ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے باجود بلیک میں فروخت کا سلسلہ جاری

ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے باجود بلیک میں فروخت کا سلسلہ جاری

  

                         لاہور (سروے:۔ لیاقت کھرل) ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے باوجود بلیک میں فروخت کے سلسلہ میں ذرا بھر بھی کمی نہیں آ سکی ہے اور صارفین ایل پی جی 125 سے 130 روپے فی کلو لینے پر مجبور ہیں، جس پر صارفین اور دکانداروں کے درمیان توتکرار کے مناظر نے زور پکڑ رکھا ہے۔ ”پاکستان“ کے سروے میں شہری پھٹ پڑے ۔ اس موقع پر غوثیہ کالونی کینٹ کے رہائشی اصغر علی اور منور حسین نے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی سے قبل ایل پی جی 5 سے 10 روپے فی کلو مہنگی خرید رہے تھے اور اب ایل پی جی کی قیمتوں میں 10 روپے کمی کے باوجود بلیک میں فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں دکاندار ایل پی جی نہ ہونے کا کہہ کرٹال رہے ہیں اور اگر اصلی قیمت سے 5 اور 10 روپے فی کلو مہنگی فروخت کررہے ہیں۔ شہری غلام صابر، باﺅ اکبر علی، جاوید احمد اور ندیم احمد نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمت میں ڈیڑھ ماہ قبل بھی 10 سے 15 روپے فی کلو کمی کی گئی تھی لیکن اس کا فائدہ عام آدمی کو نہیں پہنچا۔ عام آدمی اب بھی ایل پی جی مہنگی خرید رہا ہے۔ خاتون عذرا بی بی، نواب بی بی، ممتاز بیگم اور اصغر علی رحمانی نے بتایا کہ ایک طرف گھروں میں سوئی گیس نہیں آ رہی تو دوسری جانب ایل پی جی نہیں مل رہی ہے، اس میں حکومت کو چاہیے کہ ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کے سلسلہ کی مکمل روک تھام کی جائے۔ خاتون سکینہ بی بی، نسیم بی بی اور شہزاد اختر نے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کے باوجود بلیک میں فروخت ایک زیادتی ہے اس میں اوگرا کو نوٹس لینا چاہیے اور ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کی مکمل روک تھام کرنی چاہیے۔ اس میں ضلعی حکومت اور اوگرا کو مل کر ٹیمیں بنانی چاہئیں تاکہ ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کے سلسلہ کا خاتمہ ہو سکے اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کی جانےوالی کمی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔ دوسری جانب ایل پی جی کے سروے کے دوران صارفین اور دکانداروں کے درمیان زائد قیمتوں کی وصولی پر توتکرار اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے اور اس موقع پر صارفین سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے اوگرام کے ترجمان نے ” پاکستان“ کو بتایا کہ ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کے سلسلہ کی مکمل روک تھام کی جا رہی ہے ۔ اس کے لئے ضلعی حکومت اور اوگرا کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔ اس میں باقاعدہ مقدمات بھی درج کروائے جائیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -