چینی سرمایہ کاری پر بے چینی

چینی سرمایہ کاری پر بے چینی
چینی سرمایہ کاری پر بے چینی

  


عالمی طاغوت کو پاکستان کی خود انحصاری گوارا ہے نہ خود کفالت۔ ہم اپنے رہنماؤں کو لاکھ کوستے رہیں کہ وہ ڈلیور کرنے کے قابل نہیں، لیکن یہ سچ ہے کہ بڑی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ امریکہ اور اس کے حامیوں نے خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کے لئے کئی ریڈ لائنز طے کر رکھی ہیں۔ ایسی ہی ایک سرخ لکیر ایٹمی طاقت ہونے کے علانیہ اظہار سے متعلق بھی تھی۔ 1999ء میں بھارت کی جانب سے پے در پے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کے لئے صرف امریکہ ہی نہیں، بلکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ بھی خاموش رہنے کے حق میں رائے دے رہی تھی۔ بہرطور ایٹمی دھماکے ہو کر رہے۔ اس کے بعد جو ہوا تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ بھی جان لیا جائے کہ پاکستان جیسے ممالک کو مختلف حوالوں سے محتاج رکھنا عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔ معاملے کا سب سے نازک، لیکن انتہائی خطرناک پہلو یہ ہے کہ امریکی اثرات ہمارے ہاں تقریباً ہر شعبہ میں سرایت کر چکے ہیں۔ ایسے میں امریکہ کی ناراضگی مول لینے کا تصور ہی محال ہے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف اپنے حالیہ دورہ چین میں 42ارب ڈالر کے 19معاہدے کر کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ بجلی کے بحران کے مکمل خاتمے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ طے پانے والے معاہدے بجاطور پر اس نوعیت کے ہیں کہ اگر ان پر عمل درآمد ہو گیا تو اگلے چند سالوں کے دوران خوشحالی اور ترقی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اِسی لئے وزیراعظم نے ان معاہدوں کو ’’گیم چینجر‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ایک طرف حکومت پاکستان ہے جو ہر حوالے سے اطمینان ظاہر کر رہی ہے‘ دوسری جانب وہ حلقے ہیں جو شدید اضطراب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کی بے چینی چھپائے نہیں چھپتی۔ لگتا یوں ہے کہ ملک کے مخصوص حالات کے باعث دیگر معاملات کی طرح چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی حکومت کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوں گے۔ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا چینی فیصلہ اپنی نوعیت کے حوالے سے منفرد ہے۔ چین نے پہلے کبھی کسی دوسرے ملک میں اس طرح سے سرمایہ کاری نہیں کی۔ عالمی اقتصادی قوت کے طور پر چین نے اپنی پالیسی میں جو تبدیلی کی ہے وہ بین الاقوامی امور کے خودساختہ تھانیداروں کو کسی طور پر آسانی سے ہضم نہیں ہو سکتی۔ یہ بات پہلے ہی کہی جا رہی ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف احتجاجی جلسوں اور دھرنوں کے کئی محرکات میں سے ایک اہم محرک یہ بھی تھا کہ کسی طور پر چینی صدر کا دورہ پاکستان منسوخ کرا کے سرمایہ کاری رکوائی جائے۔ ایسا ممکن نہیں ہو سکا تو کیا اب وہ قوتیں اطمینان سے بیٹھ جائیں گی جو حکومت کو ہر صورت چینی سرمایہ کاری سے باز رکھنا چاہتی ہیں۔

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری رکوانے کے لئے مختلف حلقے دھرنوں وغیرہ کے اعلان سے کئی ہفتے قبل ہی متحرک ہو گئے تھے۔ پاکستانی انگریزی اخبار کے امریکہ میں مقیم ایڈیٹر نے اس حوالے سے کھل کر لکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں دراصل فراڈیوں کے ٹولے ہیں۔ بغیر یہ سوچے سمجھے کہ حکومت پاکستان اور چینی حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت کی نوعیت کیا ہے؟ مذکورہ ایڈیٹر نے بعض نجی پاکستانی کمپنیوں کے پرائیویٹ چینی کمپنیوں کے ساتھ معاملات کے حوالے سے پیش آنے والے اکادکا واقعات کا ذکر کرتے ہوئے چین پر جی بھر کر کیچڑ اچھالا۔ عام لوگوں کو اس وقت تو اس معاملے کی سمجھ نہیں آ رہی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گویا گرہیں کھلتی چلی گئیں۔ یہ ایڈیٹر صاحب وہی حضرت ہیں جنہوں نے 2013ء کے انتخابات کے فوری بعد ہی ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تجویز دی تھی، جس کو بعد میں عمران خان اور طاہرالقادری نے اپنا مطالبہ ظاہر کرا کے عملدرآمد کرانے کیلئے پورا زور لگایا۔ 2013ء کے انتخابی عمل کے حوالے سے مذکورہ ایڈیٹر نے بغیر کسی ثبوت کے دھاندلی‘ دھاندلی کا شور مچایا۔ ان کی بھرپور کوشش تھی کہ جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم سمیت الیکشن کمیشن کے تمام ارکان کی خوب مٹی پلید کی جائے۔ قادری اور کپتان نے اس حوالے سے بھی بھرپور پیروی کی۔ ایڈیٹر صاحب نے ایک موقع پر خود کو ’’شاہین صفت‘‘ ثابت کرنے کی کوشش میں دھمکی آمیز انداز میں یہ مشورہ بھی دیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام سمیت اکتوبر، نومبر میں ریٹائر ہونے والے تمام جرنیلوں کو توسیع دی جائے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ ایسا نہ ہوا تو بحران پیدا ہو گا۔ انہوں نے یہ انوکھی پیشگوئی بھی کی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے وسیع تر مفاد میں ان جرنیلوں کو توسیع نہ دی تو پھر نئے آنے والوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ایڈیٹر صاحب کا دعویٰ تھا کہ نئے آنے والے پرانے والوں کی نسبت زیادہ سختی سے پیش آئیں گے۔ امریکہ میں مقیم یہ صاحب اپنے افکار عالیہ کے لئے کہاں سے لائن لے رہے تھے ہمیں نہیں معلوم، لیکن اگر پاکستان میں واقعی کوئی مضبوط حکومت ہوتی تو تحقیقات کراتی کہ قادری اور کپتان نے انہی کے فرمودات پر لبیک کیوں کہا؟ ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کو اس حوالے سے کچھ اندازہ ہو، لیکن وہ یہ محسوس کرتی ہو کہ معاملہ کریدنے کی صورت میں خود اس کے پَر جل جائیں گے۔

بات ایک ایڈیٹر تک ہی محدود نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ کھلاڑیوں میں سے ایک نے تقریباً 6ماہ قبل دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں ایک تجویز پیش کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاری اگرچہ اہم ہے لیکن دیگر عالمی طاقتوں کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔ گوادر سے چین تک تجارتی راہداری کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ کی تشہیر کرنے کے بجائے سارے کا سارا منصوبہ ’’لوپروفائل‘‘ میں رکھا جائے۔ شرکاء کی اکثریت دم بخود رہ گئی کہ سیٹلائٹ کے اس دور میں کہ جہاں دوردراز لق دق صحرا میں ریت کے ذرات کی حرکت بھی نوٹ کر لی جاتی ہے وہاں اتنے بڑے منصوبے کو محض خبریں روک کر کیسے چھپایا جا سکتا ہے؟

اندرونی مشکلات اپنی جگہ، لیکن بیرونی مسائل بھی کسی طرح نظرانداز نہیں کئے جا سکتے۔ مشرقی تو مشرقی اب مغربی سرحدیں بھی غیرمحفوظ ہوتی جا رہی ہیں۔ امریکہ بھارت تعلقات مثالی نہج پر آ چکے ہیں۔ پاکستان کے خلاف بھارتی وزیراعظم کے بیان اور پھر اس کے حوالے سے امریکی توثیق کے لئے دونوں بیانات کا جائزہ لے کر حالات کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 12اگست کو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان پر درپردہ جنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بھارت بندوقوں کی گھن گرج نہیں‘ ترقی چاہتا ہے۔ مودی نے لداخ میں خطاب کے دوران پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت کے کنٹرول والے علاقوں میں مقامی شدت پسندوں کی پشت پناہی کر کے پراکسی وار یعنی درپردہ جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دراصل بھارت کے ساتھ باقاعدہ روایتی جنگ کی سکت نہیں رکھتا اسی لئے مسلح شدت پسندوں اور دراندازوں کی حمایت کر رہا ہے۔ 5نومبر کو امریکی محکمہ دفاع نے ایک نئی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان اب بھی بھارت اور افغانستان کے خلاف شدت پسند تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے اور یہ بات پورے خطے کے استحکام کے لئے خطرناک ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے امریکی کانگریس کے لئے ہر 6ماہ بعد جاری کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان ان پراکسی فورسز یا بالواسطہ لڑنے والی طاقتوں کا استعمال افغانستان میں اپنے گھٹتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے اور بھارت کی بہتر فوجی طاقت کے خلاف حکمت عملی کے طور پر کر رہا ہے۔ ان الفاظ پر پھر غور کیجئے کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو ہندوستان کی بہتر فوج کے خلاف حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بات بالکل صاف ہے کہ امریکی حکومت نے بھارتی وزیراعظم کے اس الزام کو سرکاری درجہ دیدیا کہ جسے ہم گیدڑ بھبکی‘ درفنطنی اور دیوانے کی بڑ کہہ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کی مخالفت ان دونوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ خطے کے بعض دوسرے ممالک بھی وقت پڑنے پر اپنا ’’حصہ‘‘ ضرور ڈالیں گے۔

محترم مجیدنظامی مرحوم کے وہ تاریخی الفاظ آج پھر یاد آ رہے ہیں جو انہوں نے 1999ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کے حوالے سے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ! اگر آپ نے دھماکے نہ کئے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی اور اگر دھماکے کر دیئے تو امریکہ آپ کا دھماکہ کر دے گا۔ وزیراعظم کا اب یہ کہنا ہے کہ اب انہوں نے اقتصادی دھماکہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اندرونی و بیرونی خطرات اس بار بھی سروں پر منڈلا رہے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کچھ نہ کر کے تاریخ میں گم ہو جانے سے کہیں بہتر ہے کہ انجام کی پروا کئے بغیر کچھ کر کے دکھایا جائے۔

مزید : کالم


loading...