امریکہ اور ایران ایٹمی مذاکرات ، حتمی معاہدہ پر اتفاق نہ ہو سکا

امریکہ اور ایران ایٹمی مذاکرات ، حتمی معاہدہ پر اتفاق نہ ہو سکا

  

                          مسقط(ثناءنیوز)ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے طویل المدتی حل کے لیے تہران اورعالمی طاقتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا تازہ ترین دور سلطنت آف اومان کے دارالحکومت مسقط میں بے نتیجہ ختم ہو گیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر اور منگل کی درمیانی رات امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کی اعلیٰ مذاکرات کار کیتھرین ایشٹن سے ملاقات کی۔ بعد ازاں نائب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بات چیت میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔بیجنگ میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن یا ایپک سمٹ جاری ہے اور امریکی صدر باراک اوباما بھی اس سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔امریکا، برطانیہ، روس، چین، جرمنی اور فرانس پر مشتمل چھ عالمی طاقتوں کے پی فائیو پلس ون کہلانے والے گروپ اور ایران کے درمیان ان مذاکرات کا مقصد ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کا کوئی طویل المدتی حل تلاش کرنا ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ برس نومبر میں ایک عارضی چھ ماہ کی ڈیل طے پائی تھی، جس کی مدت میں بعد ازاں مزید چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی۔ اب اس عارضی ڈیل کی مدت چوبیس نومبر کوختم ہو رہی ہے اورفریقین کی کوشش ہے کہ اس سے قبل ہی کسی طویل المدتی ڈیل کوحتمی شکل دے دی جائے۔ایران اورچھ عالمی طاقتوں کے سینئر سفارت کاراٹھارہ تاچوبیس نومبریورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مل رہے ہیں تاکہ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی آخری کوشش کی جا سکے۔

مزید :

عالمی منظر -