سولر سٹریٹ لائٹ خرابی، یہ گڈ گورننس ہے؟

سولر سٹریٹ لائٹ خرابی، یہ گڈ گورننس ہے؟

  

اچھی یا بہترین حکمرانی (گڈ گورننس) سے مراد یہ ہوتی ہے کہ سرکاری سطح پر ہونے والے کام نہ صرف شفاف ہوں، بلکہ تکمیل کے بعد اُن کی دیکھ بھال بھی ہو،اِسی طرح جتنے بھی سرکاری محکمے ہیں ان کی کارکردگی بہتر ہونا چاہئے، اس کے لئے ان محکموں کی نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے، بدقسمتی سے یہ سب کچھ نہیں ہوتا، یہاں محکموں کی کارکردگی پر سخت نگاہ نہیں رکھی جاتی اور انہی کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے دو مثالیں ہی کافی ہوں گی۔ ملک میں توانائی کا بحران کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور یہ بھی سامنے کی بات ہے کہ حکومت اس پر قابو پانے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی اور منصوبے بنا رہی ہے، ان میں بڑے پاور ہاؤسوں کی تنصیب زیر تجویز ہے تو سولر انرجی کی طرف بھی توجہ ہے۔

تھوڑا عرصہ ہوا جب فیصلہ کیا گیا کہ سٹریٹ لائٹ اور ٹریفک سگنلز کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے اور یوں بتدریج اس کا دائرہ کار بڑھا کر سرکاری دفاتر اور پھر دوسری سرکاری عمارتوں تک پھیلایا جائے۔ اس مقصد کے لئے ابتدا کامونکی سے ہوئی، پھر لاہور میں وحدت روڈ اور علامہ اقبال ٹاؤن کو شامل کرنے کے بعد جی ٹی روڈ کے متعدد قصبات (مریدکے وغیرہ) کو بھی اس میں شامل کیا گیا، کالا شاہ کاکو سے گوجرانوالہ اور اس کے آگے تک مرکزی سڑک پر سولر انرجی سٹریٹ لائٹ لگا دی گئی۔ لاہور میں وحدت روڈ اور علامہ اقبال ٹاؤن کی مرکزی سڑک کے کافی حصے پر سولر انرجی لگائی گئی تاکہ روشنی بھی ہو اور بچت بھی ہوتی رہے۔ یقیناًیہ مہنگے منصوبے ہیں کہ ابھی سولر انرجی سستی نہیں ہوئی۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تنصیب کے بعد دیکھ بھال کا کام نہیں ہوا اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ سولر انرجی کا جو نظام نصب کیا گیا وہ بھی معیاری نہیں تھا، چنانچہ اب نہ صرف وحدت روڈ اور علامہ قبال ٹاؤن کی سولر سٹریٹ بند پڑی ہیں ، بلکہ جی ٹی روڈ والی بھی خراب ہو چکی ہیں۔ کہیں کہیں کوئی اِکا دُکا چلتی ہے، جن حضرات نے یہ نصب کرائیں اور جو اس کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں ان سے کسی نے پوچھا تک نہیں۔ یہ یقینی امر ہے کہ اس سارے منصوبے پر لاکھوں سے آگے کروڑوں خرچ ہوئے ہوں گے،جو ضائع ہو گئے ہیں، اب یہ سلسلہ مزید نہیں بڑھایا جا رہا ہے۔

جی ٹی روڈ اور وحدت روڈ، علامہ اقبال ٹاؤن سے سرکاری حکام گزرتے ہیں، کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی، حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے نقائص تلاش کر کے ان کو درست کیا جائے کہ روشنی ہو تو مزید علاقوں تک پھیلانے کو دل بھی چاہے، جہاں تک ٹریفک سگنل کا تعطل ہے ،تو ایک چوک میں تجربہ ضرور کیا گیا، لیکن کامیابی سے اسے آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس پورے سلسلے کی صاف شفاف تحقیقات کرائی جائے، نقائص کے ذمہ دار حضرات کے خلاف عملی کارروائی ہو اور خراب لائٹوں کو جلد از جلد درست کیا جائے۔

مزید :

اداریہ -