افغان صدر اشرف غنی کا دورۂ پاکستان

افغان صدر اشرف غنی کا دورۂ پاکستان

  

وزیراعظم محمد نواز شریف کی دعوت پر افغان صدر اشرف غنی دو روزہ دورے پر پاکستان آ رہے ہیں ان کا یہ پہلا دورہ ہو گا اپنے قیام کے دوران صدر ممنون حسین کی طرف سے عشائیہ میں شرکت کے علاوہ وہ ان سے ملاقات کر کے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے بات چیت بھی کریں گے۔ صدر اشرف غنی اس دوران حکومتی ارکان کے علاوہ سیاسی زعماء سے بھی ملاقات کر کے تبادلہ خیال کریں گے۔ اشرف غنی کے لئے پاکستان نیا نہیں، تاہم افغانستان کا صدر منتخب ہو جانے کے بعد ان کی آمد اپنے طور پر اہمیت رکھتی ہے۔ابھی ان کا حتمی پروگرام جاری نہیں ہوا تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ وہ یہاں وزیراعظم محمد نواز شریف سے بھی ملیں اور خطے کی صورت حال کے حوالے سے بات کریں۔وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز پچھلے دِنوں کابل گئے اور ان کی ملاقات صدر اشرف غنی کے علاوہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ہوئی تھی اور انہوں نے ہر دو رہنماؤں کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی جو اُن کی طرف سے قبول کر لی گئی تھی۔

اس وقت خطے کی جو صورت حال ہے اور افغانستان کی وجہ سے پاکستان جن حالات سے دوچار ہے ان میں پاک افغان تعلقات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔اتحادی فوجیوں کی واپسی کے بعد تو افغانستان کے لئے پاکستان اور پاکستان کے لئے افغانستان کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔ پاکستان اور افغانستان دین، تاریخ اور ثقافت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں حتیٰ کہ کئی قبیلے اور خاندان پاک افغان سرحد کے آر پار رہائش پذیر ہیں۔ یوں دونوں ممالک کے عوامی تعلقات مثالی ہونا چاہئیں، لیکن دشمن کی ریشہ دوانیوں کے باعث غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں، دونوں ممالک کی اہم شخصیات کے دوروں اور باہم مذاکرات سے یہ سب دور ہو سکتی ہیں، اس لئے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ہم بھی افغان صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ان کا دورہ دونوں ملکوں کے لئے باعث برکت ہو۔

مزید :

اداریہ -