پلٹ کر دیکھ ظالم تمنا ہم بھی رکھتے ہیں

پلٹ کر دیکھ ظالم تمنا ہم بھی رکھتے ہیں
پلٹ کر دیکھ ظالم تمنا ہم بھی رکھتے ہیں

  

پچھلے بیس سال سے مجھے بیشتر پاکستانی سیاستدانوں ‘ افسران بالا ‘ وکلا اور اشرافیہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا کچھ ایسے بھی ملے جو پاکستان میں گو ناگوں حالات کی وجہ سے مجبوراً اور کچھ معاشی بہتری کے لیے برطانیہ کو اپنا گھر بنانے پر مجبور ہوئے۔ مشاہدہ یہی بتلاتا ہے کہ پاکستان سے آئے ہوئے بیشتر لوگ پاکستان کے حکمرانوں کے بارے میں حکومت مخالف نظریات رکھتے ہیں تارکین وطن کے جذبات کو ابھارتے اور انہیں تقسیم کرتے ہیں اور جب واپس انہی کو موقع ملتا ہے تو وہ وہی کام کر گزرتے ہیں جن پر سالوں تنقید کرتے رہے 13بلین ڈالر بھیجنے والے تارکین وطن ان کے لیے ایک تولیے کی حیثیت سے زائد کچھ بھی نہیں اصلاحات ایک خواب تھیں ایک خواب ہیں اور ایک خواب ہی رہیں گی جب تک ہم اپنے قول و فعل کے تضاد پر قابو نہیں پاتے ہم منزل مراد تک نہیں پہنچ سکتے کل جنرل مشرف کو دیکھنے یا ملنے جانے پر 100یورو سے زائد کی ٹکٹ تھی جب عمران خان خیراتی ڈنر کرتے ہیں تو وہ بھی لگ بھگ اتنی ہی رقم کی ٹکٹ منہ دکھائی کے لیے غریب تارکین وطن سے بٹورتے ہیں اور تو اور وہ حکمران جن کے پاس پر تعیش محلات اور ہائی کمیشن جیسی عمارتیں ملاقاتوں کے لیے موجود ہیں وہ بھی عالیشان ہوٹلوں میں چائے کی پیالی پر ملاقات کو فوقیت دیتے ہیں جس کا بل اور بوجھ غریب عوام یا ایک مشقت کار پر پڑتا ہے جو کہ شاید اسکی سارے دن یا ہفتے کی کمائی کے برابر ہو۔

جب طاہر القادری جیسے انقلابی رہنما آنکھ کے علاج کے لیے بیرون ملک پدھارتے ہیں تو انقلاب پاکستان کے نعرے کھوکھلے ‘ اصلاحات بے معنی ‘ اور تبدیلی جیسی باتیں سہانے خواب جیسی محسوس ہوتی ہیں میں تو اشرافیہ کا اپنے ہی عوام سے سلوک دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہوں ایک دبنگ لیڈر جو کسی گورے وکیل کے سامنے منہ بٹور بٹور انگریزی بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہی گورا وکیل سائیکل پر آ کر 250پونڈ فی گھنٹہ وصول کر کے سادگی کا سبق سکھا کر یہ جا اور وہ جا ‘ کے مترادف اسکو کچھ نہیں سمجھتا اور اپنی قانونی فیس اور مشورے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا اس لیڈر کو وہی مشورہ بغیر فیس اگر پاکستانی نژاد وکیل دے تو اس سے چوتھی بیوی جیسا سلوک کرتے ہیں گھنٹوں بغیر معذرت ٹرین اسٹیشن پر انتظار کرواتے ہیں اور بعد میں اسے کوئی بڑا مسئلہ بھی نہیں سمجھتے یہی برائیوں کی جڑ ہے کہ ہم اپنی ذات کا احتساب کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں ہم آمریت کے ساتھی یا مخالف تو ہیں لیکن اندر کی آمریت کا علاج کر نے سے یا تو قاصر ہیں یا سرے سے تیار ہی نہیں ہیں میاں نواز شریف ایسا نہیں کرتے لیکن دوسرے لیڈران کو بھی ایسا کرنے سے روکنا چاہیے مجھے بھی ایسا ہی اتفاق گزشتہ دنوں پاکستان میں تارکین وطن کے لیے کی جانے والی قانون سازی کے دوران ہوا۔

پچھلے بیس سال کی قانونی تعلیم و تربیت اور تجربے سے یہی سیکھا ہے کہ جو کر سکو وہ کہو اور کرو اور جو نہ کر سکو اور جس کام میں تسلی بخش حوصلہ افزا نتائج اور گھر جا کے سکون نہ ملے وہ بیڑا جھوٹے سے بھی نہ اٹھاؤ پاکستان میں سیاستدانوں نے اپنی جماعتوں کو بیورو کریسی کے ہاں گروی رکھوا دیا ہے جس سے سیاسی سوچ آگہی اور جمہوریت کمزور ہو رہی ہے سیاسی عہدوں کو عوامی شخصیات میں زیادہ سمونے سے سول سوچ پنپنے کا ذریعہ اور سانچہ زنگ آلود ہو جاتا ہے افسران بالا جو کہ عوام کو جوا ب دہ نہیں ہوتے وہ کارکردگی سے آزاد عوامی فیصلوں کو دائروں میں گھماتے رہتے ہیں جس کا نقصان اس پارٹی ‘ سول سوچ اور معاشرے اور ان حکمرانوں کو ہوتا ہے جو بہرحال عوام کو جوابدہ ہیں عوامی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب وزیر اعلی اور پارٹی صدور پہلے اپنے آپ کو پارٹی کی مجلس عاملہ اور پھر الیکٹوریٹ کے سامنے جواب دہ بنائیں جب ایک وزیر پارٹی کے سامنے جواب دہ ہو گا تب ہی جا کے وہ عوام اور میڈیا کے سامنے جانے اور اپنا کیس و موقف پیش کرنے کی حقیقی طاقت حاصل کر سکے گا میں عوامی عہدوں پر قائم ہو کر پارٹی کے عہدوں سے چمٹے رہنے کے اصول کے صریحا خلاف ہوں جس سے جواب دہی ‘ آگہی ‘ اور نظر ثانی کے تمام مواقع زائل ہو جاتے ہیں۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت میں انکے بھائی کا بیوروکریسی پر بے پناہ انحصار اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے کہ انہوں نے عوامی آگہی اور جواب دہی کے عمل کو سست کر دیا ہے اور اس سے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہوئی اس سے صرف یہ فرق پڑا ہے کہ وزیر اعلی کو اب نہ سننے کی عادت ہی نہیں پڑی اور کیونکہ وہ خود ہی پنجاب کے مسلم لیگ کے صدر ہیں سو وہ خود ہی اپنے آپ کو جوابدہ ہیں اس لیے نظر ثانی ممکن بھی نہیں ہوتی اور شاید وہ نظر ثانی پر یقین ہی نہ رکھتے ہوں‘ وزیر اعظم پاکستان کو فی الفور عوامی عہدوں پر براجمان وزیر اعلی‘ وزرا‘ یا مشیروں سے وہ پارٹی عہدے واپس لینے چاہیے جن سے عوامی کارکردگی کے عمل کو جانچنے کی راہ میں رکاوٹیں درپیش ہوں‘ ایک مضبوط اور دوڑتی پارٹی ہی ایک بہتے پانی کی طرح صفائی کا عمل جاری اور برقرار رکھ سکتی ہے آج میں اس بات کو کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ اگر پارٹی مضبوط ہو گی تو کوئی آمر جمہوریت کے سنگھاسن پر نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا کیونکہ مضبوط پارٹی ہی ’’ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘کا نعرہ لگا سکتی ہے اگر پارٹی مضبوط نہ ہو تو بابو حضرات حکومت جانے پر نئی حکومت کی خوشنودی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور باقی وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں، کیونکہ صرف اصولی قانونی لوگ ہی ہیں جن کے پاس مسلم لیگ چھوڑنے اور دوسری پارٹی میں جانے کا جواز نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کو اپنی پارٹی کے سینئر عہدیداران کو اپنی مشینری کے ذریعے رسوا ہونے سے بچاناچاہیے کیونکہ وہی ان کا صحیح اثاثہ ہیں ‘ ذو الفقار کھوسہ ‘ اقبال جھگڑا ‘ اور سید غوث علی شاہ کی مثال سامنے ہے۔ عمران خان بھی سول نہیں تو فوجی بیوروکریسی پر انحصار کریں گے اگر انہوں نے اپنی پارٹی کو نہ بدلا اور بھٹو کی طرح جدید بنیادوں پر اپنی پارٹی استوار نہ کی تو تاریخ انہیں معاف نہیں کریگی ‘ بلاول بھٹو بھی نوجوان ہونے کے ناطے ایک بہتر آپشن پیش کریں گے پیپلز پارٹی اپنی میراث کی وجہ سے پسے ہوئے طبقات سے مکالمے پر مجبور ہے لیکن پانچ سال کی حکمرانی میں انہوں نے بھی پارٹی کے عہدوں کو سیاسی عہدوں میں الجھانے کی روش برقرار رکھی بلکہ اس پر عدالتی فیصلے بھی آئے انہوں نے اعتزاز احسن جیسے لوگوں سے فائدہ نہ اٹھایا اور اصلاحات لا سکنے کے ممکنہ مواقع کے باوجود کوئی معنی خیز کوشش نہ کی اور اندر کی بھوک ‘ سیاسی بھوک ‘ میں بدل کر پارٹی اور حکومت سکینڈلز کے ہاتھوں گروی رہی ‘ آخر میں بیرسٹر اعتزاز احسن کو بھی کہنا پڑا کہ اب نوجوان قیادت کو موقع دیں کہ وہ مستقبل کو محفوظ کرنے کی کوشش کرے اور آزمودہ لوگ پچھلی نشستوں پر رضا کارانہ طور پر تشریف لے جائیں ۔

آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ میں نے لندن میں ایک جارح مقرر کو یہ کہتے سنا کہ نوجوانوں کو منجھدار میں جمہوریت کو نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ کوشش جاری رکھنا چاہیے مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کیونکہ وہ ان تمام لوگوں سے مخاطب تھے، جو ان کے ہی 10سال سے ساتھی تھے جو جنرل مشرف کی آمریت میں ان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار تھے تو سوال یہ ابھرتا ہے کہ پلٹ کر دیکھ ظالم کہیں خرابی تم میں ہی تو نہیں کہ تو ہی اپنے راستے سے بھٹک گیا ہو سو پلٹ میری جان سفر ابھی باقی ہے اور منزل دور است ‘ شاعر کے اس شعرپر اجازت چاہوں گا کہ :

زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیں

دیار ہی بدل لیتے ہیں رستہ اسے کہنا

کچھ لوگ سفر کے لیے موزوں نہیں ہوتے

کچھ سفر گزرتے نہیں تنہا اسے کہنا

مزید :

کالم -