بنگلہ دیش میں ظلم کا راج (1)

بنگلہ دیش میں ظلم کا راج (1)
بنگلہ دیش میں ظلم کا راج (1)

  


پاکستان کی تاریخ حادثات اور المیوں سے بھری پڑی ہے، ایک سے بڑھ کر ایک سازشیں ہوتی رہیں، 1958ء سے 1970ء تک محلاتی سازشیں جنم لیتی رہیں۔ یہ دور تھا جب پاکستان پر فوجی جنرل نے قبضہ کیا اورملک مارشل لاء کی گرفت میں آگیا۔ ایک کے بعد دوسرا مارشل لاء اقتدار پر قابض رہا ،عالمی استعمار کا کھیل درپردہ جاری رہا، ون یونٹ کی تشکیل سے محلاتی سازشوں کا آغاز ہوا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کو دو لخت کرنے کی سازش ون یونٹ کے وجود سے شروع ہوئی۔ مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش) اورمغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کو انتخابات کے حوالے سے مساوی قرار دے دیا گیا، چونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی، اس لئے ون یونٹ میں ان کو برابر تسلیم کیا گیا اور قومی اسمبلی میں تعداد برابر کردی گئی۔ چونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی اس لئے ون یونٹ کے فلسفے کے تحت گھناؤنی سازش کی گئی اور اس کی آبادی کے بڑے حجم کو تسلیم نہ کیا گیا، ایسا کیوں کیا گیا اس کی پشت پر پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کا خوف تھا اورفوجی بیورو کریسی بھی اس کھیل میں شریک تھی۔ اس فارمولے کے تحت تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ نصف فوج بنگالیوں اور نصف فوج مغربی پاکستان کی ہوتی ،افسر شاہی میں بھی اس فارمولے کو تسلیم کرنا چاہئے تھا ،لیکن ایسا نہیں ہوا ۔

اسی روز دن یونٹ کے خلاف مشرقی پاکستان، صوبہ بلوچستان، صوبہ سرحد، اور صوبہ سندھ کی تمام قوم پرست ، سیکولر ، لبرل پارٹیوں کا اتحاد ہوگیا ،عوامی پارٹی کی بنیاد رکھ دی گئی اور ون یونٹ کے خلاف عملی جدوجہد شروع ہوگئی، اس کے نتیجے میں جب جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کا تختہ الٹ دیا اور تمام سیاسی پارٹیوں ، طلبہ تنظیموں، دانشوروں سے ملاقات کے نتیجے میں ون یونٹ کو ختم کردیا گیا اور One man one vote کا فارمولہ تسلیم کرلیا گیا ۔جب عام انتخابات ہوئے تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی پارٹی عوامی لیگ نے 300 میں سے 160 عام نشستیں جیت لیں۔ مشرقی پاکستان میں (One man one vote) کے حوالے سے 162 نشستیں تھیں،جبکہ مغربی پاکستان میں 138 نشستیں تھیں، خواتین کی کل 13 نشستیں تھیں، ان میں سے 7 خواتین مشرقی پاکستان کی تھیں اور 6 مغربی پاکستان میں تھیں آبادی کا حجم مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے زیادہ تھا۔ 300 میں سے مشرقی پاکستان کی 169 نشستیں تھیں اورمغربی پاکستان کی خواتین کی نشستیں ملاکر 144 تھیں۔ 15 نشستوں کی برتری مشرقی پاکستان کو حاصل تھیں۔ یہ فرق اتنا واضح تھا کہ مغربی پاکستان کی بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کو خوفزدہ کردیا اور ملک کو دولخت کرنے کی خوفناک سازش تیار ہو گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا اور ملک دولخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی نے انتخاب میں حصہ لیا، لیکن کوئی نشست حاصل نہ کرسکی، جب ملک کو توڑنے کی سازشیں شروع ہوگئیں تو جماعت اسلامی نے مزاحمت کی اور کوشش کی کہ پاکستان برقرار رہ سکے، لیکن سازش مکمل ہوچکی تھی، اس لئے بھارت کی فوجی مداخلت اور بین الاقوامی سازشوں نے علیحدگی کے عمل کو تیز کردیا اور ملک تقسیم ہوگیا۔ عوامی لیگ کی حکومت قائم ہوگئی۔ شیخ مجیب الرحمان کے ہاتھ میں اقتدار آگیا اس کے بعد شیخ مجیب الرحمان کے خلاف فوجی بغاوت ہوگئی ،یوں شیخ مجیب الرحمان کو فوجیوں نے ان کے صدارتی محل میں ساتھیوں سمیت قتل کردیا۔ وہاں فوج اقتدار پر قابض ہوئی ،اس کے بعد کچھ سکون ہوا تو انتخابات ہوگئے۔ جماعت اسلامی نے حصہ لیا اورحکومت میں وزارتیں بھی حاصل کیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کی علیحدگی میں بھارت کا کردار بہت واضح تھا، اس لئے علیحدگی کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین تحریری معاہدہ ہوا۔ یوں بنگلہ دیش بھارت کی گرفت میں آگیا ۔اس کے بعد سے اس کی کوشش ہے کہ بنگلہ دیش کو بھارت کے زیر اثر رکھا جائے اور اسلامی تشخص کو موثر نہ ہونے دیا جائے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں ایک موثر قوت کی حیثیت سے موجود ہے ،اس لئے بھارت نواز شیخ حسینہ واجد جماعت اسلامی کی دشمنی پر اتر آئی ہے اور جماعت کے قائدین پر مقدمات قائم کئے گئے کینگرو کورٹس تشکیل دی گئیں اور اہم قائدین کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کو سزائے موت بھی سنادی گئی۔

سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان پروفیسر غلام اعظم کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور انہیں سزائے موت کا حکم سنایا گیا، بعد میں اس سزا کو 90سال کی عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔ پروفیسر غلام اعظم 23 اکتوبر کو جیل ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ یوں تاریخ کا ایک باب رقم ہوگیا۔ اب بھی کئی اہم قائدین جیل میں ہیں اور انہیں بھی سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے۔ پروفیسر غلام اعظم نے جیل جانے سے پہلے ایک خط تحریر کیا اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے حوالے کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ شیخ حسینہ انہیں پھانسی دے گی یا عمر قید دے گی۔ انہوں نے ایک خط تفصیل سے لکھا ، جس میں انہوں نے تمام اہم معاملات کو بیان کر دیا۔

پروفیسر صاحب کو 11 جنوری 2013ء کو گرفتار کیا گیا۔ ٹریبونل نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور حکومت نے ان کو جیل بھیج دیا، جماعت اسلامی کے قائد نے جیل ہی میں زندگی کے آخری لمحات گزارے اور موت کو لبیک کہا۔ بنگلہ دیش میں ظلم کی سیاہ رات کی حکمرانی ہے ،لیکن ہر ظالم کا انجام بہت ہی برا ہوتا ہے۔ خود شیخ مجیب الرحمان کو جب فوجیوں نے قتل کیا تو کئی دن تک ان کی لاش صدارتی محل میں پڑی رہی ، کوئی اٹھانے والا نہیں تھا۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...