کی ایک ایسی طویل فہرست ہے کہ ایک کالم شاید اس کا احاطہ کرنے کا متحمل نہ ہو سکے۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ قوم کے ہر فرد کو زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کا موقعہ فراہم کرے اور ایسا کرنے کے لئے تعلیمی شعبے کی کارکردگی کو مثالی بنانا ہی ہماری سب سے بڑی قومی ذمہ داری ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس پہلو کی اہمیت سے ہم کماحقہ شناسا دکھائی نہیں دیتے۔نصف صدی سے زائد وقت گزرجانے کے باوجود ہماری سرکار کی توجہ اس شعبے پر اتنی ہے کہ آج بھی ہمارا قومی تعلیمی بجٹ قومی آمدنی کے 2فیصد سے بھی کم ہے۔اندازہ لگایئے کہ 18کروڑ کی آبادی کے ملک کے لئے اتنی قلیل مقدار میں وسائل کی فراہمی سے کیا اتنے گھمبیر مسئلے سے نبردآزما ہوا جا سکتا ہے، جبکہ ہماری آبادی کے بڑھنے کی رفتار 2.87فیصد سالانہ ہو چکی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں آبادی کے اضافے کے علی الرغم کیا اتنی قلیل مقدار میں وسائل کی فراہمی سے ہم اس شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں؟ بلکہ ہم تنزلی کی طرف گامزن ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا خواندگی کا سالانہ اعشاریہ 60فیصد بتایا جا رہا ہے ، بلکہ اصل میں تو یہ اعشاریہ اس سے بھی کم ہے، کیونکہ خواندگی کی تعریف میں اپنے نام لکھنے والے کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔پھر شہری اور دیہی آبادی کے تناسب کی رو سے دیکھا جائے تو یہ شرح اور بھی کم دکھائی دیتی ہے، بلکہ شرمندگی کی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ جتنے تعلیمی کمیشن آزادی کے بعد تعلیمی اصلاحات کے لئے تشکیل دیئے جا چکے ہیں، کیا ان کی سفارشات پر عمل کیا گیا، بلکہ کیا ایسی سفارشات تک عوام کی رسائی یقینی بنائی گئی۔اس وقت المیہ یہ ہے کہ ہماری آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دو کروڑ سے زائد سکول جانے کی عمر کے بچے تعلیم سے محروم رہ رہے ہیں اور جو سکولوں میں داخل ہوتے ہیں، ان کا 80 فیصد حصہ سکولوں میں جانے کے بعد تعلیم سے اپنا ناطہ توڑ لیتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کے لیول تک آبادی کا صرف 2فیصد حصہ ہی پہنچ پاتا ہے۔

اس تعلیمی انحطاط کو روکنے کے لئے آج تک کسی حکومت نے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔ پرائمری سطح پر تعلیمی عملے کی استعداد کار پر کتنے سوالیہ نشان ہیں۔اس سطح پر تعلیمی معیار کے اساتذہ کی بھرتیوں کا معیار کس قدر پست ہے۔اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔اس پر مستزاد اساتذہ کے حالات کار کس قدر دگرگوں ہیں؟ ایک علیحدہ کہانی ہے۔سوسائٹی کے اچھے طبقات میں سے لوگوں کا اس شعبے میں آنا ایک ثواب ہے۔اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں خاص کر بنیادی پرائمری کی سطح پر تعلیمی سہولتوں کا فقدان اس قدر واضح ہے کہ ان سکولوں کو تعلیمی ادارے کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ان سکولوں میں اساتذہ کی کمی کے علاوہ مناسب کمروں کی کمیابی، انسانی ضروریات کے مطابق سہولتوں کی کمی اور کھیلوں وغیرہ کے لئے جگہوں کا نہ ہونا ہمارے ہاں معمول ہے۔ہم اپنے وسائل سے فوری طور پر جملہ کمیوں کی بیخ کنی نہیں کر سکتے، حالانکہ اس ضمن میں ماضی قریب میں بین الاقوامی اقتصادی اداروں نے بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہمارے ملک کو بھاری رقومات دی ہیں اور حکومت نے اس سلسلے میں کچھ پیشرفت بھی کی ہے، لیکن یہ فنڈزاس قدر قلیل تھے کہ ان سے سہولتیں دینے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا، اس پر مستزاد یہ کہ ہماری بیورو کریسی کی پلاننگ بھی اس قدر پائے کی نہیں تھی، جو اس طرف مثبت پیش رفت ہو سکتی۔

ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی اس میں طبقاتی اونچ نیچ کی موجودگی ہے۔اس نظام کے بطن سے جو تعلیم یافتہ طبقہ ابھرتا ہے، عملی زندگی میں وہ طبقاتی کشمکش ختم کرنے کی بجائے خود اسے پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ہمارے سسٹم میں کئی قسم کے نظام ہائے تعلیم پائے جاتے ہیں۔ اشرافیہ کے لئے تعلیمی اداروں کی علیحدہ موجودگی سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ان اداروں سے فارغ التحصیل طلباء معاشرے کے دیگر طبقات سے ممتاز شمار ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں بیک وقت کئی نصاب ہائے تعلیم مروج ہیں۔انگریزی اداروں کے شانہ بشانہ پرائیویٹ اکیڈیمیوں اور تدریسی سکول کی موجودگی سے کیا تعلیم کے اہم میدان میں ہم آہنگی لائی جا سکتی ہے اور کیا اس نظام سے کوئی قومی مقصد حاصل ہو سکتا ہے؟بیک وقت انگلش طرز تعلیم، اردو طریقہ تدریس، مدرسہ جاتی موجودہ ضروریات سے ناآشنا تعلیمی نظام اور کسی ایک نصابی قید سے مبرا پڑھائی سے گزر کر آنے والے طبقات میں قومی یکجہتی کی سوچ کیسے ابھر سکتی ہے؟کیا ماضی کی کسی حکومت نے اس بے مقصد ذریعہ تعلیم کی اصلاح کے لئے کوئی قدم اٹھایا؟

موجودہ نظام تعلیم کی قباحتوں پر مباحث تو بہت ہوئے، لیکن کیا کسی سرکار کو یہ توفیق ہوئی کہ صحیح سمت میں کوئی قدم اٹھایا جاتا ۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تعلیمی ترقی ہی اصل ترقی ہوتی ہے، جس سے کسی پُر ہجوم گروہ کو قومی تشخص نصیب ہوتا ہے اور وہ ایک قوم میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی اصلاح کا تصور اس وقت تک بے معنی ہوتا ہے، جب تک قوم زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو۔جدید معاشرتی زندگی کا تصور صرف تعلیم کے حصول کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں اصل ترقی اسی کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ہم اکثر اوقات پاکستان کے سلگتے ہوئے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ صرف یہی شعبہ ایسا ہے، جہاں کی گئی پیش رفت دوسرے شعبہ جات کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیمی شعبے میں ترقی ہے۔اگر ہم نے اپنے آپ کو دنیا کی دیگر اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا ہے تو تعلیمی نظام کی اصلاح کی ضرورت ناگزیر ہے۔اگر اس نظام کو قومی ضروریات کے ہم آہنگ کر دیں تو اس سے بڑھ کر کوئی قومی خدمت نہیں ہوگی۔ سوچنا یہ ہے کہ ہمارا نظام کتنا اصلاح طلب ہے، اس ضمن میں قومی میڈیا میں بہت مباحث ہو چکے ہیں۔ہمیں اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان کو ایسی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے،جس میں نظام کی یکسانیت ہو۔ہر فرد کو تعلیم کے برابر مواقع میسر ہونے چاہئیں اور سکول جانے کی عمر کے ہر بچے کو تعلیم دلوانے کی پابندی ہونی چاہیے۔(جاری ہے)

نظام کے اصلاح کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی ضرورت ہوگی، جس کا انتظام ملکی اور غیر ملکی وسائل سے ہو سکتا ہے۔تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرکے سکولوں کی حالت زار کو بہتر کیا جائے۔یہ سب کرنے کے لئے ایک تعلیمی کمیشن تشکیل دیا جائے جو تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے تجاویز تیار کرے۔ اس ضمن میں وسائل کے حصول سے لے کر پورے نظام کی از سر نو تشکیل تک کے سارے مراحل اسی کمیشن کے ذمے ہو۔حکومت کی رضا مندی حاصل کرکے یہ کمیشن نظام کی تصحیح کے لئے قوانین میں ترامیم تجویز کرے ،جس سے موجودہ سسٹم کی خامیوں اور قباحتوں کو دور کیا جائے۔اس ساری ایکسرسائز میں وسائل کی فراہمی سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ہمارے ماہرین معاشیات سرجور کر بیٹھیں اور وسائل مہیا کرنے کے ذرائع کی نشاندہی کرتی۔اس سے قبل ایک سادہ سی تجویز ،جس پر اتفاق رائے ہے ،وہ غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول ہے، جس کا اہتمام ہونا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی وصولی کا ایسا نظام نافذ کیا جائے کہ ہر استطاعت رکھنے والا شخص ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ہمارے سامنے ایشیاء میں ملائیشیا اور جاپان دو ایسی مثالیں ہیں جو مشعل راہ ہو سکتی ہیں۔

جاپان رقبے اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان جیسا ہی ملک ہے جو ابتدائی طور پر زرعی تھا، اس کی فی کس آمدنی اور تعلیمی خواندگی کی شرح ہم سے مختلف نہیں تھی، لیکن جاپانی قوم نے جلد ہی سمجھ لیا کہ قوم کی ناخواندگی دور کرکے ہی اسے بڑی قوم بنایا جا سکتا ہے۔ جاپانیوں نے اپنی زراعت کے شعبے کو جو کہ پاکستان کے مقابلے میں کمزور تر تھا، اس قدر ترقی دی کہ اس سے قومی آمدنی میں جو اضافہ ہوا، اسے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے استعمال کیا گیا۔ اپنے نظام تعلیم کو اس طرح استوار کیا کہ اس سے ایسا تعلیم یافتہ اور تکنیکی ماہرین کا طبقہ تیار کیا، جس نے جاپان کو جدید ترقی کی راہ پر ڈال دیا۔ آج جاپان کا شمار دنیا کے تیسرے بڑے صنعتی ملک کا درجہ حاصل ہے۔ ملائیشیا نے بھی اسی طرح اپنے نظام تدریس کی اصلاح کرکے انقلاب برپا کیا اور ایشیا کے ٹائیگر کا خطاب حاصل کیا۔ان مثالوں کو ہمیں اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہیے۔یاد رہے ملائیشیا نے پاکستان کے پانچ سالہ منصوبوں کی طرز پر پلاننگ کرکی بے مثال ترقی کی ہے، لیکن اس میں سب سے بڑا کمال ان کی تعلیمی نظام کی اصلاح ہے۔ہم ایسا کیوں نہ کر سکے؟ قیادت کے بحران نے ہمیں اندھیروں میں الجھائے رکھا،جس سے قومی وحدت اور یکجہتی کو نقصان کے ساتھ نظام تعلیم کے انحطاط میں بھی اضافہ ہوا۔آج بھی اگر ہم صرف اپنے تعلیمی سسٹم کی اصلاح کرلیں تو جلد ہی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہو سکتے ہیں، کیونکہ ٹیلنٹ سے بھرپور اس قوم کا کوئی دوسری قوم مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اقتصادی اہداف کے حصول کے لئے اپنی ضرورت کے مطابق نظام تعلیم کی تشکیل سے ہم سرخرو ہو سکتے ہیں، لیکن اس ترقی کے لئے ایک پلان تشکیل دینا پڑے گا۔صحت، انصاف کی فراہمی، بے ایمانی سے نجات، بے روزگاری میں کمی، دہشت گردی کی بیخ کنی، صنعتی ترقی کے لئے مناسب پلاننگ اور ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات درکار ہوں گی جو ہمارے اپنے تعلیم یافتہ افراد ہی انجام دے سکتے ہیں، کیونکہ باہر سے آکر ان مشکلات پر قابو پانے میں کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتے۔یہ اصلاحات اس وقت تک نافذ نہیں کی جا سکتیں، جب تک ہمارے قومی تعلیمی نظام سے یہ کام کرنے کے لئے افراد مہیا نہ ہوں گے۔جمہوری روایات کا فروغ جس کی سب سے زیادہ دہائی دی جاتی ہے، اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم خود ایسے افراد پیدا کریں گے جو ہمارے ان خوابوں کو تعبیر دے سکیں۔بیروزگاری کے عفریت کا مقابلہ بھی تعلیم عام کرکے ہی کیا جا سکتا ہے اور ایسی تعلیم جو ہماری اپنی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

ہمیں قیادت کے فقدان کا سامنا کئی دہائیوں سے درپیش ہے۔ یہ بحران اس وقت تک حل طلب رہے گا،جب تک ہم ہر شہری کے لئے تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرکے ایک پڑھی لکھی قوم نہیں بن جاتے۔ ہمیں جو چیلنج درپیش ہیں، ان کا مقابلہ ایک خواندہ قوم ہی کر سکتی ہے۔ہم نے بہت وقت ضائع کر لیا، اب اصلاح کا بیڑاہ اٹھا لینا چاہیے۔اگرچہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کمر کس لینی چاہیے اور اپنے لئے ایک صحیح رخ کا تعین کر لینا ضروری ہے۔ہمارے پاس نابغہ ء روزگار ماہرین تعلیم موجود ہیں جو اس ضمن میں اپنا قومی فرض پورا کر سکتے ہیں۔فوری اور دور رس اقدامات سے ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے۔اس ضمن میں قومی قیادت کا متحد ہونا بھی ضروری ہے، جس کا اس وقت فقدان نظر آ رہا ہے۔اگر اس فقدان پر قابو نہ پایا گیا تو وقت کا پہیہ اسی رفتار سے آگے بڑھتا جائے گا اور ہم اس لکیر کو پیٹتے رہیں گے ،جس کو کئی دہائیوں سے پیٹ رہے ہیں۔ہمیں طوطا مینا کی کہانیوں سے باہر نکل کر حقیقت اور عملی دنیا میں آنا پڑے گا، کیونکہ تعلیمی میدان میں اس وقت ہم دنیا سے کئی دہائیاں پیچھے ہیں، اگر ایسا نہ ہو سکا تو ہمارے پاس نہ کوئی طوطا رہے گا اور نہ ہی کوئی مینا، جس سے مزید کہانیاں جنم لے سکیں۔

مزید : کالم


loading...