سزا

سزا
سزا

  

علامہ اقبالؒ ایسی شخصیات جن معاشروں میں پیدا ہوتی ہیں اُن کے مستقبل کی ضامن بن جاتی ہیں۔ اقبال برصغیر کے مسلم سماج کا جواز بن کر سامنے آئے اور اُس کے مزاج کی تشکیل میں سب سے بڑا حصہ ڈال گئے۔ اُنہیں اُن کی استعداد پر سمجھنے کے بجائے سب نے اپنی استعداد پر سمجھنے کی کوشش کی۔ اقبال ہی نہیں کسی بھی بڑے آدمی کی تفہیم کا دائرہ اُس کی اپنی قامت سے جڑا ہوتا ہے۔ فصیح و بلیغ عربی زبان نے اُصول کے طور پر واضح کر دیاکہ :

ظن الرجال بموازینھم

( آدمیوں کو اُن کے ہی معیار پر جانچو)

اقبالؒ سے تعلق کی سب سے ادنیٰ شرط ہی یہ ہے کہ اُنہیں سمجھنے کی استعداد اُن کے اپنے معیار کے مطابق پیدا کی جائے۔ پھر چاہے اُن پر اعتراض ہی کیوں نہ کیا جائے۔علامہ اقبالؒ کسی بھی بڑے آدمی کی طرح ایک ایسی فکر کے حامل تھے، جو بنی بنائی اُن پر نہیں اُترتی، بلکہ جو مرحلہ وار اور زندگی بھر کشید کی جاتی ہے،لہٰذا اقبال کی فکر کو طبی فارمولوں کی طرح نہیں برتنا چاہئے۔ وہ برصغیر کی لخت لخت تہذیب اور ٹوٹ پھوٹ سے دوچار سماج میں زندگی کرتے رہے ہیں، لہٰذا اُن کے افکار سے بھی زیادہ اہم اُن کا مزاجِ فکراور منہاجِ فکرہے۔اس اُصولی ذہن کو بروئے کار لائے بغیر اقبال کو سمجھنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اِسے کوئی ’’ٹنڈا ‘‘فکر کی کثافت اور زبان کی غلاظت سے نہیں سمجھ سکتا، بلکہ اس کے لئے اقبال کی فکری رفعت اور زبان کی وہی ندرت درکار ہے، جو اقبال ؒ نے متعین کر دی ہے ۔مرحوم سلیم احمد نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’اقبال کی فکر کا کمال یہی ہے کہ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس پر سطحیت کا الزام کبھی نہیں لگا سکتے۔‘‘

یہ بالشتئے اور ٹنڈے اِسی لئے گوارا کرنے چاہئیں، کیونکہ علامہ اقبال ؒ کا معاشرتی تصور، وحدت کے جس اُصول پر ہے وہ ایک دوسرے سے مختلف رہ کربھی قائم رکھا جاسکتا ہے۔ ہم خیالی سے معاشرتی وحدت کا حصول دراصل خام خیالی ہے۔علامہ نے اپنے ایک مضمون میں اسلام کا سماجی حیثیت میں مطالعہ کیا ہے جس میں یہ تصور پوری طرح موجود ہے۔اقبالؒ رواداری کے تصور میں بھی اِسی اُصولِ وحدت کا پرچار کرتے ہیں۔نہروکے ایک خط کے جواب میں اُنہوں نے لکھا کہ ’’رواداری کی روح ذہنِ انسانی کے مختلف نقطہ ہائے نظر سے پیدا ہوتی ہے‘‘۔

علامہ کی دس بہترین نظموں میں شامل ’’ ساقی نامہ‘‘ میں بھی اُنہوں نے اِسی تصور کو بآندازِ دگر اجاگر کیا ہے۔

یہ عالم، یہ بت خانۂ شش جہات

اسی نے تراشا ہے یہ سومنات

پسند اس کو تکرار کی خو نہیں

کہ تُو مَیں نہیں اور مَیں تُو نہیں

من و تو سے ہے انجمن آفریں

مگر عینِ محفل میں خلوت نشیں

چمک اس کی بجلی میں، تارے میں ہے

یہ چاندی میں سونے میں،پارے میں ہے

اسی کے بیاباں ، اسی کے ببول

اسی کے ہیں کانٹے، اسی کے ہیں پھول

علامہ اقبال ؒ معاشرے کے اُسی تصورِ وحدت سے جڑے ہیں جو اسلام میں فتح مکہ کے بعد اپنے دشمنوں کوصرف امان دے کر قائم نہیں ہوتا بلکہ اُن کاسماج میں اُن کے اپنے عقائد کی روشنی میں کردار تسلیم کرکے قائم ہوتا ہے۔اقبالؒ اسی تصورِ وحدت کے قائل ہیں جو سماج میں ایک دوسرے سے مختلف ہو کر بھی باقی رکھا جاسکتا ہے۔چنانچہ ٹنڈے منڈے، نشئی وشئی، جھکی بکّی، اور جمعہ بدھوخیراتی جمعراتی شب راتی بھی اِسی سماج میں گوارا کئے جاسکتے ہیں۔

حضرتِ اقبال نے بندہ و خدا کے تعلق کے تمام ممکنات اور فرد و سماج کے تعلق کے تمام امکانات کو اپنے شعور کی اعلیٰ ترین سطح پر وفورِجمال کے امتزاج اور اظہارکے اعلیٰ ترین تجربے سے برت کر دکھایا ہے۔اس باب میں اقبال کو برصغیر کی پوری تاریخ میں ایک انفرادیت حاصل ہے۔اقبال بندگی کے عنوان سے عبدیت کو انسان کا ایک ایسا حال بنا نا چاہتے ہیں جس میں معبود بندے سے خود اُس کی رضا پوچھنے لگتا ہے۔یہی عبد جب فردبن کر سماج کا حصہ بنتا ہے تو دنیا کے کسی بھی سماج کا سب سے ذمہ دار شہری ہوتا ہے۔اقبال نے اس کے تمام امکانات پر غور کیا ہے۔ افلاطوں نے کہاتھا کہ ہر سماج فرد کا پھیلاؤ ہے اور ہر فرد سماج کا اختصار۔ علامہ نے فرد کے اندر ایک پورا معاشرہ بننے کی اسی اہلیت و صلاحیت کا پورا جائزہ لیا ہے۔ معلم احمد جاوید فرماتے ہیں کہ اُن کی کتاب ’’اسرارِخودی و رموزِ بیخودی‘‘ اِسی موضوع کی نغمگی ہے۔اقبال نے فرد و ملّت کے باہمی ربط کے بارے میں فرمایاکہ:

فرد تا اندر جماعت گم شود

قطرۂ وسعت طلب قلزم شود

(فرد ، جب جماعت کے اندر گم ہو جاتا ہے تو وسعت کے طالب قطرے کی مانند سمندر بن جاتا ہے۔)

اقبال، ارمغانِ حجاز میں بھی اِسی عنوان سے نغمہ سنج ہے کہ :

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارا

وہ معاشرے یقیناًخوش قسمت ہے، جہاں اقبال ایسے لوگ جنم لیتے ہیں مگر وہ معاشرے نہایت بدقسمت ہیں جہاں اقبال ایسے لوگ جنم لیں اور وہ منزلوں کی تلاش میں گردِ راہ ہو جائیں۔اقبال کو تھام کر یہ معاشرہ اپنے مستقبل کو دوام دے سکتا ہے، مگر جو سماج اقبال ایسے لوگوں کی پیدائش سے اپنے خوش قسمتی کا سامان کرسکتا ہے وہ سماج اقبال کے لئے بدقسمتی کا باعث بنا ہے۔مرحوم شورش کاشمیری نے ایک تمثیل میں اقبالؒ پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا تھا ۔تمثیل میں بغاوت کے استغاثے کے بعد عدالت اپنے فیصلے میں اقبال کے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے سزا سناتی ہے کہ ’’استغاثہ نے اس کے خلاف جرم ثابت کردیا ہے۔۔اب سوال صرف سزا کا ہے، ضروری نہیں کہ ہر حال میں سزا ہی دی جائے۔۔۔ہمارے۔ خیال میں ملزم کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ وہ مسلمان قوم میں پیدا ہوا ہے، جو بگولے کی طرح اُٹھتی ، آندھی کی طرح چھا جاتی،لیکن بعجلت تمام گرد کی طرح بیٹھ جاتی ہے،لہٰذا میں اقبال کے لئے یہی سزا کافی سمجھتا ہوں، کہ وہ ایک ایسے قافلے کا حدی خواں بن رہا ہے، جس کا سفر کھوٹا، منزل دور، رات اندھیری، چراغ مردہ اور ہمتیں یخ ہیں‘‘۔۔۔شورش کی تمثیل کا انگریز جج یہی سزا آج سناتا تو کہتا کہ ’’ ٹنڈے ‘‘کوٹی وی پر بولنے دو بس یہی سزا اقبال کے لئے کافی ہے۔

مزید :

کالم -